About this transcript: This is a full AI-generated transcript of Does Pakistan Really Need New Provinces? — Shabbar Zaidi Explains — Amir Zia Full Podcast from Narratives, published August 12, 2026. The transcript contains 10,331 words with timestamps and was generated using Whisper AI.
"آپ مجھے پوری مسلم لیگ کی تحریک کے بارے میں تمام لیڈروں کے بیانات ان کے بجشور کاغذ بتا دیں اگر اس کے اندر لفظیں ایکنومی کہیں لکھا ہو تو میرا نام نیتر یہو کر دینا جو آپ باتیں کریں نا یہ ہماری جیس پہ نہیں ہیں ابھی آپ ہم سے بات کرو لیں تلوار کی ابھی آپ بات کرو لیں ہم سے عقیدے کی ابھی آپ بات کرو لیں جدہ"
[00:00:00] Speaker 1: آپ مجھے پوری مسلم لیگ کی تحریک کے بارے میں تمام لیڈروں کے بیانات ان کے بجشور کاغذ بتا دیں اگر اس کے اندر لفظیں ایکنومی کہیں لکھا ہو تو میرا نام نیتر یہو کر دینا جو آپ باتیں کریں نا یہ ہماری جیس پہ نہیں ہیں ابھی آپ ہم سے بات کرو لیں تلوار کی ابھی آپ بات کرو لیں ہم سے عقیدے کی ابھی آپ بات کرو لیں جدہ جہنم کی ہم آپ سے بات کر دیں گے سندھ بومبیس سے انیس سو ستیس میں الگ ہوا تھا اس سے پہلے کبھی سندھ صوبہ نہیں تھا سندھ بومی نے پوچھا گیا بھئی کراچی کو ہم الگ کر رہے ہیں اس کو ہم نہیں پوچھا جب ملایا جب بھی نہیں پوچھا کونسی دنیا کی فیڈریشن ہے جہاں پہ ایک صوبے کے پاس 55% ہو کونسی فیڈریشن ہے دنیا میں یہ جو پاکستان میں نون ورگربل چیز ہے اس کا نام ہے دیتر کا آئین ہمارے پاس دو تین نئے صوبے اور آنے والے ہیں ایک کابل ایک خندھار اور ایک ایران کا سستان محافظِ حرمینِ شریفین ہم ہیں ہماری صوبائی زمان سندھی ہے تو لنگوسترک کے حساب سے میں پسنلی آشبر زہدی سندھ کو لنگوسترکلی بنیادوں پر ڈیوائیڈ نہیں کرنا چاہتا ہے کراچی بھرا پڑا ہے سالوز مجاب سے روزگار کے لئے کیوں وہاں بھی روزگار نہیں ہے اگر روزگار نہیں ہے تو گوڈ گورننس کیسے ہو گئی کرنا ہے سب سے بیڈلی مینیج پروونس پنجاب ہے میں نے اس دن بھی کسی پرگام میں کہا تھا کہ اگر آج میں پاکستان کی بیلن شیٹ بناوں گا تو ڈیفیسٹ صرف پنجاب کا نکلے گا تو آوار سے سلجانی چلے جاؤ اگر ایک فقیر بیہاری یا اردو سپکی کیا سدھی بل جائے میں نام عدد ہوگا ٹرکوں میں بھر کے منجاب سے آتے ہیں فقیر کراچی میں ٹرکوں سے بن کے ہیں جتنے ٹرس زینڈر ہیں سارے لاہور کے ہیں بیروزگاری دیکھیں گے نا تو آپ اورنٹرین بھول جائیں گے جب آپ بیروزگاری جالی دوائیں جالی چیزیں دیکھیں گے نا پھر آپ ہی سب کہانی بھول جائیں گے کہانیاں ختم کریں تو یہ بے حکوب کے بچے کلپ لوگ جنہوں نے اوکٹرائے کو ویلو کے ساتھ مرز کر بھی ہے تو وہ والا کونٹریکٹر کو میں نے کہا یار پنیلہ والے کو پکڑو اور اسلام آباد کی جیو فینسنگ کا ہوں یہ بہت بڑے گھر سے ٹھول آیا ہے سارے یہ جیو فینسنگ والے ایک سائل پند کرتے ہیں کھلا کا بس یہ بڑی بڑی بڑی بڑی بڑنے کے بن رہی ہیں ان کی ویلویشنز کیا ہیں میں آپ کو سنسیرلی کہہ رہا ہوں کہ یوروپ میں امریکہ میں پوپٹیاں بیج دی جاتی ہیں کہ بڑی ٹیکس کہاں سے دیں گے ہمیں تو کب سنسیرلی ہیں
[00:02:29] Speaker 2: آدھا برزے پاکستان میں جناب نظام نہیں چل رہا پاکستان کا نظام ڈھے گیا ہے یہ عوام کی خدمت کرنے سے قاسر ہے ہمارے وزیر داخلہ موسیٰ نقی صاحب یہ بات نہ بھی کہتے تو جو اہل نظر ہیں انہیں یہ بات پتا ہے پاکستان کے سماجی اور معاشی اشاری انتہائی دلشکن ہیں ہمارے ہر دس میں سے چار بچے جو ہیں وہ سٹنٹڈ گروت کا شکار ہے ایریورسبل یہ ان کے لیے نقصان ہے ذہنی اور جسوانی اسی طرح آپ دیکھیں کہ تگمس کم دو کروڑ ساٹھ لاک بچے جو ہیں وہ سکول جانے سے محروم ہیں اسی ملک میں پچپن فیصد پاکستانی جو ہیں ان کو پینے کا صاف پانی جو ہیں محسر نہیں اندازہ کیجئے کہ اس ملک میں غربت بڑھ رہی ہے جو لوگوں کی قوتیں خرید ہے اس میں کمی ہوئی ہے بیروزگاری میں اضافہ ہوا ہے سرمایہ کاری نہیں ہو رہی ہے کہتے ہیں نا کہاں تک سنو گے کہاں تک سنائیں تو جب یہ صورتحال ہے تو اس کا مطلب ہے کہ سسٹم ڈلیور نہیں کر رہا تو جو بہت سارے ہمارے ہیں اکرائے بنتی ہیں وہ کہتے ہیں جیس کا جو حل ہے وہ چھوٹے انتامی اکائیوں میں ہیں انتامی یونٹس میں ہیں یعنی کہ نئے صوبوں میں ہیں ایک دوسرا خیال یہ آتا ہے کہ نہیں اس کی جگہ اگر آپ صرف بلدیات کو جو ہیں با اختیار بنا دیں تو غالباً مسئلے کا حل ہو جائے لیکن جو لوگ اتراز کرتے کہ جی ہمارے یہاں جو ہے جو صوبے ہیں وہ بہت بڑے ہیں ان کا اتراز اتنا بیجا نہیں ہے انیس سو ستالیس سے لے کر اب تک جو ہے پاکستان کی عبادی میں سات گناہ اضافہ ہوا ہے لیکن ہمارے جو انتامی یونٹس ہیں وہی چار یعنی کہ وہی چار صوبے ہیں اگر آپ یہ بات کریں کہ جی پوری دنیا میں اس وقت جو ہے اقوام متحدہ میں ایک سو ترانوے ممالک جو اس کے رکن ہیں اور دو جو ہیں اس کے عبزرور کی حیثیت رکھتے ہیں بیٹیکن سٹی اور پیلسٹین جو پیلسٹینینز ہیں تو اس حساب سے ایک سو ترانوے ممالک میں اگر آپ پنجاب کی عبادی کی بات کریں تو اندازہ کیجئے کہ وہ ایک سو اکیاسی ممالک سے بڑا ہے یعنی کہ وہ گیاروے نمبر پہ عبادی کے لحاظ سے بڑا جو ہے ملک بنے گا سندھ کی بات کریں وہ ایک سو اکسٹھ ممالک سے بڑا ہے اگر آپ کی پی کی بات کریں تو وہ ایک سو اکیاؤن ممالک سے بڑا ہے یعنی کہ یہ صرف ہم عبادی کی بات کریں رقوے کے لحاظ سے بلجسان جو ہے دنیا کے ایک سو اکتر ممالک سے بڑا ہے تو یہ اگر صورتحال ہو تو ظاہر ہے جو لوگ اتراز کرتے کہ یہ ان گورنبل ہو گئے ہیں ہمارے جو صوبے ہیں اور ان کو اگر آپ جو ہے چھوٹا کر دیں گے اور جو ہے لوگوں کو بجائے بہت دور دراز علاقوں سے صوبائی دار حکومت جو ہے نہیں آنا پڑے گا ان کو جو ہے ان کے مسائل کہل اپنے علاقے میں مل جائے گا یا قریب مل جائے گا تو اتنی بیجا بات نہیں کرتے لیکن یہ کہنا آسان ہے اور جو ہے اس پہ عمل کرنا بہت مشکل ہے تو اس ساتھ معاملے پہ کفتگو کرنے کے لیے میں نے زہمت دی ہے دوان ان انولی شبر زیدی صاحب اپنا تعرف آپ ہیں انہی کا نام جو ان کا تعرف ہے بہت دو چکی ہے شبر صاحب اپنا قیمتی وقت دینے کا مسائل جو ہیں وہ مسلسل جو ہیں وہ بڑھ رہے ہیں اور ہمیں نظر یہ آتا ہے کہ جی اس پہ جس طرح کی سنجیدہ بحث ہونی چاہیے وہ بحث نہیں ہو رہی ہے ہماری یہ بحث جو ہے جذباتی ہے آخر ہماری جو ایک میں کہوں گا کہ سیاسی اسٹیبلشمنٹ ہے اس کا مسئلہ کیا ہے دیکھیں
