Try Free

Quaid-e-Azam’s Vision: Pakistan End Interest by March 2027? — Muhammad Muneer Ahmad — OMJ Podcast

Orya Maqbool Jan August 14, 2026 1h 11m 10,193 words
▶ Watch original video

About this transcript: This is a full AI-generated transcript of Quaid-e-Azam’s Vision: Pakistan End Interest by March 2027? — Muhammad Muneer Ahmad — OMJ Podcast from Orya Maqbool Jan, published August 14, 2026. The transcript contains 10,193 words with timestamps and was generated using Whisper AI.

"جب کبھی اکنومکس کا ذکر ہو کیا اسلامی بینکنگ نے اصل بینکنگ کو روکنے کے راستے میں سب سے بڑا روڑا نہیں ہے یہ سب سے بڑا علمیہ ہے کہ جو بینکاری سود ہے نا اس کا خمیر مغربی تہذیب سے اٹھائے وہ ذر جو بینک کریٹ کرتے ہیں وہ بینکوں کو بھی نہیں پتا اور نہ بینک اس کو کیلکولیٹ کر سکتے ہیں یہ ایسا گورک دھندہ ہے اس"

[00:00:00] جناب محمد ملی: جب کبھی اکنومکس کا ذکر ہو کیا اسلامی بینکنگ نے اصل بینکنگ کو روکنے کے راستے میں سب سے بڑا روڑا نہیں ہے یہ سب سے بڑا علمیہ ہے کہ جو بینکاری سود ہے نا اس کا خمیر مغربی تہذیب سے اٹھائے وہ ذر جو بینک کریٹ کرتے ہیں وہ بینکوں کو بھی نہیں پتا اور نہ بینک اس کو کیلکولیٹ کر سکتے ہیں یہ ایسا گورک دھندہ ہے اس کی بینکروں کو بھی سمجھ نہیں آتی [00:00:37] Speaker 2: انہیزہ سترہ میں جو کیمرزم تھا وہاں اس کے بینک تھا سیکیورزہ بتا دیجئے کہ اس میں سٹیکچر کیا تھا اور اس کے اندر سود کیوں نہیں تھا [00:00:45] جناب محمد ملی: لوجیکل بات ہے ہر بینکنگ سسٹم اپنے ایکنومک سسٹم سے نکلتا ہے کسی ملک میں سود کا محافظ کون ہے اس ملک کا مرکزی بینک سود کے بغیر نہیں کریں گے تو کبھی بھی سود کا خاتمہ نہیں ہوگا یہ جو بینکوں کا سود ہے یہ سب سے زیادہ خطرناک ہے اور اس کا خاتمہ انتہائی ضروری ہے سود کے بارے میں قانون نہیں ہے جب یہ بینچ مارک آویلیبل ہو جائے گا مارچ دوہزار ستائی سے سٹیٹ بینک سے سود کا خاتمہ ہو جائے گا موسیقا [00:01:23] Speaker ?: موسیقا موسیقا [00:01:33] Speaker 3: موسیقا موسیقا موسیقا موسیقا [00:01:53] Speaker 2: موسیقا موسیقا آج چودہ اگست ہے یوم آزادی اور آج آپ نے کاجازم حمد لی جناح کی یہ تقریر سنی یہ ان کی آخری تقریر ہے شکم جولائی انیس سو اٹھالیس کو انہوں نے سٹیٹ بینک کا افتا کرتے ہوئے یہ تقریر کی تھی اور انہوں نے اسلامی نظام معیشت کا فیتہ کٹا تھا نہ صرف یہ ایک سٹیٹ بینک کا افتا کیا تھا بلکہ میں ان کے الفاظ آپ کے سامنے دھوراتا جاتا ہوں اور ساتھ ترجمہ باس لوگ شاید سنجھیں کہ میں ترجمہ میں کہیں خلطی کر دیا یا ڈنڈی مار دیا کیونکہ اس ملک میں الزام لگانا بہت آسان ہے اور وہ بھی خائد عظم کی ذات پر خائد عظم فرماتے ہیں میں آپ کے تحقیقی ادارے کے کام کو بغور دیکھوں گا کہ کس طرح سماجی اور ساتھ زندگی کے اسلامی نظریات کے مطابق بینکاری کا نظام تیار کیا جاتا ہے بات جہاں اسلام کے نظام کے مطابق بینکنگ سسٹم کو بنانے کے نہیں اس کے بعد قائد عظم ایک مغربی نظام کے اتنے بڑے ناقت کے طور پر اُبھرتے ہیں کہ شاید علامہ اقبال کا پورا کلام جو ہے اس کا نچور اس کے اندر آ جاتا ہے کسی عالم دین میں بھی شاید اس وقت اتنی جرت شاید نہیں تھی جتنی اس نعیف و نظار انسان میں تھی آپ کہتے ہیں مغرب کے اقسادی نظام نے انسانیت کے لیے تقریباً ناقابل حل مسائل پیدا کر دی ہیں اور ہم میں سے بہت سے لوگوں کو لگتا ہے کہ صرف کوئی موجتہ ہی اسے آفت سے بچا سکتا ہے جس کا سامنا آج دنیا کو ہے یہ انسانوں کے درمیان انصاف کرنے اور دنیا سے جگڑوں کو ختم کرنے میں ناکام رہا ہے اس کے برعکس گزشتہ نصف صدی میں ہونے والی دو عالمی جنگوں کا یہ بڑی حد تک ذمہ دار ہے قائد عظم کے اس دنیا سے پہنچی ہے کہ پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم جو ہے یہ بینکاروں نے شروع کی تھی اور بینکاروں کی سودھ خور تو حوث ہے اس نے اس جنگ کو آغاز کیا تھا پھر قائد عظم کہتے ہیں بیشتہ نگید عظیم کیا تھا بیشتہ نگید عظیم کیا تھا بیشتہ نگید عظیم کیا تھا بیشتہ نگید عظیم کیا تھا بیشتہ نگید عظیم کیا تھا بیشتہ نگید عظیم کیا تھا بیشتہ نگید عظیم کیا تھا بیشتہ نگید عظیم کیا تھا بیشتہ نگید عظیم کیا تھا بیشتہ نگید عظیم کیا تھا بیشتہ نگید عظیم کیا تھا بیشتہ نگید عظیم کیا تھا بیشتہ نگید عظیم کیا تھا بیشتہ نگید عظیم کیا تھا بیشتہ نگید عظیم کیا تھا بیشتہ نگید عظیم کیا تھا بیشتہ نگید عظیم کیا تھا بیشتہ نگید عظیم کیا تھا بیشتہ نگید عظیم کیا تھا بیشتہ نگید عظیم کیا تھا بیشتہ نگید عظیم کیا تھا بیشتہ نگید عظیم کیا تھا آپ فرماتے ہیں مغربی دنیا مشینی اور سنتی ترقی کے فوائد کے باوجود اس وقت تاریخ کی سب سے بری حالت میں ہے مغرب کے اکسادی نظام اور نظریوں کو اپنانے سے ہمیں ایک خوش اور مطمن قوم بننے کے اپنے مقصد میں بالکل مدد نہیں ملے گی ہمیں اپنی قسمت اپنے طریقے سے بنانی ہوگی اور دنیا کے سامنے ایک ایسا اکسادی نظام پیش کرنا ہوگا جو انسانی مساوات اور سماجی انصاف کے سچے اسلامی تصور پر مبنی ہو اس طرح ہم بطور مسلمان اپنے مشن کو پورا کریں گے اور انسانیت کو امن کا وہ پیغام دیں گے جو اسے بچا سکتا ہے اور بنی نو انسان کی فلا خوشی اور خوشحالی کو یقینی بنا سکتا ہے اس کے بعد کا اجازم ملیل ہوئے اور پھر وہ زیارت چلے گئے اور اس دنیا سے رخصت ہو گئے لیکن ان کا فرمان پوری قوم کے لیے آج بھی زندہ و چاویت ہے کا اجازم کی روحانی سطح اور روحانی مرتبے کی بات ہے کہ کا اجازم نے کہا تھا کہ میں آپ کی ریسرچ اورگنیزیشن یا تحقیقی ادارے کے کام کو خور سے دیکھوں گا میرے ساتھ ایک ایسی شخصیت ہے کہ جو اسی تحقیقی ادارے سے وابستہ رہی ہے اور اس نے گزشتہ تک بن بیس سال کے اندر اپنے کام سے وہ انقلاب برتا کیا ہے کہ اس وقت ان کی کتابیں دنیا کے اندر اسلام کے اقتصادی نظام اور بینکنگ نظام کو پیش کرنے میں پیش پیش ہیں انہوں نے جب مدینہ اکنامکس لکھی تھی تو آپ حیران ہوں گے کہ شاید اس کا جواب بڑے بڑے میشدانوں کے پاس نہیں تھا اس کے بعد بہت سارے وہ کام کرتے رہے ہیں پہستہ دنوں ان کا مضمون ترجمان القرآن میں چھپا تھا سود کا خاتمہ مجوزہ متبادل نظام آج ہمارے ساتھ موجود ہیں جناب محمد ملی رحمہ سر السلام علیکم سر سر میں آپ کا محتقت اور آپ کے کام کا دھیوانہ اور آپ نے جو کام کر دیا ہے اور جس طرح کام کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ آپ کو اس کا مزید عجل کرے [00:07:50] جناب محمد ملی: آمین [00:07:51] Speaker 2: یقیناً قائد آدم نے ریسرچ اور اربنیزیشن کے بارے میں گفتو کی تھی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی اس دعا کو قبولیت بخشی جیسے آپ جیسے آتنے [00:07:59] جناب محمد ملی: اللہ کا شکر ہے پہلی بات تجھے ہے [00:08:02] Speaker 2: لمبی لمبی رکافٹ ہوئے میں نہیں پڑھنا چاہتا آج سیونٹی نائن سال ہو گئے ہیں یہ قائد آدم کا فرمان ہمارے سامنے آئے اٹھتر سال اٹھتر سال جس وقت یہ نظام آیا تھا جس قائد آدم میں فرمان آیا تھا اس وقت دنیا کے اندر دو واضح نظام موجود واضح نظام ایک طرف انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ تھا جس کے ہم غلام ہیں انٹرنیشنل مانیٹری سسٹم تھا جو دیا گیا تھا بٹن بٹ سے اور دوسری طرف کامنیسٹ ریشیا تھا جس کے اندر سود کا نظام موجود نہیں تھا اور آدھی دنیا پر اکنانے کر کیا ہم اس وقت اس کو اپنے لیے مشارعہ رہا نہیں بنا سکتے تھے [00:08:43] جناب محمد ملی: یہ سب سے بڑا علمیہ ہے کہ آپ نے ذکر کیا نا وہ ریسرٹ ڈپارٹمنٹ ان فیکٹ جی اس سے پہلے سپیچ ہے زہد حسین صاحب کی [00:08:55] Speaker 2: جو پہلے گورنر تھے جی [00:08:57] جناب محمد ملی: انہیں جناس صاحب کو بتایا تھا کہ یہ جو سینٹر بینک ہے یہ کوئی عام سینٹر بینک نہیں ہے کیونکہ ہر ملک کا ایک سینٹر بینک ہوتا ہے انہیں کہا یہ جو سینٹر بینک ہے یہ ایک نیا سینٹر بینک ہے کیونکہ اس میں ہم جو مغرب کی پولیسیز ہیں اس کو ہم اسلامی رنگ میں لے کر آئیں گے اور انہوں نے ایک اور چیز کہی تھی کہ جو ہمارے ملک کے اکانومسٹ ہیں جو سکولرز ہیں جو بینکرز ہیں ان کے لیے بڑا ایک مشکل ٹاسک ہوگا کہ وہ مل کر بیٹھے اور ایک نظام وضع کر کے دے جو مغرب کے معاشی نظام سے مختلف ہو اور اسلامی نظام سے ہم آئیں یہ باتیں جناہ صاحب نے جواب میں کہیں ہیں کہ میں بڑی خوشی سے بڑی توجہ سے لگ بھی لائے گا [00:09:53] Speaker 2: فلمتی تقریر لگ رہی ہے [00:09:55] جناب محمد ملی: فلمتی تقریر ہے کہ میں آپ کے اس ریسرٹ ڈپارٹمنٹ شعبہ تحقیق کے کام کو بڑے غور سے دیکھوں گا جو وہ یہ کام کریں گے اور مجھے شکر ہے کہ مجھے اس ڈپارٹمنٹ میں کام کرنے کا موقع ملا اور جو آپ نے یہ بات کی ہے کیونکہ جب جناہ صاحب نے یہ بات کی تھی ہمیں اپنے مقدر کو اپنے انداز میں سوارنا ہے اور ایک ایسا نظام دینا ہے جو اسلام کے جو مساوات اور عدل کے اصول ہیں ان پر قائم ہو میرے نزدیک جب جناہ صاحب نے فرس جولائی نانٹی فورٹی ایٹ کو یہ فیصلہ دیا تھا آپ نے یہ فیصلہ دے دیا کہ مغربی نظام ہمارے مسائل کا حال نہیں ہے بلکہ وہ خود تباہ ہو رہا ہے اور اسے کوئی موجزہ ہی بچا سکتا ہے اس وقت چاہیے تھا کہ جو ہماری یونیورسٹیز کے اکانومسٹ اور ہمارے مذہبی سکالر وہ جناہ صاحب کے اس پیغام کو اپنا ٹاپ ایجنڈا بنا لیتے جو یونیورسٹی کے اکانومسٹ تھے وہ ایکنومکس کے سلیبس میں یہ ایجنڈا شامل کرتے [00:11:06] Speaker 2: ہم نے اس کے مطابق اپنے اکانومی کو بنانا ہے [00:11:08] جناب محمد ملی: اور دوسرا جو مذہبی سکالر تھے وہ اپنے تبلیوی بودھ رہا ہے [00:11:12] Speaker 2: مذہبی سکالر کے پاس میں اب بھی آتا ہوں کیونکہ پہلے ذرا وہ نہیں ہوا نہیں مذہبی سکالر میں ذرا سب بحث کر لیتے ہیں پہلے سب بحث کر لیتے ہیں کہ مذہبی سکالر نے ایک توفہ پیش کیا [00:11:22] جناب محمد ملی: جی جی [00:11:23] Speaker 2: اس مملکت خدادات پاکستانی بلکہ پوری دنیا کو اور توفہ بنا تھا بہرین میں [00:11:29] جناب محمد ملی: جی [00:11:30] Speaker 2: گورے تھے اس توفے کو بنانے والے اور وہ تھا اسلامک بینکنگ ٹھیک آپ بینک میں رہے ہیں آج اس پورے کے پورے اسلامک بینکنگ کی بسات مفتی تک اسمانی کے اپنے ایک فتلے سے اُلٹ گئی ہے اسلامک بینکنگ ساری بینکنگ دنیا کی جو ہے وہ چلتی ہے فریکشنل ریزرف پہ میں دنیا کو لوگوں کو سمجھا دوں کہ میں آپ پنچ چھے لوگ اور دس لوگ مل کے پچاس کروڑ روپیا ایک بینک میں جمع کراتے ہیں ٹھیک ہے اور ایک اور آدمی آپ چونکہ میں عام آدمی کے لیے ماشاءاللہ آپ کے سامنے میں مفتدی کی حصیت ہے ایک اور آدمی آتا کہتا ہے مجھے دس کروڑ کا کرزہ دے دو وہ اس کو دس کروڑ کا ایک آگز دیتے ہیں کہ یہ بھائی تم کرزہ لے لو لیکن نہ میرے ایک آنٹ سے پیسے کٹتے ہیں نہ آپ کے آنٹ سے کٹتے ہیں نہ باقی دس لوگوں کے آنٹ سے پیسے کٹتے ہیں وہ کرزہ ایک پیسہ کریئٹ ہو جاتا ہے یہ کریئشن آف منی ہے مفتی تکی عثمانی صاحب نے کرپٹو کرنسی کے اوپر فتوہ دیا ہے کہ ہم اس کو خطن حلال نہیں قرار دیتے کیونکہ یہ کاغذی لیندین ہے اس کی کوئی حصیت نہیں ہے ٹھیک ہے اور جب پوچھا جاتا ہے علماء اکرام سے کہ پھر یہ جو پیسہ بن رہا ہے کہ اگر آپ کے پاس دس روپے ہیں تو ایک روپے ہے تو دس روپے کا کرز دے سکتے ہیں یہ حلال کہتے ہیں یہ سرکار نے اجازت دی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ سرکار اگر شراب بیچنے کی اجازت دے تو وہ ٹھیک ہے سٹی فائیڈ اور میں اگر شراب کا کار کھانا لگاؤں تو حرام [00:13:04] جناب محمد ملی: یہ بڑا بنیادی پوائنٹ ہے میں اس کو اپنے انداز میں [00:13:09] Speaker 2: سوال بجائیں کیا اسلامی بینکنگ نے اصل بینکنگ کو روکنے کے راستے میں سب سے بڑا روڑا نہیں ہے جی جی [00:13:22] جناب محمد ملی: ایسا ہے کہ ملک میں پہلے تو سٹیٹ بینک نوٹ چھاپتا ہے ٹھیک اسے ہم کہتے ہیں سوورن منی سوورن منی سٹیٹ بینک نے نوٹ چھاپا اور مختلے لوگوں کو دے دیا گورنمنٹ کو دے دیا جب سٹیٹ بینک نوٹ چھاپتا ہے تو وہ نوٹ سٹیٹ بینک کی لائیبیلٹی ہوتا ہے [00:13:43] Speaker 2: لکھا ہوتا ہے اس کے پر [00:13:44] جناب محمد ملی: لکھا ہوتا ہے کیونکہ لکھا ہوتا ہے [00:13:45] Speaker 2: اندر طلب کو ادا کرے گا ادا کروں گا [00:13:47] جناب محمد ملی: وہ بھی ایک فراڈ ہے اچھا نہیں وہ تو جو چل دا نا لکھا ہوتا ہے لائیبیلٹی ہوتا ہے سٹیٹ بینک کی اور اس کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے [00:13:56] Speaker 2: ٹھیک ہے [00:13:56] جناب محمد ملی: کتنا نوٹ چھاپا کچھ نوٹ خراب ہو گئے وہ نکال لیے سرکولیشن سے نئے نوٹ چھاپ دیئے وہ اصلی کریشن ہے اس کے بعد جو بینکنگ کا نظام ہے یہ ایسا نظام ہے کہ سٹیٹ بینک کے ساتھ ساتھ بینک بھی کریئٹ کرتے ہیں کریڈٹ جیسے ہم بکس میں کہتے ہیں کریشن آف کریڈٹ اور جو بات آپ نے کی ہے کہ وہ جو پیسہ کم نہیں ہوتا بڑھتا ہے [00:14:23] Speaker 2: کچھ [00:14:24] جناب محمد ملی: مزے کی بات ہے کہ جو سٹیٹ بینک کا نوٹ چھاپا ہوا اس کا تو ریکارڈ ہے جو بینکوں نے کریئٹ کیا اچھا جو ہم پڑھاتے ہیں جو نیسٹری میں کہ ہر ایوری نیو ڈیپازٹ برینکس نیو کریڈٹ اور ایوری نیو کریڈٹ برینکس نیو ڈیپازٹ یہ ایک ایسا کھیل ہے اصل جو بینکوں کا پرابلم ہے وہ یہ سسٹم ہے اچھا ریل سیکٹر میں حقیقی شعبہ میں کسی اور بسنس کو یہ چیز حاصل نہیں [00:14:55] Speaker 2: آپ اندازہ کریں کہ میں نے پانچ پانچ ہزار کرزہ لیا وہ پانچ ہزار نیا پیسہ میں نے پھر اس پانچ ہزار کو کسی دوسرے بینک میں جمع کر رہا وہ پھر پانچ ہزار بن گئے [00:15:06] جناب محمد ملی: اچھا پھر اور دیکھیں میں نے کرز لیا کیونکہ میں نے میں پچھلے اس پر پانچ سال سے کام کر رہا تھا پہلے کام کیا تھا اسلامی اکنومکس پھر مجھے کچھ لوگوں نے کہا کہ منی صاحب سود پر کام کریں اللہ کا شکر ہے مجھے سمجھ دی میں نے اس پر پانچ سال سے کام کیا جو نئی وک آپ کو بھی دی ہے اچھا اس میں یہ ہے کہ اصل سٹرنگت کیا ہے بینکنگ سسٹم کی یعنی وہ ذر جو بینک کرتے ہیں وہ بینکوں کو بھی نہیں پتا [00:15:36] Speaker 2: کتنا ہے [00:15:37] جناب محمد ملی: کتنا ہے اور نہ بینک اس کو کیلکولیٹ کر سکتے ہیں اب دیکھیں چیز دیکھیں لوجیکل چیز ہے کہ جو جو پیسہ زر سٹیٹ بینک نے کریئٹ کیا اس کا تو ریکاون ہے اب جو پیسہ کمرشل بینک نے کریئٹ کیا اس کا پتا ہی نہیں کیسے اب میں نے ایک بینک سے لون لیا لازمی ہے کہ پہلے میرا اس بینک میں اکاؤنٹ مجھے بینک نے پچاس لاکھ لون دے دیا اب مجھے انہیں کیش نہیں دیا اب مجھے کاغل دے دیا آپ کی اکاؤنٹ میں جمع ہو گیا اچھا اب میں نے لیا تو لون ہے میرے اکاؤنٹ نے پہلے ایک لاکھ رویا وہ میرا اپنا ہے اب میں نے پچاس لاکھ لیا [00:16:15] Speaker 2: میرے [00:16:16] جناب محمد ملی: اکاؤنٹ میں میرا ایسٹ اکاؤنٹ لاکھ ہو گیا میرا اکاؤنٹ اکاؤنٹ لاکھ ہو گیا [00:16:20] Speaker 2: اچھا [00:16:23] جناب محمد ملی: بینک کا پچاس لاکھ اپنا ہو گیا اچھا اب اور سنیں ہر کمرشل بینک ویکلی بیسس پر پاکستان میں کمرشل بینک کو ریپورٹ کرتے ہیں کہ ہمارے اتنے ڈیپاؤزٹ ہیں اتنے لونز ہیں اب دیکھیں میں نے تو کرزہ لیا تھا اب میں نے ویڈرا نہیں کیا وہ میرے اکاؤنٹ میں جمع ہیں اچھا اب کمرشل بینک ہے وہ سٹیٹ بینک کو میرا