[00:05:29] Speaker 1: بات یہ کہ سیاسی گفتگو سیاسی اس کو میں اور آسان کر دیتا ہوں پولیٹیکل ایکنومی دنیا کا جو بنیادی مسئلہ ہے سیویلائی سوسائیٹی کا بنیادی مسئلہ ہوتا ہے پولیٹیکل ایکنومی ایکنومی پولیٹیک ساتھ ساتھ چلتی ہے درست کہہ رہا ہے پولیٹیکل ایکنومی کو چلانے کے لیے کے بارے میں بات کرنے کے لیے ایک سرٹن لیول آف انٹیلیکچل کیبیلٹی ہونی چاہیے ٹھیک ہے اس سرٹن لیول آف انٹیلیکچل کیبیلٹی کے لیے آپ کے پاس نرسریز ہونی چاہیے جہاں پر سے جہاں سے وہ دماغ وہ ذہن وہ سوچ پیدا ہو جن نرسریز سے آپ یہ لوگ نکال سکیں وہ دباغ نکال سکیں جو ان موضوعات پر بات کریں ٹھیک ہے اب وہ نرسریز میں نے کل بھی کسی پرگرام میں اسلامباد میں کہا تھا کہ ان چیزوں کی تین بنیادی نرسری ہوتی ہیں کسی سیاسی نظام کی ایک نرسری ہوتی ہے سٹوڈنٹ یونین ایک نرسری ہوتی ہے ٹریڈ یونین اور ایک ہوتی ہے لوکل باڈی تینوں نرسریوں کو آپ نے کرش کر دیا ٹھیک ہے اب آپ ایک آدمی کیوی پہ آکے بیٹھ جاتا ہے اور وہ پاکستان کی کے بارے میں گفتگو کرتا ہے اور وہ گفتگو کرنے کی بنیاد اس نے ساتھ میں ایک سمبل لکھا ہوتا ہے چڑیا کا وہ کہتا ہے میری چڑیا نے مجھے یہ بتایا تو وہ یہ کہہ رہا ہے ایکچولی کہ میں ایک دفر آدمی ہوں مجھے جو چیز اسٹرمیشمنٹ کے ادارے کی چڑیا نے بتائیے وہ بتانے کے لیے آیا ہو یہی کہہ رہا ہے نا وہ اور وہ کیا کہہ رہا ہے کہ میری چڑیا نے مجھے یہ بتایا میری چڑیا نے مجھے یہ بتایا تو آپ جو ایکسپیکٹ کر رہے ہیں عامر زیاد صاحب کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ یہاں پہ کسٹرکٹیو ڈیبیٹ نہیں ہو رہی یا پہ کوئی بندہ بات نہیں کر رہا چیز بات نہیں کر رہا آپ کسٹرکٹ کر رہے ہیں کہ وہ بات کرے گا آپ کیا آپ کے خیال میں یہ بات کون کرے گا کیا سعاد رفیق صاحب کریں گے خواجہ عاصف صاحب کریں گے رانہ صلی اللہ صاحب کریں گے یا آپ کے خیال میں سندھ سے سرجیل بیمن صاحب کریں گے یہ آپ کے خیال میں یا یہ لوگ آپ کے خیال میں کیا انہوں نے اس پروسس سے گزر کر یہ لیڈر بنے ہیں جس پروسس سے گزر کر دنیا میں پولیٹیکل ایکنومی کا سسٹم آتا ہے
[00:07:58] Speaker 2: انہیں تاہتا ہے ایک زمانے میں ہوتے دی ہماری
[00:08:00] Speaker 1: ہوتے دی ہمارے پاس ہم نہیں ہیں اچھا اس میں پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں ہے اس میں پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں ہے پاکستان کی تحریک پاکستان کی خالق جماعت جنب ماشاءاللہ ان چیزوں میں کبھی دلدر جسپی نہیں رہی ہے ہمارا کوئی تعلق یہ چیزوں سے نہیں ہے نہ پولیٹیکس سے نہ ایکنومی سے ہم نے آپ بتا دیں میں نے کسی اور پرام میں بھی کہا تھا آپ مجھے پوری مسلم لیگ کی تحریک کے بارے میں تمام تمام لیڈروں کے لیڈروں کے بیانات ان کے مشہور کاغذ بتا دیں اگر اس کے اندر لفظیں ایکنومی کہیں لکھا ہو تو میرا نام نظر یہو کر دینا تو آپ ایک اس قوم سے یہ باتیں کر رہے ہیں جس قوم کی جینس میں یہ نہیں ہے یہ جینس میں نہیں ہے ہماری جو آپ باتیں کر رہے ہیں نا یہ ہماری جینس میں نہیں ہے ابھی آپ ہم سے بات کر رہے ہیں تلوار کی ابھی آپ بات کر لیں ہم سے عقیدے کی ابھی آپ بات کر لیں جندر جہنم کی ہم آپ سے بات کر دیں گے اب آپ کہہ رہے ہیں کہ بچے نہیں سٹینٹ پر بچے پیدا ہو رہے ہیں ایڈوکیشن نہیں ہو رہی سڑکیں نہیں ہیں یہ نہیں ہے یہ ہمارا سبجیکٹ نہیں ہے جینیٹیکلی کلچرلی لیجسلی سٹوریکلی یہ ہمارا سبجیکٹ یہ خوش آئند بات نہیں ہے اب جو ہے سوشل میڈیا پر بات ہو رہی ہے نہیں میرے سام سے میڈیا پر بات کر رہے ہیں میڈیا پر کون بات کر رہے ہیں کون بات کر رہے ہیں اس آدمی کا بیک گراؤنڈ تو دیکھے نا بات کون کر رہے ہیں وہ جو بات کر رہے ہیں میں آپ کو مجھے آپ دکھا دیں میں بتا دوں گا کہ کس کی کس کس کس کس کانسے لگائی گئی ہے آپ مجھے بندے کی شکل دکھائے میں بتا دوں گا کس کانسے آئی ہے تو کسٹ نے چل رہی ہے نا یار
[00:09:45] Speaker 2: چلے ہم پرسپیکٹیو میں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں کہ مطلب ہے ہمارے یہاں بلکل آپ نے کہا کہ جو بحث ہوتی بڑی جذباتی ہوتی ہے لوجیکل نہیں ہوتی نہیں لوجیکل نہیں نہیں
[00:09:56] Speaker 1: جیسے آپ نے کہا فور آرگومنٹ آپ نے کہا کہ انتظامی یونٹس ٹھیک ہے میں آپ کو آج یقین سے کہہ رہا ہوں آج یقین سے کہہ رہا ہوں کہ سیتالیس سے لے کر آج تک جو انتظامی یونٹ بنے ہیں پاکستان میں ان کی ہسٹری پاکستان میں بتا دے کو یہ کیا ہے اور یہ کیسے بنے ہیں پھر آپ چار یونٹ کے بارے میں بات جو کر رہے ہیں نا میں پہلے آپ کے ساتھ صرف پانچ منٹ لوں گا یہ بتانے کے لیے کہ جو آج چار انتظامی یونٹ ہیں ان کی کوئی جمہوری حیثیت نہیں ہے میں سمجھا جاتا ہوں آپ کو جب سیتالیس میں ملک بنا ٹھیک ہے اس وقت آپ نے ایک اسیمبلی بنائی کونسٹیٹوٹ اسیمبلی اس وقت ایس پاکستان کی پاپولیشن پچپن فیصد تھی آپ کی پاپولیشن باون اور ارتالیسٹی باون اور ارتالیسٹی ان کی حصے میں کتی سیٹے آئیں چالیس آپ کے حصے میں ساٹھ یہ کسی کو نہیں پتا کسی کو نہیں پتا کوئی حصے میں کبھی بات نہیں کرے گا ان کی حصے میں چالیس آپ کے حصے میں ساٹھ چلو وہ بھی میں نے مان لیا چپن کا آئین بنا چپن کا آئین بنا چپن سے پہلے آپ نے کہا یار ہم بنگالی کو پچپن فیصد کسے دے سکتے ہیں باون یہ تو ہو ہی نہیں سکتا تو ہم نے بنا دیا ون یونٹ ہم نے بنا دیا ون یونٹ ون یونٹ میں یہ دونوں برابر ہو برابر ہو بنگالی بھائیوں نے مان لیا مان لیا جس طرح سے بنگالی بھائیوں نے مانا اس ماننے کا طریقہ بھی آپ کو بتایا کس طرح مان لیا میں اس پہ آتا ہوں بات دے اچھا چھتالیس سے پہلے جو صوبے تھے اس وقت ہمارے پاس تین صوبے تھے اس پاکستان کو بہلک کر رہا ہوں ہمارے پاس تین صوبے تھے ایک صوبہ تھا سند جس کی ہسٹری صرف اس ٹائم پہ گیارہ سال کی تھی سند بومبی سے انیس سو ستیس میں الگ ہوا تھا اس سے پہلے کبھی سند صوبہ نہیں تھا ستیس سے لے کے ستالیس تک سند کی وہی حصیت ہے اس سے پہلے سند نہیں تھا پنجاب جو پنجاب ہمارے اسے میں آیا وہ پنجاب کا نام تھا ویس پنجاب مغربی پنجاب ہے اور اس کا آدھا حصہ جا چکا تھا اور اس میں کبھی تاریخ میں کبھی تاریخ میں بھالبور اس کا حصہ نہیں تھا ٹھیک ہے ہاں پرنسلی سٹیٹ تھی وہ آخر تک ٹھیک ہے کے پی کے کا ایک صوبہ تھا اینڈیوی ایف پی او زمانے میں بلوچستان صوبہ نہیں تھا اس کے دو عصے تھے ایک کلاتی تھے کلات اسٹیٹس اور ایک کلاتا تھا برٹش بلوچستان جو کہ پتھان بلوچستان تھا یہ انیس سو چھپن میں فیصل نائنٹین فیفٹی سکس میں فیفٹی فائی میں نے ون یونٹ بنا تو اس وقت ہمارے پاس تین اسٹیٹس سندھ ویس پنجاب اور اینڈیوی ایف پی اور ہمارے پاس ریاست بھالپور انڈیپینڈنٹ اسٹیٹ تھی اور وہ پاکستان میں اس شرط پر داخل ہوئے تھے کہ جب مرج ہوگا تو بھالپور کو الگ صبح بنایا جائے گا یہ ان کی کنینیشن تھی مرج اور پاکستان کی ٹھیک ہے خیرپور اسٹیٹ تھی بلوچستان اسٹیٹ تھی کلات کی ان کا کوئی تعلق نہیں تھا بلوچستان سے کلچرلی لنگوزٹیکلی ٹھیک ہے ہفٹی سکس کا آئین بن گیا آب انڈیویٹ پر آگئے ہیں سلطرہ پاکستان ہفٹی سکس کے آئین کے بعد انیس سو پاسٹ کا آئین بن گیا ایوب خان کا آئین بن گیا اس پہ وہی انڈیویٹ باقی رہا ٹھیک ہے اس کے بعد سکسٹی نائن میں ایک مارشاللہ ایڈویسٹیٹر آیا اس کا رامسہ جنرل محمد آگا جنرل آگا بابا جایا خان انہوں نے ایک پینس اس دوران میں اس دوران میں کراچی فیڈل کیپیل ٹیٹی بن گیا ایک ایڈویسٹر آرڈر سے بنا اور ایک ایڈویسٹر آرڈر سے دونوں تائم پہ سندھ اسیمبلی نے کچھ نہیں کہا دونوں تائم پہ سندھ اسیمبلی کو پوچھا ہی نہیں گیا سندھ اسیمبلی کو نہیں پوچھا گیا بھائی کراچی کو ہم الگ کر رہے ہیں اس وقت بھی نہیں پوچھا جب ملائے جب بھی نہیں پوچھا تو دونوں فیصلے کراچی کو الگ کرنے کے اور ملانے کے بغیر سندھ اسیمبلی کی برضی کے ہوئے سندھ اسیمبلی کو آپ نے سندھ اسیمبلی میں سے اٹھا کر آپ نے بجھا دیا اینجیوی سکول
[00:14:35] Speaker 2: ٹھیک ہے
[00:14:36] Speaker 1: وہ ایک الگ کہانی ہے ٹھیک ہے اچھا تو آپ نے یہ سکسٹی نائن میں ایک مارشلل ایڈمیسٹریٹر آیا اس نے کہا میں اب ون یونٹ ٹوڑ رہا ہوں ٹوڑ لیں آپ کو کس نے بنا نہیں کیا آپ کو کس نے اجازت دی تھی کہ آپ مارشلل ایڈمیسٹریٹر کے ثلور صبح بنا دے آپ نے نیا صبح بنا دے ملزستان دونوں کو مکس کر دیا آپ نے بھالپور کو مرش کر دیا پنجاب کے ساتھ آپ نے سندھ کے اندر جو بھی تھا کر دیا کراچی کے ساتھ اور کے پیوے تو یہ سکسٹی نائن کے مارشللہ کی پیداوار ہے اچھا اب سکسٹی نائن کے مارشللہ کے بعد سیونٹی میں الیکشن ہوا اور سیونٹی ون کے بعد پاکستان بنگالیوں نے اپنی پچپن فیصد جب پہلی دفعہ ان کو ملی سیونٹی میں سیتالیس سے لے کر انیس سو ستر تک پہلی دفعہ ان کو پچپن فیصد ملا اپنی اکسریت مل گی باون فیصد انہوں نے باون فیصد اکسریت ملنے کے بعد فیصلہ کیا گیا تسری اپنے گھر اسی اپنے گھر تسری تھے اسیت تھے فیصلہ ہو گیا اکتر میں فیصلہ ہو گیا اچھا اب جو ایرر ہوئی ہے نا جو آپ لوگ اس ایررر کو ریالائز نہیں کر رہے ہیں جب سکسٹی نائن میں جب آپ نے پنج انہیں ٹوڑا تھا تو آپ کے پاس پانچ صوبے بن گئے تھے چار ویس پاکستان کے اور ایک اس پاکستان کا اس وقت جو پاکستان میں پنجاب تھا وہ تھرٹی پرسنٹ کے خریب تھا اور آل میں جب اس پاکستان چلا گیا تو یہ تھرٹی فیفٹی فائیو ہو گیا یہ ایررر صحیح ہونے والی ہے باقی کچھ نہیں ہونے والا سمجھیں میں دوبارہ سمجھ جاتا ہوں آپ کیا کہہ رہا ہوں یہ ایرر ہے ایررر جب پاکستان سکسٹی نائن میں کونسٹیٹوشن جب سکسٹی نائن میں بنے تھے ون یونٹ کے اس وقت پانچ صوبے تھے اس میں کسی اس میں ایک صوبے کے پاس سکسٹی فائیو پرسنٹ تھا اس کو کاؤنٹر کرنے کے لیے ون یونٹ بنائے گیا تھا اور آپ نے ملک ٹوٹ دیا تھا کیونکہ ایک صوبے کو آپ نے اتنی بڑی مجھریٹی دی تھی کہ ملک ٹوٹ گیا تو اب آپ نے وہ بونگی دوبارہ ماری ہے پچھلے سکسٹی نائن سے آج تک جس کی آج آپ سزا مگترے ہو آج ایک صوبہ فیفٹی فائیو پرسنٹ کرتا ہے فیڈریشن میں میں نے آپ کے پروگرام کے لیے دنیا کے ہر فیڈریشن کا سٹیڈی کیا ہے دنیا کا ہر فیڈریشن کسی میں ایک صوبے کو مجھریٹی حاصل نہیں ہے سوائے پاکستان کے اور اس صوبے کا وزیراعظم ہوتا ہے اور اس صوبے کے پاس منی بل کا رائٹ ہوتا ہے نیسل اسیملی کے پاس وہ کسی سیڈیٹ میں جاتا ہی نہیں ہے تو یہ آپ کس دنیا میں بیٹھے ہو یار تین صوبوں کے اندر ٹرس کیسے آئے گا اگر ایک صوبے کے پاس فیفٹی فائیو پرسنٹ آف دی اسیملی ہے
[00:17:26] Speaker 2: یہ فیڈریشن یہ تو آپ نے کوئی ایک اسٹرکشنل جو ایک فلاو یا کمزوری چیز کی نشان دہی کی ہے یہ میں کہہ رو نا اب ہمارا مسئلہ یہ ہے
[00:17:33] Speaker 1: کہ ہم ہم جب جب ہی بھی صوبے بنانے کی بات کرتے ہیں نا تو ہماری تان ٹوٹتی ہے کراچی پہ آکے یہ سندھ کو ڈیوائیزی کر رہی ہے یہ تان غلط ٹوٹ رہی ہے آپ کو دو جگہ ڈیویزین کرنی ہے پہلے فیز میں پنجاب کو توڑنا ہے ففتی فائف کرسنٹ کو ایکوٹیبل بنانے کیلئے اور برکستان کو توڑنا ہے ایریے کو منیجبل بنانے کیلئے اس کے بغیر فیڈریشن نہیں جل سکتی دنیا میں ٹرسٹ سب سے بڑی چیز ہوتی ہے کیا آج باقی صوبوں کا ٹرسٹ ہے اب ابانداری سے جواب دیتے ہیں
[00:18:10] Speaker 2: درست کریں ہاں لوگوں پر بلکل بدعزمادی ہے بہت زیادہ بدعزمادی ہے
[00:18:15] Speaker 1: بدعزمادی کی رشانی این ایف سی کا پرولم بدعزبادی کی رشانی کالابانگ ڈیم بدعزبادی کی رشانیاں پت بے شمار نشانیاں ہیں ٹھیک ہے اب ان بدعزبادی کی رشانیوں کے ساتھ بلک کیسے چلے گا یار اس پہ کون سی راکٹ سائنس ہے میرا ریڈی کار تو لہور کا ہے مجھے کیا پریشانی ہے آپ کون سی دنیا کی فیڈریشن ہے جہاں پہ ایک صوبے کے پاس 55% ہو کون سی فیڈریشن ہے دنیا میں یہ آج آج پچیس پچیس کروڑ کی عبادی ہے انڈیا پہ یو پی پروینس کی پچیس کروڑ طاقتہ زیادہ عبادی ہے ان کی ایک صوبے کی یو پی کی مگر وہ صرف آل انڈیا کا گیارہ پر سیڈ ہے
[00:19:01] Speaker 2: مہاریشن بہت بڑا صوبے
[00:19:03] Speaker 1: نہیں میں عرض یہ کر رہا ہوں فیڈریشن کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ سارے بھائی برابر ہوں یا انلیس بیس کا فرق ہو یہ کون سی فیڈریشن ہے یار اچھا یہ بات میں بار بار آپ کو سمجھا رہا ہوں جب سکسٹی نائن میں آپ نے ونجویٹ بنایا تھا اس وقت عیس پاکستان آپ کا پارٹ تھا یہ کرائم بھٹو صاحب نے کیا ہے جب سیویٹی سیری کا آئین بنایا تو ایک صوبے کو آپ نے فیفٹی فائی پرسنٹ دے دی تو جو نون ورکیبل چیز ہے نا جو پاکستان میں نون ورکیبل چیز ہے اس کا نام ہے تیتر کا آئین
[00:19:38] Speaker 2: جو جو بار بار مطلب ہے کہ وہ ڈیلیور نہیں کر پا رہا ڈیریل ہوتا ہے آمیر دیا
[00:19:47] Speaker 1: ڈیلیور نون ڈیلیور کی بات نہیں کر رہا میں ڈیلیور تو بعد میں سوال آئے گا ڈیلیور
[00:19:51] Speaker 2: آج ایک طور بلکل historical context بلکل میں سمجھتا ہوں کہ بہت اچھی طرح سے آپ نے سمجھایا اب ڈیبیٹ کو لے کر آتے ہیں جو موجودہ تنازل میں ڈیسلام سے ہو رہی ہے اور وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ جی صرف پنجاب ہی مسئلہ نہیں ہے وہ زیادہ
[00:20:14] Speaker 1: ایکوٹیبل فیڈریشن آگیاں پہلے تو ایکوٹیبل فیڈریشن مطلب یہ ہے کہ کسی کے پاس مور دین 25% انڈیا ہوگا ختم اور فیڈریشن ختم یہ تو پہلے ایک ایکوٹیبل کرے نا آپ پنجاب کو ڈیوائیڈ کر دوں گا ساؤھ پنجاب رات دوں گا یہ گول گول باتیں کیوں گا رہا ہے صاحب بات کرے نا ہم بالکل صاحب بات کر رہے ہیں ہم بالکل صاحب بات کر رہے ہیں کہ پہلے فیڈریشن کو صحیح کر رہے نا ہاں کئی سے نکتہ آغاز ہو گا نہیں نکتہ آغاز کی بات نہیں ہے پہلے ایکوٹی آئے گی
[00:20:43] Speaker 2: وہی نکتہ آغاز میں کروں
[00:20:45] Speaker 1: اچھا اب میں آتا ہوں آگے اب میں چلتا ہوں آگے میں نے اس کے لیے نا اب یہ آپ کے پروگرام کے لیے میں نے آرٹیکل لکھا ہے وہ آپ کے بارے میں آگیا میں نے اس کے لیے نا انڈیا کی ری سٹرکچرنگ کے ستالیس میں انڈیا آزاد ہوا اٹالیس میں ایک کمیشن بنا وہ اس کمیشن نے کہا کہ کوئی ضرورت نہیں ہے لنگسٹک بنیادوں پر صوبے بنانے کی اٹالیس میں آٹھ وینے بعد ایک اور کمیشن بنا جس کو چیئر کر رہے تھے نیرو اور ساتھ میں ولب بھائی پٹیل اور سیتا رمائیہ جیسے سینئر آدمی تھے انہوں نے اٹالیس میں کہا کوئی ضرورت نہیں ہے لنگسٹک سبابرانے کی دونوں کی ریپورٹ آپ چاہیں یوٹیوب پر موجود ہے
[00:21:43] Speaker 2: اس وقت فیصلہ کیا انہوں نے
[00:21:45] Speaker 1: ففٹی فورٹی ایٹ میں فورٹی ایٹ میں اس کے بعد تحریک چلی تامل لاڈو میں سپریشن کی مدراز اور ایک بندہ بھو کرتال میں فوت ہو گیا ففٹی تھری میں ایک کمیشن بنائے گیا ایڈیا میں جس کا نام تھا سرفضل اللی کمیشن اس فضل اللی کمیشن نے نائنٹین ففٹی سکس میں ایک ایک ایکٹ پاس کیا کرایا جس کا نام تھا اسٹیٹ ریو آگنازیشن ایکٹ آف نائنٹین ففٹی سکس اس کی بنیاد پر انڈیا میں تمام صوبے لنگسٹک بنیادوں پر بنا دیئے گئے اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ لنگسٹک دماروں کو اور مزید لنگسٹک کو ڈوائیڈ کرتے جائیں گے پہلی دفعہ میں شاید اٹھارہ سولہ بنے اور وہ آج اٹھائیس ہو گئے اور انڈیا میں آج تمام صوبے لنگسٹک ہے لنگسٹک ہے اور اسی وجہ سے یوپی کا پروینس جو کہ پچیس کروڑ کی عبادی رکھتا ہے جسے جو سیوندھ یا سکس لارجس یا فورت لارجس پپولیشن ان دا ورلڈ یونیٹیڈ اتھار پردیش جسے کہتے ہیں جس کی عبادی تقریباً پچیس کروڑ سے اوپر ہے وہ ایک پروینس ہے آسام چار پروینس ہے ٹھیک ہے اس لیے کہ یوپی کے اندر دو پارٹ ہیں ایک آگرہ اور عود دونوں کی ایک ہی زبانے ایک ہی کلچر ہے اس لیے وہاں کو دیویزن نہیں ہے تو انڈیا کی جو دیویزن آف دی سٹیٹ ہے بو لنگسٹک ہے لنگسٹک ہے