ڈیپاؤزٹ شو کر رہے اور اسی ڈیٹا پر منٹری پالیسی بننی یہ ایسا گورک دھندہ ہے اس کی بینکروں کو بھی سمجھ نہیں آتی اور سب سے بڑی وجہ پرابلم یہ ہے ایک میں اور چیز آپ سے ارز کرتا ہوں کہ جو بینکاری سود ہے نا اس کا خمیر مغربی تہذیب سے اٹھائے کیونکہ مشرق میں انڈیا میں افریقہ میں سود تھا لیکن وہ فرد واحد کا اور یہ بات تھی وہ اپنے پیسے سے کرتے تھے جو خاص بات ہے جو خاص فرق ہے کہ جو مہاجر تھے منی لینڈر تھے یورپ میں بھی تھے مندروی صدی تک ارب میں تھے افریقہ میں تھے وہ اپنے پیسے سے کام کرتے تھے اب جب یہ یورپ میں جو سود بینکوں کی شکل میں آیا جو سب سے بڑا فرق آیا لوگوں کے پیسے سے دونوں طرف ادھر سود پہلے سود لینا دینا اور اس پر سود پھر آگے تو یہ جو لالچ یہ [00:17:57] Speaker 2: دی کہ پہلے جو بندہ جس پر دو تین لاکھ روپ آتا تو سود دیتا اب اس نے پوری [00:18:05] جناب محمد ملی: اکانوی آ جاتی ہے بینک کے پاس اور ان کا اپنا پیسہ نہیں [00:18:13] Speaker 2: اور [00:18:14] جناب محمد ملی: یہی سب سے پرابلم ہے اور میں بات کر اپنی ختم کرتا ہوں انہیس سو انہتیس میں گریٹ ڈیپریشن آیا آپ جانتے آپ نے پڑھائی وہاں کے اکانوی اچھا اس سے پہلے بڑی ترقی ہوئی پورا جو فرس ملوار ختم ہوتی ہے انہیس سو اٹھارہ میں اس کے بعد بہت ترقی ہوئی اور ترقی کا زور تھا امریکہ میں اسے وہ کہتے ہیں کہ روڑنگ ٹوینٹی انہیس سو بیس کی جو دہائی ہے اس کو کہتے ہیں روڑنگ ٹوینٹی لیکن انہیس سو انہیس میں بہران اور انہیس ایک کمال کی بات انہیس دھونڈی اس کی وجہ سود ہے انہیس صرف تحقیق نہیں کی پر انہیس کہا کہ اگر ہمیں اپنے بینکنگ سسٹم کو مستقبل کے پرابلم سے بچانا ہے تو ہم کیا کریں سود کی بجائے نفع نقصان پر بینکنگ کریں یہ تاریخ کا حصہ ہے اور دو سو اکونمسٹ شکاگو یونیورسٹی اور یل یونیورسٹی کے دو سو اکونمسٹ نے سائن کر کے میمورینڈم بھیجا سینٹ کو سینٹ کو کہ ختم کیا جائے ختم کیوں نہیں ہوا جو آپ نے پہلے آغاز کیا کہ اس وقت ایک جو سرد جنگ تھی سرمایہ داری کی اور اشتراکیت کی [00:19:46] Speaker 2: جاری تھی [00:19:47] جناب محمد ملی: اور اشتراکیت انیس سترام میں سرمایہ داری سے آگے جا رہا تھا اصل حل کیا ہے اصل حل یہ ہے کہ یہ جو بینکنگ سسٹم کا سٹرکچر ہے جس میں ڈیپازٹ نیا لون لے لے لے کے آ رہا جب تک یہ نہیں ختم کریں گے نہیں ختم ہوگا اور اس مضمون میں جو میں یہی بات [00:20:16] Speaker 2: کی انیز سترہ میں جو کیمیریزم تھا اس کے بینک تھا سکیورزہ بتا دیجئے کا اس میں سترکچر کیا تھا اور اس کے اندر سوت کیوں نہیں تھا [00:20:25] جناب محمد ملی: میں یہ بات کرتا ہوں کہ ایک لوجیکل بات ہے ہر بینکنگ سسٹم اپنے ایکنومک سسٹم سے نکلتا ہے سرمایہ داری تھا سرمایہ داری کب آیا سترہ سو چھیتر میں اس وقت بینکنگ شروع تھی انڈسٹریل ایولوشن جب ہوا ہے اس کے بعد لوٹ مار کر کے دنیا کو سرمایہ داری بہاشی نظام ہے سود والی بینکنگ اس کا بینکنگ سسٹم ہے جب رشیہ میں کیونکہ جو کارل مارکس تھا وہ سود کے سخت خلاف تھا سارے اکانومیس کینز بھی خلاف تھا سارے اکانومیس اچھا وہ یہ کہتا تھا کہ یہ جو بینکوں میں پیسہ رکھنا ہے یہ جالی سرمایہ ہے تو جب رشیہ میں یہ نظام آیا یہ اتنی زیادہ پرانی بات نہیں انیسو تارہ انیسو نوے میں ختم ہو اکانومیس تو انہوں نے جو کہ معاشی تظام نیا آگیا تو انہوں نے اپنا بینکنگ سسٹم بھی نیا دیا نیا کیا تھا سٹیٹ بینک رشیہ کا سینٹر بینک بھی تھا اس کی مونیٹری پولیسی سود کے بغیر تھی اس کا کمرشل بینک بھی تھے ان کی جو لینڈنگ تھی وہ سود کے بغیر تھی اب جو ہم نے جو ہم سے غلطیاں ہوئی ہیں جب ہم نے اس کا آغاز کیا ہمارے سامنے دو مسالے تھی نائنٹی تھرٹی تری کا شکاؤگو پلین اسے کہتے ہیں شکاؤگو پلین کیونکہ شکاؤگو جنورسٹی نے دیا ہمارے سامنے دو مسالے تھی شکاؤگو اکانومیسٹ نے جناز صاحب کی بات کو نہیں مانا اپنی یونیورسٹی سلیبس نہیں بدلائے علماء حضرات نے اپنے تبلیغی پرگرام کو اپنے جمعے کے ختمے میں اس کا ذکر نہیں کیا جب سٹیٹ بینک نے اغاز کیا نائنٹی ایٹی فائیب میں اس پر کام شروع ہو گیا تھا نائنٹی سیونٹی ایٹ میں رشیہ کا انظام ٹھیک ٹاک جا رہا تھا بہت [00:22:39] Speaker 2: زیادہ دوسری سپر پاور بن گئی [00:22:41] جناب محمد ملی: اور ہم نے ان سے کوئی بینی فٹ نہیں کیا جو ہمارے سامنے مسالے تھی سود کے بغیر مونٹری پولیسی جو میرا سارا زور ہے کیونکہ میں نے جو کام کیا ہے اس شبہ تحقیق میں جس کا جناہ صاحب نے بھی ذکر کیا تھا اس میں میرا ڈسک ورک تھا مونٹری پولیسی [00:23:00] Speaker 2: سٹیٹ بینک میں [00:23:01] جناب محمد ملی: اور جو اللہ کا شکر ہے اس نے سمجھ دی ہے کہ کسی ملک میں سود کا محافظ کون ہے اس ملک کا مرکزی بینک پاکستان کا سٹیٹ بینک اور پاکستان جب تک ہم اس مونٹری پولیسی کو سود کے بغیر نہیں کریں گے تو کبھی بھی سود کا خاتمہ نہیں ہوگا اور ایک اچھی اور چیز آئی ہے کہ جون دو ہزار چھ بیس میں گورنمنٹ نے ایک دستاویز ریلیس جی جو [00:23:31] Speaker ?: جو [00:23:31] جناب محمد ملی: امینمنٹ آئی ہے [00:23:33] Speaker 2: جس میں انہوں نے پھر کہہ دیا ہے کہ اٹھائیس تک [00:23:38] جناب محمد ملی: اچھا اس میں انہوں نے ایک بات کی پہلی دفعہ پاکستان کی ہسٹری میں شریعت کے مطابق مونٹری پولیسی یہ میں دو ہزار بیس [00:23:46] Speaker 2: ایک میں آپ کو بتاؤ آج گزر چک ہے اتنا عرصہ آج ایک روپے کا کام نہیں ہو رہا ایک منٹ ایک کاغذ نہیں اس کے اوپر کسی میں جانتا ہوں بیروکریسی کوئی کام نہیں ہو رہا جیسے نائنٹین سیونٹی تری کے کانسٹوشن میں لکھا گیا تھا نا جی کہ ہمیں ربا کو ختم کرنا ہے دس سال جلد جلد پھر دس سال بھی آگئے تھا دس سال [00:24:09] جناب محمد ملی: بھی آگئے [00:24:10] Speaker 2: ٹھیک ہے لیکن وہ دس سال آئے تھے نہ وہ جلد جلد آیا ظلف کار لے بھٹو نے لکھ لیا مولویوں کے کہنے کے پر اور مولویوں نے کوئی کام نہیں کیا اب اصل مسئلہ آتے ہیں اس بات کے پر ایک تو میں سوال آپ سے صرف ایک ہے کہ اگر صرف پاکستان کے اندر بنی کریشنز ہے یعنی نور شاپنا وہ صرف اور صرف راست کی ذمہ داری ہو جائے بجائے اس کے کہ سونے چاندی میں تو بعد میں جائیں اسی کو لے لیں جو رسول اللہ کا اصل تھا تو کیا آپ کا بینکنگ سسٹم اسلام کے مطابق نہیں ہو جاتا اور آپ کا سارے کردہ ختم ہو جائے جو آپ نے لیا بینک کو دیکھ [00:24:53] جناب محمد ملی: اس وقت جو بینکنگ سیکٹر ہے بینکنگ سیکٹر کا کام کیا ہوتا ہے بینکنگ سروس ہم کہتے ہے بینکنگ سروس جو حقیقی شعبہ ہے وہاں اگری کلچر ہے جو وہاں ایکٹیوٹی ہونی ہے اس کے لیے پیسہ چاہیے اور جو مالیاتی شعبہ جو بینکنگ سیکٹر ہوتا ہے وہ عوام سے پیسہ لے کے حقیقی شعبے کو تاکہ ملک میں ترقی ہو جی ڈی پی ہو اب دیکھیں جو بات آپ نے کی ہے جب گول سٹینڈر تھا تو [00:25:27] Speaker 2: جو [00:25:30] جناب محمد ملی: سکھے ایشو کرتا تھا کون گورنمنٹ [00:25:34] Speaker 2: اور [00:25:35] جناب محمد ملی: گورنمنٹ پر ایک پابندی تھی جتنا سونا ہوگا اتنے ہی سکھے ایشو کر سکتے ہیں اب جو یہ ساری چیزیں بیعث کر کے جو چیزیں کرپ اپ ہوئی ہے اگر منی کریشن صرف سٹیٹ بینک کے پاس ہو پاکستان میں سٹیٹ بینک کے پاس ہو تو بہت بڑا مسئلہ ختم ہو جائے گا ایک اور بات ہے اب جو میں نے اپنا موڈل دیا [00:26:01] Speaker 2: اب تو یہ نا کہ گیرہ رب کا جہاز خریج نا ہے اور ہم نے بینک سے کہ نا گیرہ رب دو بینک کے پاس پیسے ہے بینک نے چٹھ دی لیکن قوم کرزہ [00:26:11] جناب محمد ملی: اب دیکھے نا کہ اب جب ہم یہ اس طرف آئیں گے اب اس وقت ستاون خرب روپیہ ڈومیسٹک ڈیٹ ہے جی فورن ڈیٹ تو بات ستاون ہزار