[00:23:19] Speaker 2: اب یہاں پہ جو پاکستان میں تجویز آ رہی ہے وہ کہنے کہ انتظامی بنیادوں پر ہوں اور لسانی پر نہ ہوں انتظامی بنیادوں
[00:23:26] Speaker 1: انتظامی بنیادوں کا مطلب ہوتا ہے کہ تم کسی بیروکیٹ کے ہاتھ میں چابی پچی دے رہے ہو یہ بیروکیٹ کے ہاتھ میں ڈپٹی کمیشن ریوائیو کرنے کی بات کر رہو تم یہ مجھے کوئی سمجھ لیاتی بات ہے یہ ڈپٹی کمیشن میں نہیں کہنا یہ وہ کہانی ہے جو جو بیڈی جو بلند یونیٹ میں ہوئی تھی کہ کراکستان میں سولہ ڈویین تھے وہ یہ ہے اس وقت میں سولہ ڈویین تھے آپ سولہ ڈویین ماننے چاہتے نا ہر ڈویین کمیشن ہوا کرتا تھا
[00:23:54] Speaker 2: اب بتیس ہو گئے وہ تو
[00:23:56] Speaker 1: اب بتیس کر لو ڈویین ڈسٹیک نہیں تھا ڈویین تھا ہاں ڈویین تو اب بھی ہے نا ڈویین تو بڑھ گئے جیتے بھی ہے بتیس یا تیس جو بھی ہے ڈویین کر لیں آپ کی مرضی ہے مگر سوال یہ ہے کہ پہلے تو پہلا کام میں نے کہا ایکوٹیبل فیڈریشن پہلے سٹیپ یہ وہ تو کرنے ہی ہے نا اس کے بغیر تو آپ بات آگے بڑھے گی نہیں نا اس کے بغیر تو بات کرنے کا اس بات کے بغیر فائدہ ہی کوئی نہیں ہے نا اگر آپ نے ایکوٹیبل فیڈریشن نہیں بنائی تو باقی ٹائم زائے کر رہے نا پھر آپ اور آپ کے کہنے نکتہ اغاز یہ ہو پنجاب سے ہو نہیں پنجاب سے نہیں ہم پنجاب کا نامی ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ پہلے فیڈریشن کے اندر کسی ایک صوبے کی ہماری بنیاد یہ نہیں ہیں ہماری بنیاد پنجاب کو ڈیوائیڈ کرنا نہیں ہے ہماری بنیاد یہ ہے کہ کوئی ایک صوبہ فیڈریشن میں میجوریٹی نہیں رکھ سکتا اس کو کہتے ہیں فیڈریشن پہلے فیڈریشن سیدھی کریں پھر اس کے بات آت کریں نا میرے ساتھ چلے یہ تو آپ نے بڑا ٹھیک ہے ختم ہوئی اب آگے چلیں اب جب فیڈریشن سیدھی ہوگی اب آگے ہی دو ویسر زبانی اور ایڈویسٹیٹیو دو ہی اوپشن ہیں نا
[00:25:06] Speaker 2: لسانی ہے زبانی لگوسترک اچھا اب
[00:25:10] Speaker 1: پاکستان جو آج پاکستان ہے یہ ایک ہے اور ایک رہے گا پاکستان میں کبھی بلکن ہے نہیں ہوگی یہ میں آج آپ کو کہہ رہا ہوں اور انشاءاللہ بہت جلدی بہت بہت ہم اس چیز کی طرف آگے بڑھنا چاہیے ہمیں کہ ہم اس کے اندر دو صوبے ایڈ کریں پاکستان کے بورڈر سے باہر
[00:25:42] Speaker 2: ازار کشمیر اور
[00:25:44] Speaker 1: گلدستان نا نا نا یہ تو وہ تو گھر کے کھیل ہیں کابل اور خندھار
[00:25:50] Speaker 2: یہ تو آپ بلکل ایک نیا چلیں نیا بینڈورا بوکس
[00:25:56] Speaker 1: نہیں کھول رہا ہوں میں آپ تاریخ پڑھیں آپ تاریخ پڑھیں کابل اور خندار ہمیشہ سب کونڈرڈ کا حصہ رہے ہیں یہ بلکل کبھی نہیں تھا اس کا نا باہرستان یہ بلکل نئی ذریافت ہے گھروں کی جبھی بھی یا ان کا حصہ یہ علاقے رہتے ہیں نہیں کبھی نہیں رہی یہ تو سب جا رہا ہوں میں تمہیں ڈیلی نے کابل میں حکومت کی یہ کابل نے دیلی میں کبھی نہیں کی سمجھنے کی کوشش کرو تم دیلی میں بابر کا مزار کابل میں ہے خندار is a province of India افغانستان کوئی ملک نہیں ہے بھائی تم کس دنیا میں بیٹھے ہو ہمارے ہمارے پاس دو تین نئے صوبے اور آنے والے ہیں ایک کابل ایک خندار اور ایک ایران کا سستان
[00:26:41] Speaker 2: یہاں تک جو ہے مطلب ہے درانی امپائر ہوتی تھی ملتان تک اور وہ وہاں سے رول کیا کرتے تھے
[00:26:48] Speaker 1: درانی اتران تو بہت تھوڑے دائم کی یہ احمد شعبدالی کے بعد ان کے جو لوگ سے احمد شعبدالی نے کبھی رول نہیں کیا رول کیا ہے مغل نے بابر آیا تھا بابر کے بعد اور انگزیب تک تین سو سال کی حکومت ہے مغلز کی اس کے بعد مغلز کے پہلے تغلق کی ہے اور لوگوں کی جنہوں نے رول کیا ہے باقی یہ تو آتے جاتے رہے آتے جاتے رہے جو رول کیا ہے اس رول میں ہمیشہ ہمیشہ کابل اور خندار انڈیا کا حصہ رہے ہیں کوئی ٹائم ایسا نہیں ہے جب کابل اور خندار آئے حصہ رہے ہیں یہ تو بلائے کے لئے معاشی لگائی ہوئی ہے امان اللہ خان وغیرہ کی یہ تو کوئی کس پسلہ ہی نہیں ہے پھر ڈیوڑی لائن شوڑا مسئلہ کوئی نہیں ہے اب ہم ریورس چلیں گے نا وہ ادھر آتے ہیں ہم کہتے ہیں دفعہ کرنا ہم ادھر جائیں گے اچھا اب ہمارا بلک کیا ہوگا ہمارے ذہن میں میرے ذہن میں کیا بلک ہے میرے ذہن میں پاکستان کا مطلب کیا ہے میں بتاتا ہوں آج پاکستان کا مطلب کیا ہے کشمیر پورا کشمیر پورا کشمیر جس میں گلی بستان ہے کابل خندار ایران کا سیستان اور پرزر پاکستان یہ ہے پاکستان ریال پاکستان اور یہ انشاءاللہ تعالیٰ اچیو ہوگا اور یہ سب سے بڑا ایٹمیک بلک ہے دنیا کا ایٹمیک بلک ہے مسلمان اور یہ انشاءاللہ تعالیٰ گارڈین ہوگا مکہ مدینہ کا ہم محافظِ حرمین شریفین ہوں گے جو آج آپ نے پرسو دیکھ لیا ہو گئے تقریباً ہو گئے ہیں ٹھیک ہے تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ سعادت دی ہے ہمیں خوشیز بات کی ہے کہ ہمارا گھر تھا ہم چھوڑ کے آگے تھے اب ہمیں گھر
[00:28:27] Speaker 2: یہ جو یہ تو مجھ سے ہے کہ اللہ اقبال کا خواب تھا اللہ اقبال کو چھوڑ دے نہیں میں اسی طرح آپ کا بھی خواب ہے ابھی خواب ہے خواب نہیں ہے یہ تو بہتر خواب ہو رہا ہاتھ نے خواب کہہ لیا آپ کا خواب ہے نا تو میں ملا رہا ہوں
[00:28:38] Speaker 1: نہیں اللہ اقبال کا خواب بھی یہی تھا سنیں اللہ اقبال کا اللہ اقبال کا خوابہ پڑے ہیں اس نے کہا تھا نورت ویسٹن پارٹ آف انڈیا شوڑ بی ایسی پرڈ سٹیٹ پڑے خوابہ میں نے پڑے
[00:28:49] Speaker 2: اس میں قابل ہیں نہیں ہیں اب میں آ جاتا ہوں کہ وہ وہ علی بات ہو گئی نا مکمل اب ایک وہ ویجن سے ہم آ جاتے ہیں جو آج کے دکھ درد ہیں یہ جس کونٹیکس کے اندر ہم لوگوں نے گفتگوئی شروع کی کہ آپ گم جب وہ آپ نے سے صوبہ کیا میں نے کہا نا میں نے کہا ایکوڈیشن ہونی چاہیے
[00:29:05] Speaker 1: سیکنڈ
[00:29:06] Speaker 2: سیکنڈ
[00:29:07] Speaker 1: سیکنڈ میرا میرا بیو سیکنڈ بیو میرا یہ اس لنگیسٹک کیلنگیسٹک ہو آپ کے بقال میں کہہ رہا ہوں مجھے ایڈبسٹریٹیو کی کہانی کا کوئی تعلق نہیں ہے میں اب آپ کو سوڑا سا اور سب جاتا ہوں پاکستان جو ہے پاکستان دریائے سندھ کے اس طرف بھی ہے اور دریائے سندھ کے اس طرف بھی ہے دریائے سندھ کے اس طرف والا پاکستان کلچرلی لنگوستکلی مختلف ہے دریائے سندھ کے اس طرف والا پاکستان لنگوستکلی کلچرلی مختلف ہے تو آپ کو ایک نیچرل ڈیویجن بنانی پڑے گی لنگوستک بیسس کے اوپر اسٹارٹنگ فرام کراچی ٹو دی گلگیت اور لنگوستک ڈیویجن پاکستان میں بلکل کلیر ہیں کہیں ڈیویجن نہیں ہیں صرف ایک جگہ لنگوستک پرولم ہے اس کا نام کراچی اور ہیدراباد ہے وہ لنگوستک اس لیے ریلیونٹ نہیں ہے کہ جو زبان کراچی ہیدراباد میں بولی جاتی ہے وہ لوگوں کی لوکل زبان نہیں ہیں وہ نیشنل زبان ہیں ہماری سبائی زبان سندھی ہے تو لنگوستک کے حساب سے میں پسٹلی پسٹلی آشبر زیدی سندھ کو لنگوستک بنیادوں پر ڈیوائیڈ نہیں کرنا چاہتا ہے مگر میں اس سے جب آگے چلتا ہوں تو سندھ کے کچھ اسے ایسے ہیں جو کہ سرائیکی بیلڈ کا حصہ ہیں جو سردار ناظر مکسی صاحب ہے شاید انہی کا ایک سگا بھائی بولوستان سیلیکٹ ہوتا ہے ہاں یہ ہے جل مکسی سے ہمی رائٹ ہوتا ہے نا مجھے ایک بات بتاؤ مجھے ایک بات بتاؤ کونسی زبان کے بالے سندھی ہے یا بلوچی ہے بہت سارے بلوچ سندھی بھی بلوچ مجھے ایک بات بتاؤ وہ تو ان کا سگا بھائی ہے جاتا بجے یہاں
[00:31:08] Speaker 2: مطلب ہے سرائیکی رہجی میں مجابی بھی بلوچ میں آپ سے
[00:31:13] Speaker 1: کچھ اور بات کر رہا ہوں میں پوچھ رہا ہوں سردار نادر مکسی کا بھائی ہے جو سگا بھائی ہے شاید سگا بھائی ہے شدار فس کزن ہے جل مکسی سے شاید یہ در سے ہوتے ہیں وہ در سے ہوتے ہیں تو وہ کونسی لائن ہے جو آپ نے جل مکسی میں لگائی ہے جو سندھ کو اور بلوچ سندھ کو ڈیوائیڈ کر رہی ہے میں آپ سے پوچھ رہا ہوں میرے آپ سے سوال ہے کہ جو جی اے سندھ والے مجھے بتائیں تو صحیح وہ لائن کدھر ہے جل مکسی کی یہ تو انگریزوں کے بنائیوی چیزیں یہ سب اچھا اب لنگویسٹک ڈیویجن جو ہے نا اچھا میں آپ کو ایک اور روزہ دوں جو انڈیا کا کمیشن بنا نا کبھی آپ اس کی ریپورٹ دیکھیں اس کا نام ہے ایس آر سی ایکٹ اسٹیٹ ریورگنیزیشن ایکٹ نائنٹی سٹیٹی سکس انہوں نے ڈسٹک ڈسٹک بھی چینج کیے پتہ آپ کو ادھر سے ڈسٹک آکے ڈالا ادھر سے ڈسٹک ڈالا میرے حساب سے میرا ایک سلیشن ہے ایک صوبہ بنائیں جو پاکستان کے چاروں صوبہ سے کنیک کرے برمیان میں چاروں صوبہ درمیان
[00:32:24] Speaker 2: اور
[00:32:24] Speaker 1: اس صوبہ کے اندر ڈیرہ غازی خان ہونا چاہیے
[00:32:26] Speaker 2: اور
[00:32:28] Speaker 1: اس صوبہ کے اندر کالا باگ ڈیم بننا چاہیے اس میں ڈسٹک ڈیرہ غازی خان بھی آئے اس میں ڈسٹک ڈیائے خان بھی آئے اس میں سندھ کا بھی ڈسٹک آئے اس میں بلوچستان کا بھی ڈسٹک آئے جو پاکستان کو ریپزنٹ کرے اور وہ ایک لوگ ہیں سردار بلک شیر مزاری کا کوئی تعلق رشتداری نہیں ہے لاہور میں کسی ارائی کے ساتھ ان کی ساری رشتداری ہیں بلوچوں کے ساتھ ہیں غلط کہہ رہو صحیح کہہ رہو سردار سردار بلک شیر مزاری یا سردار فاروق لغاری یا سردار ذلبخار خان خوصہ کیا جا کے سیالکور میں شادی کریں گے پوچھے آپ سے سوال ہے میرا مشکل سوال لوجیکل ہے نا تم تو صرف آپ نے اگریزوں کی چل رہے ہو نا بلکل ٹوٹل ڈیویزن ہے میں یارس کرنی کوش کر رہا ہوں ٹوٹل ڈیویزن ہے آپ ڈیویزن کو ڈینایل کر رہے ہو نا آپ کے دماغ میں ڈینایل ہے نا آپ ڈینایل پہ ڈینایل کرے جا رہے ہو تو ڈینایل کرتے رہو یہ ہزارہ کا کوئی تعلق کے ساتھ نہیں ہے لورالائی کا پہ پشین یوب اور یہاں گراچی میں ہب ہب کا تعلق لیاری کے ساتھ ہے ایک ہی لوگ رہتے ہیں لی مارکٹ سے مندر بز جاری ہوتی ہے آ رہی ہوتی ہے لوگوں کو جڑو لوگوں کو جڑو انگریز نے انگریز بہت اچھا داوی انگریز نے آپ کو توڑ دیا تھا انگریز نے ڈیوائیڈ ڈیوائیڈ ڈیوائیڈ
[00:34:17] Speaker ?: ڈیوائیڈ
[00:34:17] Speaker 1: ڈیوائیڈ کیا تھا آپ لوگوں کو جڑو میں نے اپنی ایک آرٹکل میں بھی لکھا ہے کہ ہم یہ جو آج سب کونٹیڈنٹ ہے نا یہ سب کونٹیڈنٹ سے ہم کہتے ہیں یہ دو دو دو ہمیں نظریہ نہیں ہے یہ دو تیذیبیں ہیں
[00:34:34] Speaker 2: ایک
[00:34:35] Speaker 1: تیذیب سندھ کی اور ایک تیذیب ہند کی جو تیذیب ہند کی وہ گینجیٹ ویلی ہے اور جو تیذیب سندھ ہے وہ انڈس ویلی ہے ہم انڈس ویلی کا حصہ ہیں ہم ایک ہیں اور ہمیشہ ایک ہی رہیں گے ٹھیک ہے آپ انڈس ویلی سیویلائزیشن کو کیوں توڑنا چاہتے ہو ایڈمیسٹیشن کو لنگویسٹک کر لو سہی ہو جائے مسئلہ آپ سندھی پنجابی یہ وہ اگرام بگرام آپ نے ساری جیل لگائی ہوئی ہیں ان کی چھتیس میں سندھ بھمبے کا سطح آپ کیا بات یں سندھ
[00:35:09] Speaker 2: چھتیس میں بھمبے کا سطح ایک اور مسئلہ بھی آپ نے بڑا اہم میں سمجھ ہوں کہ نیا ذاویہ دیئے مجھے دلچسف لگا انٹرسٹنگ بہت سارے لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ جی اگر ہم سندھ کی بات کریں کہ جنوب اور ساؤت اور نورت کی جو کشمہ کا شر ملک میں ہوتی ہے تو یہاں پر سندھ کو بھمبور ڈسٹرک ڈیویجن ہو گیا اس کے پاس مسائل ہیں لیکن اس کی پارٹسپیشن نہیں فیصلہ سازی میں اور جو نورت سندھ کے لوگ ہیں وہ زیادہ فیصلہ کر رہے ہیں تو کیا اس طرح کا کوئی ہونا چاہیے بندوبست کے بھئی یہ لوگ بھی امپاور ہو جائے یا ان کا بھی سوہ ملے
[00:35:46] Speaker 1: کب سے کب سے وزیر خزانہ ہیں مراد علی شاہ سندھ کا بہت عرصے سے کانکہ رہنے والا ہے بھئی ہے تو میں کراچی کا گنت ہو لیکن وہ سیون کا ہے نا سیون سیلیکٹ ہو کے آتا ہے تو یہاں پر جو کراچی میں پرولم آئی سندھ میں پرولم ہے وہ یہ نہیں ہے سندھ میں پرولم جو ہے جو سندھی نیشنل لسٹ ہیں ان کو ٹوٹل سندھ میں ملا کے پچاس ہزار وڈ بھی نہیں ملے گا کبھی نہ ملا یا ملے گا ان کے بارے میں سب سے اچھا بیان پیر بگڑا صاحب نے دیا تھا کہ جب کبھی میں اپنا لفافہ لنے جاتا ہوں تو میری لائن میں آگے نیشریس لگے ہوتے شروع بیان یہ تو ڈرامے بازی ہے ٹھیک ہے یہ تو بیچارے ہیسی لگے چار پا جو کل راڑیا لے کے آ جائیں گی یہ سب کی کوئی حیثیت نہیں جو
[00:36:49] Speaker 2: یہ تو ساری بات پارٹی کا سٹیک ہے نا وہ تو چاہیں گے جس رہے ماملہ اس چلتا رہے یہ
[00:37:06] Speaker 1: پارٹی کا سٹیک نہیں ہے پی پی
[00:37:09] Speaker ?: پی
[00:37:09] Speaker 1: پارٹی اگر میں بار بار بار کہہ رہا ہوں نا میں تو کبھی بھی نہیں چاہوں گا کہ سن ڈیوائیڈ ہو میں آپ سے بار بار بار یہ کہہ رہا ہوں کہ سن ڈیوائیڈ نہیں ہونا چاہیے لگوستگلی میں نے آپ کو کہا نا لگوستگلی اس لیے ڈیوائیڈ نہیں ہونا چاہیے کہ جس زبان کی ہم بات کر رہے ہیں اس کی بنیاد پہ وہ زبان تو نیشل زبان ہے
[00:37:33] Speaker 2: نا نہیں بہت سارے میرے خال میں کراچی میں سے لوگ ہوں گے جو کہیں گے جو ایک ججہ طور پر رہیں ایک جو آپ کا خیال بہت سارے اور لوگوں کا خیال ہے یہ بھی مسئلہ ہے کہ بلیاتی نظام بھی ہمارا کمزور ہے یہاں کے لوگوں کے اختیارات بھی نہیں ہے یہاں پہ ترقیب بھی نہیں ہو رہی ہے یہاں پہ کیا صرف اربان صلی اللہ کی بات نہیں کہہ رہے کوئی دی صلی اللہ میں بھی دودھ و شہد کی نیرے تو نہیں بہہ رہی ہیں یہ تو نہیں ہو رہی ہے کہ ان کا بہت
[00:38:12] Speaker 1: سنگل بہت سنگل پجاب بہت سنگل بہت سنگل تم یہ کہہ رہے ہو میری بات سنو تم یہ کہہ رہے ہو کہ دو کروڑ پچاس لاک بچہ اب نہیں سکول جاتا یہ سارا سندھ کا ہے
[00:38:26] Speaker 2: پجاب کبھی ہے پجاب کا برابر ہے
[00:38:29] Speaker 1: زیادہ
[00:38:30] Speaker 2: ہے وہ تو آبادی بھی بڑی ہے
[00:38:32] Speaker 1: پھر اسٹیٹین کہاں برابر زیادہ ہے میں آپ کو تین مثالے دیتا ہوں گراچی بھرا پڑا ہے ساز وز مجاب سے روزگار کے لیے کیوں وہاں پھر روزگار نہیں ہے اگر روزگار نہیں ہے تو گوڈ گورننس کیسے ہو گئی اگر روزگار نہیں ہے تو گوڈ گورننس کہاں سے آگئی سنیں میری بات آگے چلیں اس کے بعد ساری پرولم موجود ہیں سعود پنجاب میں بہت ہیں آپ سعود پنجاب کہہ رہے ہیں سنیں آگے چلیں جتنے بھی اللیگل بائیگرینٹ جو کشتیاں لڑتی ہیں زیادہ بچے پنجاب کے ہوتے ایک ڈسٹک کی ہوتے گجراز سے آلکوٹ کے آج آپ سے کہہ رہا ہوں خدا کا واسطہ ہے گوڈ گورننس پنجاب اس کی کہانی بند کر دو یہ پوری چیزوں کو خراب کر رہا ہے سب سے بیڈلی مینیج پروونس پنجاب ہے میں نے اگر آج میں پاکستان کی بیلنس شیٹ بناؤں گا تو دیفیسٹ صرف پنجاب کا نکلے گا آج آپ کی جو امپورٹ ہے نا اسی کی کی امپورٹ میں ساٹھ پنجاب کا امپورٹ ہے دکھال لو میں صافیت کر دوں گا آپ کو اور ان کی جو ان کی جو انورد ہے ڈالر کی وہ تیس ہے وہ ہر سال تیس کا لاؤس ہے ڈالر میں تیس بلین کا کیونکہ سندھ کے پاس گیس بھی ہے سندھ کے پاس پورٹ بھی ہے سندھ کے پاس انڈسٹری بھی ہے پلستان کے پاس وارٹر ہے پلستان کے پاس تربیلہ کی رائلٹی ہے تو آپ کس دنیا میں بیٹھو یہی تو سارا قصہ ہے