ارب روپیہ ستاون ہزار ارب روپیہ بینکوں سے لیا بینکوں سے لیا میرے اور آپ کے پیسے اب میں نے کہا نا کہ بینکوں کا کام کیا ہوتا ہے کہ وہ ایک سروس دیں اپنا تھوڑا سا پرافٹ لے لیں سٹیٹ بینک کیوں بنا تھا سینٹر بینک کیوں بنا تھا ایسا بینک ہو جو نفع نہ کمائے لیکن نفع کمانے والے بینکوں کو کنٹرول کریں آپ سن کے حیران ہوں گے کہ سٹیٹ بینک کا دوہزار چوبیس کا پرافٹ چوتی سو ارب روپیہ سباناللہ ہوا ہی نہیں اچھا میزان بینک کا پرافٹ ایک سو ارب روپیہ حبی بینک پچانوے ارب روپیہ یو بی ایل اسی ارب روپیہ یہ تو ان فیکٹ یہ جو یہ جو پرافٹ تھا یہ بسنس سیکٹر کا تھا جب یہ کمرشل بینک لون دیں گے بسنس سیکٹر کو اس سے کیا ہوگا روزگار بڑے گا سیکٹری لگے گی اب کیا ہو رہا ہے اور یہ ہمیں آئی ایم ایف نے ایسا چکر دیا ہو ہے آئی ایم ایف کہتا ہے کہ گورنمنٹ سٹیٹ بینک سے لون نہیں لے گی گورنمنٹ گورنمنٹ کمرشل بینک سے لون لے گی اچھا ہو کیا رہا ہے اب کمرشل بینک لون لیتے ہیں پہلے سٹیٹ بینک سے کیونکہ کمرشل بینک کمرشل بینک سٹیٹ بینک سے پانچ سو ملین چھ سو ملین چھ سو ملین صرف اب کیا ہو رہا ہے نو خرب نو خرب نو خرب دس خرب وہ ایک [00:28:05] Speaker 2: ارب بھی نہیں [00:28:06] جناب محمد ملی: تھی ایک ارب اپن بارکیٹ آپ اپریشن سٹیٹ بینک اپن بارکیٹ اپریشن کرتا ہے آٹھ ارب آٹھ خرب کے چھ خرب ہو کہہ رہا ہے کہ کمرشل بینک سٹیٹ بینک سے لون لے کے گورنمنٹ کو لون دیتے ہیں اور اس پر پرافٹ کماتے ہیں اگر یہ بینک اگر یہ قرضہ گورنمنٹ نے سٹیٹ بینک سے لیا ہوتا جو پہلے طریقہ تھا تو اب جو ہم آٹھ ہزار ارب ہر سال بینکوں کو سود کی مد میں دیتے ہیں یہ زیرو ہوتا اور یہ گورنمنٹ [00:28:41] Speaker 2: بینکوں کی چونتیس چونسی منزلہ مارتے ہیں جو اقبال کہتا نا کہ گرجوں سے بھی اونچی ہیں بینکوں کی [00:28:48] جناب محمد ملی: امارات تو اب سر جو جب یہ بینک بنے تھے نا علام اقبال نے ایک شیر کہا تھا فارسی میں اب یہ جو فکر چالاگ یہ سب پر آیا ہو گیا ہے اب دیکھیں نا کہ پاکستان میں جو پرائیویٹ سیکٹر ہے وہ ختم ہو رہے ان کا بیسنس بند ہو رہے [00:29:13] Speaker 2: اور [00:29:14] جناب محمد ملی: بینکوں کا پرافٹ کتنا ہے سو ارب اور دیکھیں ان کی سیلریز دیکھیں آج جو پاکستان میں ہر کمرشل بینک کا پریزیڈنٹ ہے اس کی تنہا دو کرون پر مہانہ سے زیادہ ہے صرف تنہا بونس باقی چیزیں اس کے علاوہ ہے کردے مردے یہ [00:29:34] Speaker 2: پلات پلات افسوس [00:29:36] جناب محمد ملی: کی بات یہ ہے جو میزان بینک کی سیلریز سرکچر ہے زیادہ ہے ایک خبر چھپی تھی جو میزان کیونکہ سٹیٹ بینک کی ایک ریکوائرمنٹ ہے جو بیلنس شیٹ چھپتی نا اس میزان ہم کہتے ہیں کہ آپ نے بتانا ہوتا ہے کہ اس سال آپ کے سی او ہے اس کے سارے پرکس کتنے ہیں [00:30:00] Speaker 2: ٹھیک ہے [00:30:01] جناب محمد ملی: پچپن کرون روپیہ ایک سال کی میزان بینک کے چیف اور شریع ایڈوائزر کی کتنی فیس ہوگی اس کے حساب سے کسی پچاس لاک جو [00:30:13] Speaker 2: جو سود کو حلال کر رہتے ہیں [00:30:15] جناب محمد ملی: میں ایک چیز اور کروں گا کہ یہ کام مگرم میں کیا تھا ہم نے یہ کام دے دیا علمہ حضرات کے علمہ حضرات نے ایک کوشش کی ہے آپ کو ایک سٹرکچر دے دیا اب دیکھیں جو جو میں نے کہنا جب میں نے اس پر کام کیا تو بہت سی چیزیں میرے سامنے آئی مثلا جو ہمارا اکانومسٹ ہے اس کو کوئی خیال نہیں اس کے دل میں کوئی جوش نہیں آپ دیکھو نا میں اور آپ بیٹھیں [00:30:53] Speaker 2: نہیں کوئی نہیں [00:30:53] جناب محمد ملی: کیوں کر رہے ہیں کہ ہمارا یہ ہمارا دیم ہے آپ دیکھیں کسی اکانومسٹ وہ جو بین سٹریم اکانومسٹ ہے وہ کسی گورمنٹ میں وزیر خزانہ ہوتا ہے اس نے کبھی اسلامی معاشی نظام کی بات کی نہیں نہیں اب میں چونکہ یہ پانچ سال سے یہ یونیورسٹی میں جا رہا ہوں میں کہتا ہوں یہ مدینہ اکنومکس ہے اس میں آج کے مسائل کا حل ہے اچھا ہمارے یونیورسٹی میں جو اکنومکس ہے وہ کونسی ہے سرمایہ دارے کی ہم سعود کو کر رہے ہیں [00:31:28] Speaker 2: دیکھیں دادہ کریں وہ جو ریڈنڈنٹ ہوگی ہے نا کورس بکس وہ پڑھائی جا رہی [00:31:33] Speaker ?: کورس [00:31:33] Speaker 2: دمانے کی اچھا [00:31:34] جناب محمد ملی: ایک لیکچر بنایا سیملسن فلانا اکرام دالک پال سیملسن پال سیملسن کل دمانے کی اکرام بنا رہے ایک لیکچر میرے اللہ کا شکر ہے چیزیں میرے زیان میں آتی لیکچر کہ جب کبھی اکنومکس کا ذکر ہو وی شوڈ ریزر از پیشل پلیس فار محمد صلی اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ بکوز ان سیون سینچری ہی گیو مارکیٹ بیس اکنومکس سیسٹم سبا اللہ اچھا اب اس سے مرزین میں بات آئی میں ایک لیکچر مرایا کہ محمد سلی اللہ اللہ اللہ اللہ [00:32:22] Speaker ?: اللہ [00:32:22] جناب محمد ملی: سلام فرس فری مارکیٹ اکنومس اچھا میں نے علامہ اکبال سیکھ چیز سیکھ ہے مشکل سے مشکل کام پکڑو اچھا میں نے کہا میں شروع کہاں سے کرو ای شوڈ سٹارٹ فرم لمس اب آپ جانتے ہیں لمس میں نے وہاں ان کو بھیجا کہ میرا لیکچر ہے وہ نے کہاں یہ نہیں لیکچر اس پر بات نہیں ہوئی میں نے کہاں یہ لیکچر آپ سیکھ سیکھ [00:32:48] Speaker ?: بات [00:32:48] جناب محمد ملی: ہم لگایا اس لگایا اس نے لکھ دیں میں لکھ دیا میں وہاں گیا اللہ شکر ہے میں وہاں گیا اور اوریا صاحب میں ایک گھنٹہ بات کی اکنومکس کی سبان میں اللہ کا شکر ہے سب سے سنا [00:33:07] Speaker 2: وہاں ہیں نظریہ رکھنے والے تمور صاحب جائیں [00:33:11] جناب محمد ملی: وہ تو سوشلسٹ ہے میں ان سے بڑا کہا ہے کہ میرے ساتھ رابطہ کریں [00:33:19] Speaker 2: کیونکہ [00:33:20] جناب محمد ملی: وہ کہتے ہیں علمیہ کیا ہے ہمارا اکانومس یہ کہتا ہے کہ اسلام کا کوئی معاشی نظام نہیں اور روٹی مسئیبت ہے غامدی صاحب جو غامدی صاحب مسئلہ کر رہے ہیں وہ اسلام کو اتنا چھوٹا کر رہے ہیں غامدی صاحب تو میں [00:33:38] Speaker 2: اس چیز کا قائل ہو گیا میں ان کو سر جانتا ہوں نائنٹین سیمٹی ٹو سے ہمارے سامنے اٹھے پھر غامدی صاحب بسیکلی میں ان کے نیت پہ شکری کروگا لیکن وہ اتنے جسے کہتے ہیں میوپک ہو چکے ہیں ویسٹن تھوٹ سے اتنے متاثر ہو چکے ہوئے ہیں کہ ان کا دماغ جو ہے وہ ایک چھوٹا سا دماغ رہ گیا کہ جو گھر کے دروازے کے اندر سے انسان اس بار نہیں جانا چیز ختم وہ کہتے ہیں بینک رحمت [00:34:06] جناب محمد ملی: ہیں میری جو فرد واحد کا سود تھا وہ کم خطرناک [00:34:12] Speaker 2: تھا یہ سب سے [00:34:16] جناب محمد ملی: زیادہ خطرناک ہے اور اس کا خاتمہ انتہائی ضروری ہے [00:34:20] Speaker 2: ایسے تو نہیں اللہ ارب من اللہ ورسول اللہ ورسول کی جان جو ایک انڈویجول سے کرنی تھی اللہ کو پتا تک کیا [00:34:27] جناب محمد ملی: اب [00:34:34] Speaker 2: میں [00:34:36] جناب محمد ملی: وہ لیکچر دیا لوگوں نے سنا اور اس کو مانا پھر میں نے وہ لیکچر دیا لہور سکول آف اگنامکس پھر آئی ونٹ جی سی یو گورنمنٹ کالوج یونیورسٹی پنجاب یونیورسٹی یو ایم ٹی اللہ کا شکر ہے اچھا [00:34:49] Speaker 2: اب یہ اس میں سب سے بڑی بات جائے کہ ایک تو آپ نے وہ سسٹم میں آپ کے لئے میں ایک بڑی مزدار بات چونکہ آپ نے اس پہ کام کیا میں نے کتاب پڑی ہے میں نے یہ نا ایک گنزیا ڈاکومنٹ ہیں یہ چار لاکھ ڈاکومنٹ تھے یہ بیسیکلی ہیبریو میں اور مسلمانوں کے منسکرس میں ہیں یہ جو بھی جائے اس میں نکال سکتا ہے اس گنزیا ڈاکومنٹ میں یہ ایکنومک سسٹم یہ مصر میں جو ان کی جنورسٹی ہے نا کائیرو جنورسٹی جو پہلے ایک زمانے میں وہ ہوتی تھی ایوبی دور میں سلاود ایوبی کے دور میں ایک ہمارے ہاں سود سرمایدار