[00:40:23] Speaker 2: ایکنومک سروے کا ڈیٹا ہے وہ یہ کہتا ہے کہ جو سندھ کی شرائع خاندگی تھی آج سے ٹھارہ برس پہلے وہ اسی جگہ پہ سٹیگنیٹ ہوئی ہے ٹھیک ہے نا کراچی کی جو خاندگی گئی ہے ہماری دو تین پرسن گری ہے کراچی کی ٹھیک پنجاب کی نسبت بڑھ گئی اس لیے گری کراچی کے
[00:40:58] Speaker 1: سارے سرائگی آگے رہ رہے نا
[00:41:00] Speaker 2: دوسرا وہ کہہ رہے جو مجھے
[00:41:03] Speaker 1: یہ بتاؤ سرائگیوں
[00:41:04] Speaker 2: کتنے بادی لاہور میں جو مورٹیلیٹی ہے خواتین کی اس کے اندر بھی سند کے سب سے زیادہ برے فگرز ہیں بچوں کی جو ڈی میں آپ کچھ
[00:41:14] Speaker 1: اور کہہ رہا ہوں میرے گھر میں جتنے لو پیٹ ایمپلائی ہیں پنجاب کیسے گوڑ گوڑن ہوگی یہ سمجھے نہیں آتی تمہاری بات میرے گھر میں جتنے ایمپلائی ہیں سب میرے میں یہ کہتا ہوں کہ پنجاب میں آپ بار بار الٹی کہانیاں پیش کرتے میں یہ کہہ رہا ہوں میرے گھر میں پچیس ہزار روپے میں جوان لڑکی ماباپ جوان لڑکی کو چھوڑ دیتے سرائکی کو تم
[00:41:45] Speaker ?: کس
[00:41:46] Speaker 1: طریقہ میں رہ رہ رہ ایک نہیں ہے کراچی میں خیوہ باد میں مولے کے مولے بڑے آپ کی مولے
[00:41:55] Speaker 2: سے اتفاق کرتے میں
[00:41:57] Speaker 1: پہلی ایک دفعہ اور بات کی تھی تاور سے سرجانی چلے جاؤ
[00:42:04] Speaker 2: اگر
[00:42:05] Speaker 1: ایک فقیر بیہاری یا اردوس پیکنگ یا سندھی مل جائے میں نام غدد ہوگا اگر ایک فقیر مل جائے ایک فقیر ابھی چلتے میں اور آپ چلتے ہر سگنل پہ جائیں گے اور اگر تاور سے سرجانی تک کوئی فقیر مل جائے جو بیہاری ہو یا اردوس پیکنگ ہو یا سندھی ہو نائنٹی نائن پائن نائن پرسن فقیر سرائکی پنجابی پتھان ہوگا کیوں تم لوگوں نے یہ دوار میں بازی بار بار کر کیوں فقیر کہا سے آیا بتاؤ وہ جائے ابھی میں
[00:42:40] Speaker 2: میں چلو ابھی
[00:42:41] Speaker 1: بیسا چلو میں مشاہد ہے ٹرکوں میں بھر کے منجاب سے آتے ہیں فخیر کراچی میں ٹرکوں سے بن کے ہیں جتنے ٹرانس جنڈر ہیں سارے لاہور کے ہیں ہیں نہیں ہیں بتائیں غلط کہہ رہو نہیں تو تم یہ لڑ گوڑنس پنجاب کی کہانی کہ فتم کروگے کہ سندھ کو تم نے گندا کرنا ہے گندا کرتے رہو کرتے رہ کرتے
[00:43:03] Speaker ?: رہ
[00:43:03] Speaker 1: میں خانم
[00:43:07] Speaker 2: اس کی وجہ ہے بہتر جانتے میں بتاتا ہوں اس کی وجہ یہ کہ سندھ کی دار لکومت کتنا زبو حال ہے اور پنجاب کا لکومت ما شاءاللہ ما شاءاللہ کہاں ماشاءاللہ
[00:43:18] Speaker 1: تو کیوں نہیں نوکری کر لے جاتے ماشاءاللہ ہے تو نوکری کیوں نہیں ملتی میں یہ پوچھ رہا ہوں اس کی
[00:43:36] Speaker 2: بجے کہ انکروچمنٹ کرنا کراچی میں نسبتاً بہت آسان ہے یہ بھی غلط ہے یہ بھی
[00:43:48] Speaker 1: غلط نہیں بات یہ نہیں کراچی پرور ایسے ہی نہیں کہتے شہر یہ آپ کی غلط فہمی ہے میرے ساتھ چلیں لاہور کی کچھ عبادیوں میں آپ نے لاہور نہیں دیکھا نا میں یہ کہہ رہا ہوں آپ میرے ساتھ لاہور آپ تو اوریل لائن میں جاتے نا آپ کو نہیں بتا نا میں پرسو چیلوم کا دن تھا میں پنڈی میں تھا چیلوم کا دن پنڈی میں گزارا تھا پنڈی چلے
[00:44:15] Speaker ?: چلے
[00:44:15] Speaker 1: نا اندر چلے پنڈی کے لاکھوں
[00:44:17] Speaker 2: بھول
[00:44:19] Speaker 1: جائیں پھر بیروزگاری دیکھیں گے جالی دوائیں جالی چیز دیکھیں گے پھر ابھی سب کہانیاں ختم کریں یہ ہمارا ڈسکرسیت کا ٹوپک نہیں اس وقت ہمارا ڈسکرسیت ٹوپک یہ ہے کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے کیسے
[00:44:38] Speaker 2: ریفارمز چاہیے کہ لوگ جو ہیں میں اختیار ہوں گراسروٹ لیول پر ڈیموکریسی نہیں
[00:44:41] Speaker 1: ہمارا ہمارا ہمارا ایشو یہ نہیں ہے ہمارا ایشو ہے پہلا ایشو ایکوٹیبل فیڈریشن دوسرا ایشو ہے لنگوستک لنگوستک ریوگنائز کریں لنگوستک ان کلچرلی کلچر ان لنگوستک دنیا میں دنیا میں جتنے بھی ممالک ہیں جہاں نیچرل گروت نہیں دنیا میں جتنی بھی فیڈریشن ہے جتنی بھی پوری دنیا ہے اس کی جو ڈیویین ہوئی ہے نا وہ ہمیشہ کلچرلی جیوگرافی اور لنگوستک پہ ہوئی ہے انگلینڈ میں تین صوبے ہیں بیسی کلی ویلز ویلز انگلینڈ اور
[00:45:27] Speaker 2: سکوٹلینڈ کیا ہے لنگوستک شبر صاحب آپ نے ایک نیا زاویہ دیا لیکن میں پھر کہتا ہوں ایک تو ویجن کی بات کی آپ نے خواب کی اپنے بات کی میں لے کے آتا ہوں کہ جو آج کل بحث چل رہی ہمارے یہاں جو کہ نظام ڈھہ گیا ہے اور ملک چھوٹے یونٹس کی ضرورت ہیں تو آپ کہ اس میں آگے ہمارے سامنے کہ شروعات جو ہیں فیڈریشن کو ٹھیک کرنے سے ہونی چاہیے بعض لوگ یہ کہتے کہ اگر آپ با اختیار مقامی حکومت بلدیاتی نظام کر دیں تو اتنا بڑا ڈیسٹریکشن کی ضرورت نہیں پڑے گی آپ کیا خیال ہے میں
[00:46:04] Speaker 1: آپ سے ایک بات کہنا چاہتا ہوں پاکستان کے تمام لوگوں سے کہ وہ لوگ لفظ استعمال کرتے ہیں اگر اس لفظ کا مطلب نہیں بتاؤ آپ نے ابھی لفظ استعمال کیا با اختیار با اختیار مقامی حکومت با اختیار کسے کہتے ہیں با اختیار کا مطلب ہے کہ سڑک میرے اختیار بے سڑک بنانے کا اختیار میرے پاس ہے سڑک بنانے کے اختیار لے کر میں جھک بان نہیں اگر اس سے بنانے کے پیسے نہیں ہے تو
[00:46:41] Speaker 2: میں اس کا مطلب ہی ہوتا ہے میں جی سیند میں ہوں انتظامی فائننشل
[00:46:46] Speaker 1: اختیار بھی ہے اب آئے نا با با اختیار کا مطلب ہوتا ہے فائننشل ڈیولوشن جی جی میں اس کا اشارہ تو آپ با اختیار کا مطلب لیتے ہیں وہ یہ لیتے ہیں کہ کیا اختیار اختیار کی بات نہیں ہے فائننشل ڈیولوشن ہا فائننشل ڈیولوشن جو ہے نا وہ پاکستان کی بیرو کیسی کے دباز میں نہیں بیٹھ سکتی کیونکہ انہوں نے پہلا چورج جو بیچا تھا
[00:47:13] Speaker 2: وہ
[00:47:15] Speaker 1: اسی کام کا بیچا تھا میں سمجھا جاتا ہوں پھر آپ کو سمجھا جائے یہ کسی زمانے میں فائنشل ہو اگر تو ایس پاکستان کے پاس اپنے پیسے آتے تھے ہمیں اچھے لگتے تھے ہم نے ایک سال میں کہا ہمیں ایک سال کے لیے سیلٹس فیڈیشن میں دے دے 51 میں اس کے بعد آج تک واپس نہیں گیا ٹھیک ہے اس کے بعد ہمارے ایک نوازشریف صاحب جینئس آدمی آئے انہوں نے ایک دن کہا کہ سیلٹس کا ریج ساڑھے بارہ پرسند ہے
[00:47:50] Speaker 2: اور یہ
[00:47:52] Speaker 1: جو آکٹرائے کے ٹھیکی ڈالیں بڑا تنگ کرتے ہر اس پہ سڑک کے اوپر آکٹرائے کو سیلٹ ڈیکس پہ مرچ کر دے تو کراچی شہر کی پیٹ میں چھوڑا گھوپ دیا گیا کیونکہ کراچی شہر مین آکٹرائے کا ریسیور تھا کیونکہ یہاں پوری امپورٹ آمیر دیا صاحب کہ شورا آپ گھوپ کس نے آپ شورا گھوپ کسی اور پیچھے کسی اور بتا رہے رہے ملتے نا اس کے شہر نہیں ملتے تو یوں گھوم گی آتا نا سیدھا آئے گا پھر نفسی میں آئے گا آنے میں سور میں سے پانچ دور جاتے نا تو میری آکٹرائے واپس کر دو مجھے سریف آکٹرائے واپس نہیں آکٹرائے کا دنیا میں کلیکشن ہر دکھا لوکل بڈی ہوتا ہے
[00:48:49] Speaker 2: دنیا
[00:48:50] Speaker 1: میں کہیں آکٹرائے سریڈ ٹیک سے مجھ نہیں ہوتی آکٹرائے کا مطلب کیا آکٹرائے کا مطلب کیا ہے آپ مجھے آکٹرائے ہوتی ہے کہ سڑک بنانے کے لیے خرچہ اس میں ٹرک جو ہے چاہے وہ سونا لے کے جا رہا ہو یا سڑک کوئلہ لے کے جا رہا ہو ٹرک جتی سڑک توڑے گا اس کیلئے آکٹرائے لگتی ہے
[00:49:13] Speaker 2: ہاں تو وزن کتنا ہے ہاں جتا وزن ہوگا تو
[00:49:17] Speaker 1: یہ حکوب کے بچے کرپ لوگ جنہوں نے آکٹرائے کو ویلو کے ساتھ مرز کر دیا سوچیں آپ نہیں سوچیں نہیں ہیران ہیران ہوں گے نا کیوں
[00:49:28] Speaker ?: کیوں
[00:49:28] Speaker 1: کیوں ہیران نہیں ہیران نہیں بے ایمان ہیران نہیں بے ایمان یہ بے ایمان ہیران ہیران آپ ہیں یہ بے ایمان ہیں انہوں نے آکٹرائے کو برچ کیا سیلٹیکس میں یہ بے ایمان ہیں میں تو کہتا ہوں اس کے خلاف فتوہ اندرین شرد کوٹ سے یہ مصلا کرپشن کا نہیں یہ بے ایمانی کا ہے یہ انٹیلیکچول کرپشن ہے کہ آپ نے سب سے بڑا ریونیور سورس اٹھا لیا اس کے بعد آگے چلیں اب آپ بار بار کہتے نا کہ مجھے اس پہ ہسی آتی ہے میرے پاس آتا نا مجھے بلے کے لیے مصطفہ کبھال بھی آئیتا میں نے کہ تم کس طرح کی باتیں کر رہے تو مجھے ایک بات بتاؤ ایک چیز پہلا ہو گیا اس کی تم نے آگے مہا بہن کر دی ہے اس پہ آگیا اربن امووویبل پوپرٹی ٹیکس یہ سیکنڈ سیکنڈ
[00:50:26] Speaker 2: بڑا لارجز کنٹیبوٹر ہو سکتا ہے
[00:50:28] Speaker 1: کنٹیبوٹر ہو سکتا ہے اس وقت جتنا بومبے شہر کا یہ والا ٹیکس ہے نا اتنا تقریبا پاکستان کے ایک صوبے کا ٹیکس بومبے شہر کا جو آئی پی ٹیک ہے
[00:50:46] Speaker 2: نہیں
[00:50:48] Speaker 1: یہ پورا مل جاتا ہے کراچی کو اس پہ کوئی بھی معنی نہیں ہو رہی سنو میں سب جانے ہی کوش کر رہا
[00:50:54] Speaker ?: ہوں
[00:50:54] Speaker 1: یہ پورا کا پورا جتنا آتا ہے مل جاتا ہے
[00:50:56] Speaker 2: ٹیک ہے
[00:50:57] Speaker 1: تو سو روپے آتا ہے سو میں سے سو کراچی کو مل جاتا ہے سو آتا ہے سو میں سے سو کراچی کو مل جاتا ہے ٹھیک ہے مگر یہ سو جو ہے نا یہ سو نہیں ہے یہ ایک ہزار ہونا چاہیے تھا اس کو سو سے ایک ہزار اس کو سو سے ایک ہزار کون نہیں کر دیتا ویسٹر انٹریسٹ نشان دہی گئے ویسٹر انٹریسٹ میں ویسٹر انٹریسٹ کا نام لکھتا شروع کرتے نا آصف علی زرداری بلاول بھٹو مراد علی شاہ سرجیل بیمن اور بھی لکھ لو دو چار عل لکھ لیتے ہیں سار کھوڑو ایک ہی بات ہوگی نہیں حافظ نعیم حافظ نعیم کون نے بیچارہ نہیں اور کون نے جو جو نہیں کرنے دیتا یا کون نے بتائیں جو جو اس کو اس سو کو ہزار کو سو نہیں ہونے دیتا سو کو ہزار نہیں ہونے دیتا آپ بتائیں جو آپ کی سائیٹیز ہیں میں اس کا منسٹر نے چکھوں میں اس چیز کا منسٹر نے چکھوں
[00:52:12] Speaker 2: آپ سنجھائیے پھر میرا جواب نہ مکمل ہوگا
[00:52:14] Speaker 1: جی گیر ہے پاکستان کا تجارتی اور کاروباری تفخہ ان کے پاس ساری پپٹی ہیں وہ پپٹی ٹیکس دینا نہیں چاہتے ہیں آج کراچی کی پوری پپٹی جو ہیں جتری پپٹی ہیں کراچی میں پوری کراچی میں چلے جائیں بزار سارے لے میرے پاس ہے خوچ کے پاس ہے رادلی شاہ کے پاس ہے کس کے پاس ہے
[00:52:49] Speaker 2: کاروباری طبقے کے پاس کبھی
[00:52:52] Speaker 1: انہوں نے پپٹی اربن ایموربری ٹیکس کے بارے میں کبھی ہمارا سپورٹ کیا ہے یہ ویسٹڈ انٹریس ان کا ہے ان کا نہیں ہے اس لیے نواز شریف کی گوڈ گورننس بری نواز کی گوڈ گورننس میں بھی پجاب میں بھی آج تک ایک پپٹی کا سروی نہیں ہوا انیس سو اسی کے بعد آخری مرتبہ پنجاب پنجاب کا آپ کہتے نا بڑی اچھی اربن ایموربری ٹیکس کی مجھے کلیکشن دکھا دیں پنجاب کی لاہور کی دکھا دیں اسی کے بعد سے سروی اسی کے بعد یا پچانوے کے پچاس کے
[00:53:28] Speaker 2: مطلب بیلو تا ویلیو اس پر ٹیکس لگ رہے ٹیکس
[00:53:33] Speaker 1: ہم دیتے ہیں چھو روپے یہ درہ پپٹی ٹیکس جا کے دیکھیں بومبے کا لینڈن میں لوگ پپٹی پپٹی بھیجتے اس کی وجہ سے لینڈن میں پپٹی ٹیکس اتنا زہارہ ہوتا ہے کہ آپ یو آئی پی ٹیکس پپٹی بھیجتے ہیں آپ نے کراچی پپٹی ٹیکس دکھائے کبھی ویلیو کیا بتائیے مجھے صدر کی پپٹی آپ ویلیو دیکھیں گے آپ حیران رہ جائیں گے تو یہ کس نے مزاق بنایا ہو ہے یہاں پہ دی ایچے میں لوگ رہتے ہوں تو اچھے خازے رہتے دی ایچے تو پھر بھی تھوڑا ریجیتیبل ہے مگر دی ایچے دی ایچے کا بھی آج پپٹی کی ویلیو سے کم از کم ون فورٹ بھی نہیں ہے آپ کریں پپٹی ٹیکس کو بڑھائیں دیکھیں بندے کے مطلب یہ سارے سب سے آگے آگے کون جلوس پہ چلے گا بات یہ نہیں ہے آمیر ضیا صاحب چھوڑ جو آپ کہہ رہو نا جو آپ چھوڑ چھوڑ چھوڑ کہتے ہو نا وہ چھوڑ نہیں ہو وہ تو سامنے آگئے بچارے جو چھوڑ ہے نا وہ تو یہ جو کریکشن نہیں کرنے چاہ رہا وہ کون ہے میں نے آپ کے سامنے دو رکھا نا آپ با اختیار بلدیادی دارے آپ نے بڑی اچھی بڑا اچھا نفذ بول کیا با اختیار بلدیادی دارے انسامی اور فیننچل اتھورٹی ہو جائے اچھا ان کے پاس سالوں کے بعد دو ہی رستے تھے اوکٹرائے اور یو آئی پی ٹی دونوں کو آپ نے بند کر دی پھر کیا کہاں سے وہ کہاں سے رہیں گے پیسے کراچی جیسے شہر میں موٹر ویہیکل ٹیکس کیا موٹر ویہیکل ٹیکس موٹر ویہیکل ٹیکس تو پھر بھی آ رہا ہے نا میں یہ عرض کرنے ہی کوشش کر رہا ہوں نا کہ اربن اموبرٹی پوپرٹی ٹیکس کراچی اور بومبے کا کمپیر کر لو یا دنیا میں پلیز ٹائی تو انٹرسٹینڈ دنیا میں شہروں کی جو عبادی ہوتی نا اربن اربن کی جو عبادی ہوتی ہے اس کا ایک ہی ٹیکس ہوتا ہے یہ یو آئی پی ٹی اربن اموبرٹی ٹیکس یہ آپ نے بند کیا ہوا ہے کیوں نہیں کرتے آپ کو پتہ ہیں انگلینڈ جیسے معاشرے میں انہیرنس انہیریٹنس ٹیکس ہے ہاں وہ بہت بردست ٹیکس کیوں نہیں ہے یہاں پہ کیوں نہیں ہے ہمارے ہاں کیوں نہیں ہے کیوں نہیں ہے آپ مجھے سمجھا دے نا آپ گفٹ کر سکتے ہیں آپ مجھے مقصد کہنے کا یہ ہے کہ آپ کو آپ کہہ رہے نا انتظامی چیزیں صحیح کریں تو آپ کل سے شروع کریں کہ پورے پاکستان کی بڑے شہروں کی آپ جیو فینسنگ کریں ہمم آدمی ریٹ بھی سیکھ رہاں میں آپ کو اپنا ذاتی کے ذات ادھاتا ہوں میں نے ایک دن جب ریٹیلر کے خلاف میری بوہم چل رہی تھی تو میں نے ایک ایک بندے کو کسلیٹ کو بلایا ہمم اور اس کو کہا کہ اسلام آباد کے دو سیکٹرز کا ہمم دکارے ڈھونڈنے کے لیے تو مجھے جیو فینسنگ کر دیں ہمم ایک ایک کونٹرکٹر کو بلایا کہ مجھے مجھے آپ جیو فینسنگ کر دیں دو سیکٹر کی سب آباد کی ہمم جو کراچی شہر ہے نا ہمم اس کا شہر اگر آپ دونے گا دنیا میں تو وہ ہے منیلا اچھا گندہ بھی اسی طرح ہے بیٹرو منیلا جو ہے نا وہ تقریبا کراچی والا حال ہے منیلا میں بھی یہ حال تھا تو منیلا نے جیو فینسنگ کرائی پاپرٹی ٹیکس کی کہ کتھی کون سی اوپر سے کرائی سیٹ لائپ سے ہمم تو وہ والا کونٹرکٹر کو میں نے کہا یار منیلا والے کو پکڑو اور اسلام آباد کی جو فینسنگ کراؤ تو میرے ہمارے ایبی آر کے دروفائلے والے جاتی ہے وہ دو دن بعد مجھے ایک بہت بڑے گھر سے ٹیلی فون آیا ہے سر یہ جو فینسنگ والے ایک سائل بند کر دے خدا کا باستہ یہ کیا کر رہے ہیں آپ کیا کر رہے ہیں آپ میں نے کہا نہیں سر یہ تو نہیں کریں دفعہ کریں آپ اور کام کریں اور میں نے وہ شاید ایف ایٹ فور یا ایف سکس فور کو کشک کرتے ہیں میں نے کہا اس کی جو فینسنگ کرو کہ یار یہ آپ نے کہا ہاتھ ڈال دیا جیو ایف سکس فور کے ایف ایٹ فور کا آپ جو فینسنگ کر رہے ہیں یعنی کہ جو پروپرٹی خریدی بیچی جائے
[00:57:32] Speaker 2: ہے اس پہ جائز ٹیکس ہو اور سالانہ ٹیکس ہو نہیں وہ غلط ہے دیکھیں