کو دیا جاتا ہے مکان ہے [00:35:42] جناب محمد ملی: یار [00:35:43] Speaker 2: بیلوں کی جوڑی ہے غریب آدمی کا سود ہوتا تھا اگر وہ ایک تہائی سود ایک تہائی معاف کر دے جاتا پھر وہ کہتے کہ سوسائیٹی جو تھی یہ مسلم سوسائیٹی ہے وہ آخری دور کی رسول اللہ کی جو آپ نے مدینہ پرامس کمال تھی کہ اس کا جو اپنا کوئی شخص دیوالیا ہو جاتا تو وہاں امیر آدمی اس کے ذمہ ہوتا تھا اس کا قرض ادا کرنا پھر ایک اہم بات ایک روپیہ بھی ایسا نہیں رکھا جاتا تھا جو خالی نہیں [00:36:21] جناب محمد ملی: یہ [00:36:22] Speaker 2: نہیں پانچ کروڑ کا پلوٹ لے پانچ کروڑ کی کبر بنا دی جائے مٹی میں کر دی تو یہ وہ سسٹم جو اگر کو کہتا نا کہ اکانومی نہیں چل رہی تھی تو اس وقت یہ گینزیا کے ڈاکومنٹس ہیں اور اس کے ساتھ ایک اور اس اسرائیل کے اندر میں گیا ہوں جب گیا تو میں نے دیکھا کہ گینزیا یعنی قائد عظم نے یکم جولائی کو کہا چودہ مئی کو اسرائیل وجود میں آیا اسرائیل کے اندر ان کا ایک پورا ایک سسٹم ہے جو میں آپ کے سامنے رکھوں میں ہران ہو جائیں گے ان کا ہے ان کا پورا سسٹم ہے وہ بھی کمرشل کہتے ہیں وہ کہتے جہاں the use of attached کہتے ہیں the legal framework recipient loans and deposit as joint business investment or profit and loss partnership and technically circumventing the biblical prohibition against the usery اسرائیل یہودی سود خور یہودی بار غالیا ہم کہتے ہیں یہ کر دیا وہ کر دیا اچھا اس کے بات کہتے ہیں strict adherent looking for islamic sharia combined river free banking will not find certified islamic یہ اس کا نکال ہے پھر اس کے بعد وہ یہ میں اس کی آپ کو بتاؤں یہ گینزیا کی ڈاکومنٹ کو اس نے man پورا اس میں اس وقت can capital investors provide funds to active agent half of the capital was treated as an interest free loan and the other half was treated as the trust investment where profits and losses were shared subhanallah یہ ہماری اسلام کہ آدھا جو تھا وہ investment ہوتی تھی آدھا جب loan ہوتا تھا بغیر interest کے common purse یہ کہتا ہے partners physically اور nationally pooled their money into a shared fund aligning mutual risk یہ بات کر رہے ہیں ہم اس زمانے [00:38:40] جناب محمد ملی: رسک [00:38:42] Speaker 2: instead of executing lenders borrower transaction یہ تو اس لئے کوئی لبی بیعت ہو جائے گی اسرائیل نے بنا لیا جن کے بارے ہم کہا جاتا ہے 1694 میں ایک سسٹم بنائے تھا کیونکہ ان کی ایک فق تالمود کہتی ہے کہ یہودی یہودی سے سود نہیں لے سکتا لیکن غیر یہودی سے لے سکتا اس لئے انہوں نے یہ بلا ہمارے گلے میں [00:39:06] جناب محمد ملی: ڈال [00:39:08] Speaker 2: جی اچھا اب یہ بتائیے گا آپ نے بڑا کام کیا اب یہ بتائیے گا کہ ہمارے لیے یہ جو آپ نے متبادل بات کیا متبادل پہ متفق ہیں کوئیتنا مشکل نہیں کیسے شروع کیا جائے [00:39:21] جناب محمد ملی: میں سے پہلے جو آپ نے بات کی نا [00:39:25] Speaker 2: اچھا [00:39:25] جناب محمد ملی: جو سول بی صدی میں پندری صدی کے بعد جو بینکوں کا سود یورپ میں آیا [00:39:34] Speaker 2: ٹھیک چورانوے بینک آف انگلام کے چارٹر آیا نا [00:39:36] جناب محمد ملی: یہ وہ دور تھا جب آٹومن اپائر اپنی پیک پر تھی یورپ میں کوئی ان کا مقابل نہیں تھا ہم اچھا پرابلم جو مجھے سمجھ آئی ہے ہم نے اپنے ورثے کو سٹڈی نہیں کیا آپ سن کے حیران ہوں گے آٹومن امپائر نے سود کو اپنے علاقے میں روکا آپ دیکھیں نا سود شروع ہو رہا ہے اور وہ پورے یورپ کی طاقت ہے اور انہوں نے کیسے روکا جو آپ کا سوال میں اسی میں اسی لنک کروں کیسے روکا انہوں نے گورنمنٹ ہر سال آنونس کرتی تھی برابا کا پروفٹ ریٹ آپ دیکھیں کہ مارکیٹ میں تاجر بیٹھا ہے کیونکہ دو مورز ایک تو ہے مسامبہ آپ جانتے گورنمنٹ ہر سال ریٹ آنونس کرتی تھی ایک تاجر نے گلاس بیچ [00:40:36] Speaker ?: بیچ [00:40:36] جناب محمد ملی: دے اس کا گلاس بنایا ہے دس روپے کا اور وہ اس کو بارہ روپے کا بیچ دے تیرہ روپے کا بیچ دے اٹرمن امپائر نے کامیابی سے اپنے ایریا میں بہت بڑی اٹرمن امپائر تھی اس میں سود کو روکا اور دو تین سو سال روکا اور کیا کیا کہ وہ جو موڈز تھے اسلام کے مداربہ مشارکہ مرابعہ ان کو اصلی حیثیت میں لے کر آئے [00:41:07] Speaker 2: اور اریجنل [00:41:08] جناب محمد ملی: اور اس سے پہلے ایک اور کوشش ہوئی نائنٹی سکسٹی میں مصر میں تھا ڈاکٹر احمد النجار جی اس نے بینکنگ سسٹم کا آغاز اصل مصر سے ہوا ہے اس نے جب بینک منایا تو اس کا یہی تھا کہ اصل دو موڈ ہیں مشارکہ اور مداربہ یہ اصل موڈ ہیں اگر آپ نے لوگوں سے پیس [00:41:36] Speaker ?: پیس [00:41:36] Speaker 2: کرتے ہیں کیا مزان بینک پاکستان کا مشارکہ مداربہ [00:41:40] جناب محمد ملی: کرتا اچھا اس کا سسٹم نہیں چل سکتا اچھا اس نے کیا اس نے کہا میرا اگر سسٹم نہیں چلتا نہ چلے میں کمپرمائز نہیں کروں گا اس نے کہا مداربہ ہوگا مشارکہ ہوگا ہم پیسے لیں گے اچھا اب ہم نے کیا کیا ہم نے کوئی سٹڈی نہیں کی ہمارے آس پاس رشیہ میں کیا ہو رہے ہم نے اسی بینکنگ سسٹم کو اسی سٹرکچر میں رہتے ہوئے جو ان کا سود کا سٹرکچر ہے اس میں دو ادارے تجارتی بینک مرکزی بینک ہم نے اس کو کوشش کی ہے کہ اس سسٹم کو اسلام کے مطابق کر رننگ مشارکہ اسلام تو کہتا مشارکہ ہمارے ہاں رننگ مشارکہ اب جو اب نے بات کی ہے کہ اب کریں کیا [00:42:36] Speaker 2: اب [00:42:37] جناب محمد ملی: میں کیا کہتا ہم جب بات کرتے ہیں میں ٹی وی پر جا کے بات کرتا ہوں آج کل میں ایک اور کام کر رہا ہوں میں جو مسجد کے خطیب ہیں ان مذہبی سکولر ہے ایک بینک ایشری ایڈوائزر ہے ان نے بڑا انیشیٹیو لیا [00:42:55] Speaker 2: ان [00:42:56] جناب محمد ملی: کا ادارہ ہے اسلام اکنوم مفتی سید سابر پی ایش ڈی بھی اب دیکھیں ہم کیا کرتے ہیں ہم تنقید بہت زیادہ کرتے ہیں اب میں جو سمجھتا ہوں کیونکہ میں [00:43:11] Speaker 2: میرا [00:43:15] جناب محمد ملی: کیا ریزرٹ ہے علماء حضرات نے ہمیں ایک بینکنگ سٹرکچر دے دیا جو آئیڈیالی اسلام نہیں ہے اس میں کوئی دور ہے [00:43:25] Speaker 2: اس کو اسلام کہتے بھی نہیں غیر سوٹی [00:43:27] جناب محمد ملی: اب ہے کہ ہمیں چاہیے کیا ایک اسلام موڈل اس کے لیے کون آگے آئے گا یونیورسٹی کے ایکونمسٹ میں نے یہاں باتیں کی ہے نا کہ ساری سارا پاکستان ساری [00:43:45] Speaker 2: سٹیپ پہلا کیا ہوگا [00:43:48] جناب محمد ملی: یہ جو سٹرکچر ہے سودھی بینکنگ کا [00:43:54] Speaker 2: اس کو توڑیں یعنی ہم جو فریکشن ریزرف کو ختم کریں [00:43:58] جناب محمد ملی: اور [00:43:59] Speaker 2: کیسے [00:44:02] جناب محمد ملی: توڑیں اب دیکھیں جو بینکوں کے ڈیفازٹ ہیں وہ دو قسم کی ہیں ایک تو جو بیسنس مین ہیں ان کے ڈیفازٹ ہیں اکرنٹ اکاونٹ [00:44:10] Speaker 2: آپ [00:44:11] جناب محمد ملی: جانتے ہیں اکرنٹ اکاونٹ رکھا [00:44:12] Speaker 2: چلتا ہے [00:44:14] جناب محمد ملی: اچھا اس میں ساری کھیل ہے اچھا اب دوسرے ہے سیونگ اکاونٹ اب جو میری پرپوزل ہے اب دیکھیں ہماری گورنمنٹ کو جو سب سے بڑا مسئلہ ہے ستاون کرب روپے کا ملکی کرزہ یہ کوئی گورنمنٹ بھی نہیں اتار [00:44:30] Speaker 2: سکتی [00:44:30] جناب محمد ملی: ایک صدی میں نہیں اتار [00:44:32] Speaker 2: سکتی اب [00:44:34] جناب محمد ملی: میں نے جو پرپوزل دی ہے اس وقت آج کے وقت جو پاکستان میں ہوں فورٹی فائی فورٹی سکس ہے یعنی آپ کو بیس کرب یا اٹھارہ کرب روپیہ مل جائے گا میری پہلی پرپوزل کیا ہے دیکھئے وہ جو کرنٹ اکاؤنٹ ہے وہ قوم کا ہے وہ بینکوں [00:45:02] Speaker 2: کا نہیں [00:45:02] جناب محمد ملی: بینک انہیں کوئی پیسہ نہیں دیتے اچھا بینک تو لیتے ہیں کرنٹ اکاؤنٹ کے نام پر اسلام بینک لیتے ہیں جی سکوک [00:45:14] Speaker 2: کے نام پہ [00:45:14] جناب محمد ملی: کرز حسن دیکھئے کرز حسن کی چوری کیا ہے کہ مجھے پیسہ دیا جب میرے پاس آیا میں نے واپس کر دیا جب [00:45:29] Speaker 2: کوئی مانگے تو ہنس پڑو [00:45:31] جناب محمد ملی: جب میں نے اس پر کام شروع کیا ہے ایسی باتیں سامنے آئی ہیں کہ بیس خرب روپیہ عوام کا بسنس سیکٹر کا وہ ان کو بسنس سیکٹر کو کوئی ریٹر نہیں ملتا وہ سارا ریٹر اچھا جو کمرشل بینک کی اس وقت انویسٹمنٹ ہے پی آئی بی کیا ہے پاکستان انویسٹمنٹ بانڈ وہ سات سال کا انویسٹمنٹ اس میں ہے [00:46:06] Speaker 2: جو کہ اگزیسٹی نہیں کرتا پیسہ [00:46:08] جناب محمد ملی: جو ملتب ہے کہ وہ تو اتنا ان کے پاس پیسہ نہیں تو پہلی جو پہلی میری پرپوزل ہے جو کرنٹ اکاؤنٹ ہے اب دیکھیں آج ہمیں کیا کرنا ہے ہمیں بینکنگ سسٹم کو اسی انداز میں چلانا ہے کیونکہ بینکنگ سسٹم کی ملک کو ضرور ہے بینک صبح کھلے شام کو بند ہو ایک کام کر دیں بینک ویسے ہی کرنٹ اکاؤن موبلائز کریں اور تین دن کے اندر ویدن تری بینکنگ جس طرح کمرشل بینک اس کرنٹ اکاؤن سے یہ لانگ ٹرم فینانس کرتے ہیں اب اسی کرنٹ اکاؤن سے سٹیٹ بینک گورنمنٹ کو کرزہ دے اور سروس چارجز پر [00:47:08] Speaker 2: ایک [00:47:11] جناب محمد ملی: ایک ایک [00:47:13] Speaker ?: ایک [00:47:13] جناب محمد ملی: ایک سود کا خاتمہ گورنمنٹ کے کرز کا خاتمہ جو کبھی بھی ختم نہیں ہوگا [00:47:19] Speaker 2: جب [00:47:20] جناب محمد ملی: سٹیٹ بینک کے پاس بیس خرب کے آ جائیں گے کرنٹ اکاؤن وہ جتنا اس میں زرزی [00:47:26] Speaker 2: جائے پیسہ ہوگا تک دے گا [00:47:27] جناب محمد ملی: وہ کیا کرے گا وہ دے گا چھے مہینے کے لیے اچھا اس میں جو آج کل کی بینکنگ میں ایک اور کیچ ہے ایک ٹرک ہے کہ لمبے عرصے کی سرمایہ [00:47:37] Speaker 2: کار جی پانچ سال کی پانچ سال مطلب ہے [00:47:39] جناب محمد ملی: کہ ہم لے لیں وابس نہیں کرنا پہلے تھا چھے مینے کا اٹریری بل ہوتا چھے مینے کے لیے کرز لیا چھے مینے کے بعد واپس کی یہ سٹیٹ بینک کی ذمہ داری تھی اب کیا ہے جو پہلا سٹیپ ہے جو سود والے بینکنگ کا سٹرکچر توڑ دینا وہ کیا ہے کہ وہ کرنٹ اکاؤنٹ موبلائز کرے کمرشل بینک جیسے کر رہے ہیں اور وہ کرنٹ اکاؤنٹ سٹیٹ بینک کے پاس جائیں سٹیٹ بینک اس سے گورنمنٹ کو لون دے اپنے حساب سے اور کیا ہوگا آٹھ ہزار ارب روپے کی بجٹ میں بچت ہوگی اور بات اور کیا کریں دوسری بات گورنمنٹ کیا کرے جو جی ایس ٹی جو حرام ہے [00:48:34] Speaker 2: ہوا بھی نہیں کھائے گا صاحب [00:48:36] جناب محمد ملی: مکس فننار صاحب مکس فننار اچھا اب کیا ہوگا کہ گورنمنٹ جی ایس ٹی ویڈراؤ کر لے اور ادھر سے جب آٹھ ہزار ارب آ جائے گا جی ایس ٹی سے مشکل سے چار پانچ ہزار ارب مطلب ہے کہ ایک پرپوزل ایک پرپوزل سے ایک تو سود کا خاتمہ ہو گیا دوسرا جی ایس ٹی [00:49:02] Speaker 2: ختم ہو گیا [00:49:02] جناب محمد ملی: جی ایس ٹی ختم ہو گیا بسنس من گرو کرے گا اب دیکھیں نا کار بار اٹھارا پرسنٹ کار [00:49:09] Speaker 2: بار تو ٹیکس ہے ہی نہیں اسلام [00:49:10] جناب محمد ملی: میں تو ٹیکس ہے ہی نہیں اچھا اب ایک کام سے کہ جو کمرشل بینک ہے کرنٹ اکاؤنٹ ویسے مبلائز کریں گے ویڈن 3 ڈیز سٹیٹ بینک کو سمٹ کر دیں سٹیٹ بینک اس سے جس طرح کمرشل بینک کرتے ہیں کرنٹ اکاؤنٹ سے لانگ ٹرم انویسٹ منٹ چھ ماہ کی کریں کمرشل بینک گورنمنٹ کو لون نہیں دیں آؤٹ رائٹ اس کی بیلنس شیٹ ایکس پینڈ ہو جاتی ہے اب یہ پیسہ جو سٹیٹ بینک کے پاس آئے گا اس ور میں نے اللہ کا شکر ہے بڑی سو سو سو سو کئی سال لگ جب پیسہ کمرشل بینک ہوگا سٹیٹ بینک کے پاس آئے گا سٹیٹ بینک لون دے گا سیونگ ڈیپوزٹ [00:50:16] Speaker 2: کمرشل [00:50:17] جناب محمد ملی: بینک [00:50:17] Speaker 2: تونٹی پرسنٹ [00:50:18] جناب محمد ملی: یعنی بیس خرب بیس خرب سے کمرشل بینک ایگری کرشنر کو لون دے انڈسٹری کو لون دے انڈر اسلام موڈز موڈز مرابح [00:50:31] Speaker 2: یہ دیکھیں یہ انہوں نے اسرائیل میں انہوں نے دیکھیں ہمارے ہاتھ اخوت ڈاکٹر امجر اسرائیل فری لون [00:50:40] جناب محمد ملی: سوسیشن اور بائبل میں ہے سات سال کے بعد اپنے دوست کا اپنے بھائی کا کرزہ ماف کر اور اس کو لکھا ہے جو اسلام میں ہے کرزہ ہسنہ اللہ پر احسان کیا آپ دیکھیں کرزہ ہسنہ بھی چھوٹی چیز نہیں اللہ کون ہے جو اللہ کہتا [00:51:04] Speaker 2: مجھے کرزہ کرزہ کرزہ [00:51:06] جناب محمد ملی: یہ ہے کہ مجھے جو خوشی ہے یہ موڈل ہے بینکنگ کا یہ بینکنگ کی زبان میں ہے اور ایک بینکر کی زبان نہیں ہے جو سیونگ اکونٹ بچ جائیں گے اس سے کیا ہوگا اگری کلچر کو اچھا ایک اور شخص دیکھ [00:51:23] Speaker 2: پاکستان [00:51:26] جناب محمد ملی: میں سب سے مہنگا کرزہ کسان کا ہے اب آپ دیکھیں سیونٹی سے ابھی گیرہ پرسنٹ ہے نا گیرہ پرسنٹ تو سٹیٹ بینک کا ریٹ ہے وہ تو بھیلے گا سولہ سوڑا آپ آگے کتنا لے سکتے ہیں [00:51:38] Speaker 2: آٹھ پرسنٹ ان کو دیتے ہیں اور اس کو دیتے ہیں آپ ناگے پانچے دیتے ہیں [00:51:44] جناب محمد ملی: ملہو ہے کہ آپ جو گیرہ پرسنٹ ہے اس میں پانچ جمع کر سکتے ہیں پانچ چانچ سولہ فیصد یعنی آپ دیکھیں جب بائیس پرسنٹ تھا کسان کو کرزہ ملتا تھا چھبیس پرسنٹ پر ستائیس پرسنٹ پر اب کیا ہوگا اب کیا ہوگا کہ جب جو سیوک اکاؤنٹ ہے کمرشل بینک کے پاس بینک ویسے ہی چلیں گے بینکوں کو کوئی فرق نہیں پڑے گا بینک ویسے کھلیں گے ویسے کام کریں گے اس سے وہ لون دیں گے اگری کلچر کو انڈر مرابحہ جس طرح آٹومن امپائر پرافٹ ریٹ آنونس کرتی تھی کہ یہ زبان فصل ایسی ہوئی ہے فصل ایسی ہے اچھا وہ دیکھیں نا جب اللہ نے اللہ نے پہلے بیع کو حلال کیا ہے پھر ریبا کو حرام کیا ہم ریبا کے پیچھے پڑے بیع کی بات ہی نہیں کرتے ہیں اب ہمیں کیا کرنا ہے یہ تو پہلا موڈل ہے دو حصے ہیں اس کی کہ جو کرنٹ اکاؤنٹ ہے وہ سٹیٹ بینک کو دے دیں دیں اور سٹیٹ بینک اس سے گورنمنٹ کو لون دے انڈر آ ڈسیپلن ان سے پہلے بات آئے کر کے سٹیٹ بینک آٹانومس ہے گورنمنٹ کو ریوز کر سکتا ہے [00:52:50] Speaker 2: ٹھیک بھائی لوگ اس کے بعد بجٹ آپ کا چھوٹا ہو جائے گا ختم ہو جائے گا [00:52:55] جناب محمد ملی: اٹھا آٹھ ہزار ارب رپیہ سے آپ کا بجٹ ہو جائے گا سرپلس ہاں اور اگر آپ جی ایس ٹی ختم کرتے ہیں تو کیا ہوگا چار ارب کا وہ کشن نکال کے پھر بھی تین ارب رپیہ آپ کے بجٹ میں سرپلس آ جائے گا آپ کا بجٹ بیلنس ہو جائے گا اور سوت سے جان چھوٹ جائے گی اور پھر کیا ہوگا کہ جو کمرشل بینکنگ کی ایکٹیویٹی ہے ہر جگہ ہاں جب یہ دو ہزار آٹھ میں کرائیس آیا تو تین بینکنگ کمیشن بیٹھے ایک امریکہ میں ایک یورپ میں ایک یوکے میں ان سب نے کہا کہ بینکوں کی ایکٹیویٹیز اتنی زیادہ بڑھ گئی ہے اس کو ریڈیوز کیا جائے ون پرسنٹ پر سود آ گیا تھا پوری یورپ ون سے بھی نیچے نیچے چلے گیا ان کا رہاں پیسے رکھنے کے پیسے بھی لگ رہے گیا تو سر جو یہ یہ ایسی پرپوزل ہے یہ ایک بینکنگ کی پرپوزل ہے اس کو ہے اللہ کا شکر ہے کہ اب اس پر ڈسکشن ہو رہی ہے میں نے جو آٹیکل ہے جیسے آپ نے پڑھا ہے تو یہ جو دو موڈل ہیں پہلا موڈل یہ ہے دوسرا پہلا موڈل ہے کمرشل بینک اور ہے کہ ہم اس کا آغاز کر دیں اب یہ اگرست ہے اگر سپٹمبر سے اکتوبر فسٹ اکتوبر سے یہ سارا بینکنگ کی زبان جنبے ہے اس میں کوئی لمبی چوڑی جماعت فریق نہیں ہے اگر فسٹ اکتوبر سے سٹیٹ بینک کورمنٹ سے بات کر کے ابھی تو ہے نا فرسٹ جنبے دو ہزار اٹھائی ساتھ میرے موڈل سے فسٹ اکتوبر دو ہزار ستھ مجھے سود کا خاتمہ ہو جائے گا کہاں پر تجارتی بینکوں کا اچھا اب اس کے بعد دوسرا ہے سٹیٹ بینک چیک دیکھئے سٹیٹ بینک میں ہر دو مہینے بعد مونٹری پولیسی ہوتی ہے اور جس دن مونٹری پولیسی اناوس ہونی ہوتی ہے کیونکہ میں تو بینکر ہوں میں پڑھتا ہوں چیزوں کو چیک اس سے دو دن پہلے جو سٹاک مارکیٹ منی مارکیٹ اس میں ہوتی ہے سپیکولیشن کہ یہ سٹیٹ بینک ریٹ گیارہ سے بارہ ہوگا سٹیٹ بینک کے ریٹ کے اردگرد گھومتی ہے اگر سٹیٹ بینک کا ریٹ اوپر جاتا ہے تو کمرشل بینکوں کا ریٹ بھی اوپر چلا جاتا ہے اب دیکھنا جب بائیس تھا جب سٹیٹ بینک کا دو ہزار چوبیس میں سٹیٹ بینک کا ریٹ بائیس تھا جو اگری کلچر کو لون ملتا تھا بائیس جمع پانچ ستائیس پرسنٹ ستائیس پرسنٹ اب دیکھیں ستائیس پرسنٹ پر کوئی کاروبار وائبر ہے یہ بچارہ ہمارا کسان ہے جس نے گندم اگانی ہے جس نے کپاس اگانی ہے اب کیا ہے اب وہ بائیس سے گیارہ ہو گیا اب کمرشل بینک کیا کرتے ہیں گیارہ جمع پانچ اب ہے کہ جب تک ہم اس سٹیٹ بینک کے ریٹ کو نہیں ختم کرتے جو سود کا ریٹ ہے اس کے لیے جو میری جو دوسرا موڈل ہے ہم بینچ مارک بنائیں بیکہ اچھا ابھی جو یہ میرا مضمون آیا جس نے یہاں لاہور میں ہے آپ جانتے ہوں گے ڈاکٹر اکرامالہک جی جی میرا بیچمیٹ ہے آپ کے اچھا آپ کا بیچمیٹ ہیں میرا بیچمیٹ انہوں نے تین چار مضمون لکھے ہیں وہ بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ بے کا بینچ مارک بنائے اور جو بے کا بینچ مارک ہوں گا ہر بینکنگ سسٹم کو چاہیے ایک بینچ مارک ہمارے کیا ہے کراچی انٹر بینک ریٹ ہے کائی بار نہیں کیا اچھا اب یہ سود کا سود کا بینچ مارک اسی کو اسلامی بینک استعمال کر رہے ہیں اب اصل جو پہلی تبدیلی آگی کمرشل بینک میں اب جو اصل انقلاب ہے نا ہم بنائے حقیقی شعبے کے پروفٹ کا بینچ مارک اس سوا کے اکرام صاحب نے مضمون لکھا ہے اس نے کہا جو بینچ مارک کیسے بنے گا دینا کہ جو کر رہا ہے بینکوں کا اس میں اگری کلچر بھی ہے انڈسٹری بھی ہے ہاؤسینگ بھی ہے اگر ہاؤسینگ کو لون دینا ہے تو جو جو جو ان کی رنٹ کے انڈیکسز ہیں رنٹل ہے نا ہم ہم کرائے پر کتنا کرائے لے رہے ہیں کتنا لے رہے ہیں اچھا پھر جو اگری کلچر ہوگا اس کا اگری کلچر کتنا بے کنوں بکا ہے کتنے بے وہ بکا ہے اور ہر سا جیسے اوٹمان اوپائر ہر سال مرابقہ کا ریٹریشپ کرتی تھی اب ہمیں ضرورت کیا ہے پوری [00:57:29] Speaker 2: دنیا میں ہوتا ہے کہ اس سال ناففصل کا یہ ریٹ اس کا ڈیٹا آویلبل اور [00:57:34] جناب محمد ملی: چیز دیکھیں پاکستان میں تین سینٹر کام کر رہے ہیں سینٹر آف ایکسیدنس اسلامی فیلانس ایک لاہور میں لمس کراچی میں آئی بی اے اور پشاور میں آئی ایم ایس انٹرنیشنل انسٹیوٹ آف سائنس اسلامی ایسیدنس میں بھی ہے مثال ہے ہاں کوئی اچھا یہ تین ایسے ادارے ہیں جو فورن فنڈنگ سے قائم ہوئے اور ہر سال کروڑوں روپیہ پرائیوٹ سیکٹر انہیں دیتا ہے سی ایس آر کیتا ہے اچھا انہیں ان کے پاس کوئی اسائنمنٹ نہیں یہ کوئی لیکچر کرا دیا کوئی اسلامی بینکوں کا کورس کرا دیا سیمینار کرا دیا انہیں یہ کام دیا جائے یہ اکانومسٹ ہیں بڑے پڑے لکھے اکانومسٹ ہیں کوالیفائیڈ لوگ ہیں اور یہ جو ویسٹر کی اکانومکس کے ٹولز ڈین ٹیکنیکس ہیں جو جو یہ موڈلز ہیں اس کے میتھ کے جو رسک مینجمنٹ ہے یہ اچھی طرح جانتے ہیں اچھی طرح جانتے ہیں انہیں یہ کام دیا جائے اور میری جو پرپوزل اس مضمون ہے کہ فرسٹ اکتوبر دو ہزار چھبی سے سود کا خاتمہ ہو جائے گا تجارتی بینک سے انہیں چھے ماہ کا ٹائم دیا جائے مارچ دو ہزار ستائی سے دو ہزار ستائی سے وہ بینچ مارک آ جائے تو وہ بن جائے گا مونٹری پولیسی کا [00:58:56] Speaker 2: بینچ مارک تو مونٹری پولیسی سے بھی سود ختم مونٹری پولیسی سے [00:59:01] جناب محمد ملی: سود ختم اب کیا ہوگا جب سٹیٹ بینک کا بینچ مارک پرافر ریٹ پر ہوگا تو سارے جو بینچ مارک ہیں سود کے وہ بدل جائیں گے سود پاکستان میں چھے شکلوں میں موجود ہے ہم تو ایک سود کی بات کرتے نا میں اس میں لکھا ہے چھے شکلیں کونسی ہیں یہاں ایک تو کمرشل بینک کا سود صحیح ہے دوسرا سٹیٹ بینک کا سود ٹھیک تیسرا جو یہ لیزنگ اور insurance companies ہیں جی جی اس کا سود چوتھا جو فننیشل مارکیٹس ہیں منی مارکیٹ کا سود پانچمہ جو یہ ادارے ہیں کون بھی بچت کے ان کا سود چھٹا سود ہے پرائیویٹ سیکٹر میں کچھ تاجل چھے قسم کا سود ہے جو ہمیں ختم کرنا ہے جب ہم یہ کام کر لیں گے تو جو میرا جو پروزل ہے کہ مارچ ستائیس دو ہزار ستائیس سے اگر ہم یہ کام کر لیں دیکھئے باتیں کرنا بڑی آسان ہے کام کرنا ہوگا اللہ کا شکر ہے یہ کام اگر ہم اس کو اپنا لیں مارچ دو ہزار ستائیس سے یہ بنچ مارک بن جائے اور اس میں اور جی سی یو کو ملا لیں اور ایلی سی کو ملا لیں جی سب کو ملا لیں جی سب کو ملا لیں نینا ایک کام کریں اور پھر کیا ہوگا کہ کمرشل بینک کام کریں گے پہلے ہی فرسٹ اکتوبر سے کرنٹ کاؤنٹ دے دیے سٹیٹ بینک کو اور ہمارے پاس پچیس سال کی اسلامیک بینکنگ کا ایکسپیرینس ہے ہم اسے یوز کریں اور دوسری ایک اور بات ہے کہ جو شریعہ ایڈوائزرز ہیں وہ پچیس سال سے کام کر رہے ہیں اب وہ بینکنگ کے سارے راز و رموز سے واقف ہو گئے اور اکثر بینکرز نے ان کی ایڈوکیشن کی جائے انہوں نے پی ایش ڈی کر لی اب جن کا میں نے آپ کو نام لیا ساگید ساور حسین شاہ صاحب جن میں جانتا ہوں جہاں انہوں نے پی ایش ڈی کر لی اسلامیک اکانومسٹ ہے اور ایسے بہت سے اس کو دیکھیں ہم نہ تنقید کے پیشے پڑے نہیں نہیں بلکل نہیں اس کو ہم نہ اس سٹرکچر کو یوز کیا جائے ان کا دیکھنا ہمارے پاس ایک ایکسپیرینس ہے میں اسلامیک بینک ہوں وہ آج سے ایسے ایسے انہوں نے امپروو بھی کیا ہے اس طرح ادھر پانچ سو سال کی سود والی بینکیں گئے ابھی ہمارا پچیس سال کا ایکسپیرینس ہے ہمارے علماء حضرات نے کام کیا ہے وہ ٹھیک ہے آئیڈیل نہیں ابھی نہیں وہ کہتے تھے کہ ہم رخصت دیتے ہیں راستہ نکالتے ہیں یہ کرتے ہیں آئیڈیل نہیں ہے اب ہے کہ اب اس کام کے لیے اکانومسٹ آگے آئیں اور جب یہ بینچ مارک آویلیبل ہو جائے گا دو ہزار مارچ دو ہزار ستائیسے سٹیٹ بینک سے بھی سود کا خاتمہ ہو جائے گا اور ایک چیز اور ہے باقی جو انتہائی ضروری ہے جی سود کے بارے میں قانون نہیں ہے اب دیکھئے لیجسٹلیشن میڈیویل یورپ میں یورپ نے سود کا خاتمہ کیا تھا وہاں یوزری لو تھا کہ سود ہے کیا اب دیکھے نا آئین میں یہ تو ہے کہ سود کا جلدہ جلد خاتمہ کرنے لیکن سود ہے کیا جب سود اچھا یہ میرے اس میں میں نے جو کام دیا یہ گورنمنٹ کے زمیں ہے پارلیمنٹیریانز قومی اسمبلی کے میمبر اور سینٹ کے میمبر ایک کمیٹی بنائیں یہ جو جو تین سینٹر آف ایکسیلنس ہے اور انہیں ایک اسائنمنٹ دے کہ ہمیں یہ کام کرنا ہے لاؤ سود کا لاؤ بنانا ہے جب سود کا لاؤ بن جائے گا اچھا اب ایکی بھئی ایون کانسٹریشنل ریمنٹ کر کے آپ نے اپیل کی ہوئی ہے سود کے خلاف اب ہوتا کیا ہے کیونکہ لاؤ نہیں ہے تو شریعہ کون کو اپیل کا حق دینا پڑتا ہے کیونکہ آئین میں قانون نہیں ہے قانون نہیں ہے قانون [01:02:49] Speaker 2: میں آپ کو اندازہ کریں شریعت کون کا جو فیصلہ بڑا اچھا فیصلہ تھا جی جی تو اس کے خلاف میں گیا وہاں پر مہر ساتھ ایک اور دو صاحب سے تو ہم کو چھے سو صفے کا بنا کے لے گے کہ اسلام کو ان کا اسلام ایک بینکنگ کے اوپر کوئی آپ کو اتراز تو لے گے وہ کہتے ہیں ہم نے پانچ سال کی مولد دی ہوئی ہے جی جی تو پانچ سال کے بعد آئی ہے کب میں نے کہا پانچ سال تک سود حلال حلال وہ یہ نا یہ [01:03:12] جناب محمد ملی: بہت بڑا یہ بڑا فلافہ اللہ وجود تو تو ٹھیک ہو جانا یہ اچھا اور بات میں آپ سے کروں جب میں یہ سارا کام کر لیا جو میری نئی بوک ہے نا اس میں سود کے بارے میں دس چپٹر ہے سباناللہ اچھا جب میں نے یہ سارا کام کیا نا اب آیا میں implementation پر اب اللہ کا شکر رہے کہ میں تین جگہ سٹیٹ بینکر چیف بینجر رہا ہوں یہ operational job ہے اس میں آپ کی کر کردگی آپ کے سامنے آ جاتی ہے کیا آپ کامیاب ہیں یا نا کام اب میں نے کہا کہ اس کو کون نافذ کرے گا تو جو مجھے اللہ نے سمجھ دی ہے پھر میں نے کہا کہ سود کے خاتمے کے لیے سود کا خاتمہ ایک movement نہیں ہے it is not a shift for our interest to equity in fact it is Islamic economic system مدینہ economics اور جو اس سے بڑی بات ہے it is a shift from western civilization to Islamic civilization جو قائد اعظم نے کہا تھا جو دیکھیں جو جنا سامنے فرمائے تھا اب جب میں نے یہ چیز سوچی نا تو پھر میں نے کہا کہ where is Islamic systems systems کہاں ہیں اگر آپ میں ہم جب میں statement بھی تھا آئی ایم ایف کو لوگ آتے تھے ان سے ہم کبھی کبھی بات کرتے تھے گپ شپ ہوتی تھے ان سے کہتے تھے ہمارا نظام سب سے اچھا تو کہتے ہیں do it کہ اگر آپ کہتے ہو عمل کو نہیں کرتے تو اس کو عمل کریں اس کے لیے کیا ہے میں نے جیسے جیسے اس کو پڑھ رہا ہوں اب میرا جو topic ہے نا from economics is has shifted to Islamic civilization اور سر آپ یقین کریں کہ میں نے جو میرے پانچ chapter ہے پہلا chapter ہے کہ اسلام کے حساب سے ریاست کیسے بنتی ہے معاشرہ کیسے بنتا ہے آپ ما شاء اللہ سب چیزیں جانتے ہیں اللہ کا کرم سب آپ کو پڑھ لکھ کر رہے ہیں کہ social contract theory یہ کس نے دی ہوبز نے ہم انہی کو پڑھتے سر اللہ کا شکر ہے میں اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتا ہوں اسلام میں جو دو لفظ ہیں قرآن کے میں کہتا ہوں کہ مجھے اللہ نے جو مجھ پر کرم کیا ہے مجھے قرآن کے تین لفظوں کی سمجھ دی ہیں صلاح زکاة اور یونفی کو واہ یونفی ان تین چیزوں سے معاشرہ بنتا ہے اور وہ ہے کہ وہ پورا میں نے نا اس میں جو میرے آخری پانچ چیپٹر ہے پہلا چیپٹر ہے کہ سٹیٹ کیسے بنے گی اسلام کے مطابق قرآن کے قطابق دوسرا کیا ہے گورننس ہم صبح سے شام میں ٹی وی پر یہی بحث ہوتی ہے سر سپیرچول ڈیموکریسی علامہ اکبال نے کہا تھا خود بات اور دیکھیں امریکہ کا جو ہے نا نیشنل پوریٹ والٹ ویٹ میں جی جی ہی سیڈ ڈیس اس نے کہا یہ جمہوریت یہ جمہوریت آنے والے وقت کے ساتھ نہیں چل سکتی ہمیں ہمیں we have to add spirituality to the institution of democracy سر میں نے جو وہ چپٹر دیا ہے نا دوسرا گورننس کا کہ اس میں خاص چیز ہے وہ ایک فیت بیس سوسائٹی ہے اس میں مولوی حضرات نہیں ہیں [01:06:39] Speaker 2: ہر بندہ مولوی ہے اسلام میں تو یا افالہ جاتا دبرونا القرآن ہر [01:06:43] جناب محمد ملی: بندے کی ذمہ داری ہے دیکھئے مولوی ایک سسٹم میں ہیں اور بڑی ذمہ داری کے ساتھ ہم دیکھئے نا ہم لوگ مولویوں کے پیشے پڑھتے ہیں مولوی ہمارے پیشے پڑھتے ہیں ہم نہیں وہ نہیں ہے ہم تو علماء کی قدر دیکھئے جو جو جمہوریت ہے جو رفحان جمہوریت کیا ہے حضر غبقر نے کیا کہا تھا یہ پہلا خدبہ ہے اے لوگوں میں خلیفہ اپنایا گیا ہوں میں آپ سے بہتر نہیں ہم اگر میں ٹھیک کرتا ہوں میری ذہنمائی کریں میں غلط کام کرتا ہوں مجھے روکے اور جو سر اصل بات کہ یہ وہاں پر اس معاشرے کا غریب میرے نزدیک طاقتور ہے جب تک مہتنا ہے یہاں تک کہ میں اس کے سارے حقوق اس امیر سے لے لوں اور جو اس معاشرے کا امیر ہے وہ میرے نزدیک ایک غریب ہے یہاں تک کہ میں اس کے ذمہ حکومت کے سارے واجبات لے لوں یہ ہے سپرشور ڈیموپریسی اور آپ بھی علامہ اقبال کے شہدائی ہیں میں بھی ان کا مرید ہوں جویت نامہ میں ہے چیست قرآن کیا ہے خاجہ راہ پیغام مرگ [01:07:48] Speaker 2: خاجہ راہ پیغام مرگ [01:07:50] جناب محمد ملی: امیروں کے لیے خاجہ راہ پیغام مرگ خاجہ راہ پیغام مرگ دستگیر بندہ بسازو برد میں کہتا ہوں [01:08:02] Speaker 2: امیروں کے لیے خاجہ راہ پیغام مرگ [01:08:04] جناب محمد ملی: خاجہ راہ پیغام مرگ دستگیر بندہ بسازو برد میں کہتا ہوں کہ ایک غریب آدمی کا ہاتھ پکڑتا ہے [01:08:12] Speaker 2: اور امیر آدمی کا موت ہے [01:08:14] جناب محمد ملی: میں کہتا ہوں کاش مدینہ ایکنومکس بھی یہی ہے مدینہ ایکنومکس کا کیا لیسن ہے ایک فکرے میں بسنس کو اگر آپ کھولا چھوڑ دیں تو یہ چوری کی طرف چلے جاتی ہے مدینہ ایکنومکس بسنس کو چوری میں کنورٹ نہیں ہونے دیں یہ چیزیں ہیں اگر ہم اب چیزیں ساری واضح ہیں جو سود کے جو اس کے نقصانات تھے اب پوری دوریاں پر واضح ہونے ہیں اور ہمارے ملک میں یہ چیز ہو رہی ہے اور میں علماء حضرات کی فیور کرتا ہوں اس سنس سے کہ دین ان کے پاس [01:08:51] Speaker 2: نکالنے کے لیے ہاں ٹھیک ہے کام کام تو کیا رہا ہے [01:08:54] جناب محمد ملی: تنظیم اسلامی نے بھی جمعہ اسلامی نے تنظیم اسلام سے بہت کام کیا سٹیٹ بینک کو ایک یاد داشت بھیجی ہے تنظیم اسلامی نے [01:09:03] Speaker 2: میں نے سمنار کیا تھا پورے پولک میں [01:09:06] جناب محمد ملی: انہوں نے سٹیٹ بینک کو یاد داشت بھیجی ہے کہ سود کا خاتمہ ایسے ایسے کریں تو یہ بڑا خوش آئین موقع ہے اللہ کرے کہ آج یہ یومِ ازادی کا دن ہے انشاءاللہ اللہ ہمارے یہ آپ کی اور میری یہ کوشش قبول کریں اور اس ملک میں سود کا ختمہ ہوں اور اقفلائی اسلامی راست قائم ہو [01:09:26] Speaker 2: اور آپ کو اللہ تعفیق دے اپنی نئے کتاب کو مکمل کریں آپ اس حساب سے [01:09:30] جناب محمد ملی: جو خاتم کرتا ہوں اقبال کے شیر بھر کہ یہ جہام ممور ہوگا نغمہ توحید [01:09:36] Speaker ?: انشاءاللہ [01:09:36] Speaker 2: بہت بہت شکریہ بہت نایت اللہ تعالی آپ کو استقامت دے اور آپ کو اس کام میں مزید آگے بڑھائیں آمین ناظرین آپ نے دیکھا کہ جو پیغام انہوں نے دیا ہے وہ صرف پیغام نہیں ہے اس کی بنیاد پر ایک پورا علمی کام ہے اور اس علمی کام کو اگر نافذ کیا جائے تو مارچ دوہزار ستائیس تک پاکستان سود کا خاتمہ ہو سکتا ہے یہ کسی ایسے دان کی گفتگو نہیں ہے کہ اس نے کسی کتابی دنیا کے اندر زندگی گزاری ہو سٹیٹ بینک کے ریسرچ ڈپارٹمنٹ کے ایک اہم ترین رکن کی بات ہے کہ جو پریکٹیکل لیول پر بھی سٹیٹ بینک کے اندر کام کرتا رہا ہے ناظرین یاد رکھیں اللہ نے پورے قرآن کے اندر کسی چیز کے خلاف جنگ کا اعلان نہیں کیا کبھی کبھی میں سوچتا تھا کہ چودہ سو سال پہلے ہر بم من اللہ ورسول ہی اللہ اس کا رسول جنگ کرتا ہے ان لوگوں سے جسود دیتے ہیں تو یہ ایسا کیوں ہے لیکن آج جب اس دنیا کے اس معاشی شکنجے کو اس اکٹوپس کو دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس سمانے کے اندر کیا خوبصورت بات کی گئی تھی وہ جو اقبال نے کہا ہے کہ سود کے ظاہر میں تجارت ہے حقیقت میں چوا ہے سود ایک کا لاکھوں کے لیے مر کے مفاجات قائد عظم محمد علی جناہ کا پاکستانیوں کے لیے آخری پیغام یہ تھا کہ اس ملک کے معاشی نظام کو اسلام کے اصولوں کے مطابق ڈھال دو قائد عظم کو سیکلر کہو یا لبرل قائد عظم کو مسلمان اسلامی نظام کا حامی کہو اس وقت دنیا کا کوئی معیشت دان دنیا کا کوئی سیکلر لبرل تنکر ایسا نہیں ہے جو یہ نہ کہتا ہو کہ اس دنیا کی خرابیوں کی وہ نیادی وجہ سود ہے جاستی جی موسیقی

Transcribe Any Video or Podcast — Free

Paste a URL and get a full AI-powered transcript in minutes. Try ScribeHawk →