[00:57:36] Speaker 1: ہیں کیا کیا کس طرح سے اس کا پروپرٹی ٹیکس ہوتا ہے اس کی سالانہ ویلیو کے اوپر وہ ہوتا ہے اس علاقے کی پروپرٹی مینٹینس کے لیے کونسپ کیا ہے ہاں کہ آپ کا یہ گھر ہے نا تو اس گھر کے آسپاس سڑک ہے فوتپات ہے پانی آ رہا ہے پانی کے لیے نہیں لائن ہے اس کی کوسٹ آئے گی نا تو یہ کوسٹ آپ کو بھی رکھنی ہے دنیا میں ہر جگہ ہوتا ہے اور دنیا کے تمام بڑے شہر اس پہ چلتے ہیں اور امریکہ میں جب لوگوں کو بچے ہوتے نا تو وہ بچوں کو اس جگہ پہ رکھتے ہیں جہاں اسکول جو ہوتے نا ان کاؤنٹیز کے اچھے ہوتے ٹیکس آدھا ہوتا ہے تو لوگ شروع کے زندگی میں الگ رہتے ہیں باس کی زندگی میں الگ رہتے ہیں جب وہ کرکنگ ہوتا ہے تو کیونکہ وہ سارا ریلیشن یو آئی پی ٹی کے ساتھ ہے میرا آپ سے سوال ہے آپ جب گورننس گورننس کی باتیں کرتے ہیں تو آپ مجھے پاکستان کا اربن ایمورپورٹی ٹیکس کی ارننگ دکھا دیں چاروں صبحوں کی بڑے شہروں کی برائے نام ہیں برائے نام ہیں برائے نام ہیں کوئی قصہ ہی نہیں ہے یہ بڑی بڑی ملنگیں بن رہی ہیں ان کی ویلویشن کیا ہیں میں آپ کو کہہ رہا ہوں کہ یورپ میں امریکہ میں پاپٹیاں بیج دی جاتی ہیں کہ بڑی ٹیکس کہاں سے دیں گے ہمیں تو کنسر ہی نہیں ہے کون سی بڑی ٹیکس کیا چیز بڑی ٹیکس کیا چیز ہوتی ہے چھوڑے چھوڑے گھروں کا مہارہ دو سو چار سو پانڈ ہوتا ہے وہاں آپ مجھے ایک بات بتائیں امانداری سے بتائیں چلے پانی کراچی میں تو پانی نہیں آتا لاہور میں پانی کی کاؤس کیا ہے کراچی میں تو بہت مہنگا ہے بھئی نہیں نا وہ تو ہم نے کیا کیا ہے لوگوں کو افیم کا عدی بنا دیا ہے پانی وفت پہلے گیزی وفت
[00:59:35] Speaker 2: گیزی وفت ہی ہاں دو سو روپے بلا رہے دھائی سو روپے آ رہے
[00:59:37] Speaker 1: اب اب اس اس کا رزیزہ آپ دیکھ رہے ہیں نا یہ پاکستانی بلکل اسی طرح ہیں جو چرسی ہوتا ہے چرس شروع پلالنشن کر دی آپ نے چرس پلالنشن کر دی پانی وفت دے دی اس کو اور گیس وفت دے دی اب اب جب پیسے ختم ہوئے گیس کے اب آپ کو آپ کو رولا پڑ گیا ہے سیبت یہ ہے نا کہ آپ نے گیس ساری ضائع کر دی چولوں میں ٹھیک ہے پانی آپ دیکھ لیں آپ جو رہی سہی تھی وہ گاڑیوں میں ضائع کر دی اب دوبارہ کر رہے ہیں یہ میرا سوال سے بھی یہ ہے کہ با اختیار با اختیار صوبائی ادارے یہ ارلیونٹ ٹام ہیں آج بھی با اختیار ہیں وہ آج بھی با اختیار ہیں مگر ان کی جو ارڈنگ ہے اس کے آگے آپ نے کلچ لگا دیا ہے کلپ لگا دیا ہے کہ وہ کمائی نہیں سکے آپ نے ان کی آگے زیرو لگا دیا ہے بسیکلی کراچی شہر کے آگے زیرو لگا دیا اور ٹرائے کے سروں اربن نوبرل ٹیکس آپ نے بند کر دیا پورا شہر بند کر دیا ہے اچھا کون ہے یہ یہ کون کر رہا ہے جی آپ کے ٹریڈر بزنسمند دکاندار سب کا اپنا اپنا حصہ
[01:00:52] Speaker 2: ہے میں خلال میں نہیں آپ مجھے بتا ہے پوپنٹی کا کتنا
[01:00:55] Speaker 1: حصہ کتنا حصہ گورنمنٹ کے پاس ہے کتنا حصہ فوج کے پاس ہے کراچی شہر کی پوپٹی کا دیکھیں try to understand کراچی شہر میں پورا شہر میں پوپٹی ہے نا اس پہ کتنی پوپنٹی ٹیکس دیا جا رہا ہے اور کون دے رہا ہے کون دے رہا ہے درست دیکھیں یہ ساری چیزیں
[01:01:19] Speaker 2: شہر صاحب اسی میں خلال میں یہاں پر اگر ہم اور آپ کنٹلیوٹ کریں اپنی گفتگو کو کہ لبے لباب یہ ہوا کہ بھئی اس پہ ہم متفق ہے کہ نظام ڈیلیور نہیں کرنا اور اس میں اصلاحات کی ضرورت ہیں اور اصلاحات کے لیے نہیں اصلاحات کی ضرورت نہیں ہے چینجز
[01:01:34] Speaker 1: کی ضرورت ہے نظام منحدم ہو چکا ہے اب نئی شٹرنگ لگے گی نئی نئی پلڈنگ لگے گی اب یہ آپ کہنا ہے کہ اصلاحات
[01:01:45] Speaker 2: is a wrong word حجر چلے ری ارگنیزشن کی ضرورت ہے ری سیٹ کرنے کی ضرورت ہے نا حجر شبر صاحب اتنی باتیں تو ہو گئیں اب آپ کی خیال میں اس کی آپ ریکمنٹ کیا کریں گے آپ کی تجویز کیا ہوگی کہ کس طرح سے آگے بڑھا جائے کہ اگر آپ کو ڈیوالف کرنی ہے طاقت آپ کو صوبے بنانے آپ کو بایختیار بلدیات بنانے تو بات کہاں سے شروع ہو گی انڈیا نے جب یہ کیا
[01:02:07] Speaker 1: تھا ہم تو جس کو سب نے accept کیا نا وہ کمیشن پولٹیکل نہیں تھا میری سیڈیشن آپ کو آپ کو یہ ہے کہ اس کو پولٹیکل ڈیویٹ سے ہٹا دے اور ایک چیف جسٹس فارمر چیف جسٹس کی سربراہی میں یا پریزنچ چیف جسٹس کی سربراہی میں چار پانچ سات اسٹیک ہولڈر لے کے پرویننٹ ایک کمیشن بنا جائے برائے جائے to give a report for the reorganization of administrative unit of پاکستان یہ آپ یہ ریبیٹ ٹی وی پروگراموں کی یا پوڈکاس کی نہیں ہے ہم ہم انڈیا نے بھی یہی نہیں کہ دنیا میں کہیں reorganization of state سیمیناروں سے نہیں ہوئی ہے کہیں دنیا میں کبھی reorganization of state assemblyوں نے نہیں کی ہے پہلے assemblyوں کے پاس کاغذ آیا ہے بن کے دیکھیں assembly search ہو کر ہاں ایک تو میرا selection آپ کو وہ یہ ہے کہ کمیشن بنائے جائے high powered in these in the leadership of former or the president chief justice of پاکستان with the very reasonable renowned people from پاکستان five six people and ask them to give a suggestion کہ بھی ہمارے صاحب سے linguistic ہے یا ہمارے صاحب سے administrative ہے یا ہمارے صاحب سے local body ہے اور اس کے بعد وہ جو کمیشن کی report ہو وہ کمیشن کی report ہر assembly میں جائے اب میں بیٹر سمینار میں دخلی کر رہا ہوں کوئی اور سمینار میں دخلی کر رہا ہے ادھا ٹی وی پروگرام میں لگا ہوا ہے کوئی اس پہ لگا ہوا ہے یہ کوئی طریقہ نہیں ہے کام کرنے کا اور سے polarization میں بھی ضافہ ہو رہا ہے اس سے جو بحث ہاں بحث اور غلط آپ یہ کہہ دیں کہ کل میں کمیشن منا رہا ہوں پریزنڈ صاحب کمیشن منا رہے ہیں اور یہ کمیشن جون تیس ڈیسیمبر تیس تک اپنی report دیتے گا انڈیا نے تین کمیشن منائے تینوں کمیشن نے الگ الگ الگ report دی مگر آخر میں کسی تیجی پہنچ کے وہ اب آپ کہہ رہے ہیں متفق ہو جائے متفق کس بات پر رہوں گے اب ٹی وی پروگرام پر تو متفق نہیں ہو سکتے نا یار کہ آپ نے کہا متفق ہو جائے تو آپ نے ٹی وی یا سیمینار یا ڈسکیشن یہ تو دنگ پاوالا قصہ ہے نا تو آپ کو اگر رستہ نکالنا ہے نا تو آپ ایک ہائی پاور کمیشن کی ڈیوانڈ کریں اور وہ ہائی پاور کمیشن نہیں کہہ سکتا ہے ہم سمجھتے ہی چارٹ پرویس ٹھیک ہے ختم دو سال بعد دوبارہ سٹیڈی کر لیں گے یہ کوئی ایسی جیس تو نہیں ہے نا کہ ہمارے کوئی کسی زندگی موت تو نہیں ہے نا آپ دو سال بعد ہاں جا اتنے عرصہ چلا پاکستان مزید چل جائے گا دوبارہ فیصل لگ رہے ہیں اب مارشاللہ آرڈر کے صورتوں نہیں مطلق سیئی نا صبح جو پہلے ہماری روایت رہی ہے ہم نے مارشاللہ آرڈر کے صورت کراچی کو الگ کیا مارشاللہ آرڈر کے صورت کراچی کو ملا دیا درے صورت ملا دیئے عوام کی صحیح ہونی چاہیے لوگوں کی صحح ہون کے مفاد کیا سیاں ہوا نہیں پہلے ہونی سر ایکسپرٹ اپینین اور اسٹیڈی اسٹیڈی اسٹیڈی ہونی چاہیے ایکسپرٹ اپینین اور اسٹیڈی ہو کمیشن بنے اور وہ کمیشن کی ریپورٹ اسمیلی میں جائے اور پاس ہو جائے جو انڈیا نے کیا کر دے اس طرح یہ سپل طریقہ یہ ہے مجھے بھی بلا لیں میں بھی اپنی پائنٹ اویو سمجھا دوں کمیشن کو آپ کو بھی بلا لیں آپ بھی اپنی پائنٹ اویو کمیشن کو سنا دے جو کمیشن فیصلہ کر دے ٹھیک ہے کسی کی بات تو ماننی پڑے گی تھا اور خران بھی یہ کہتا ہے وہ شورہ بہنہ ہوں یہی
[01:05:19] Speaker 2: کہہ رہا ہے تو بھائی اسی پنچلائی کے ساتھ ہم کنٹلیوٹ کرتے ہیں ناظرین آپ نے شبر صاحب کی گفتگو سنی ان کی تجویز کے بعد میرا کچھ کہنا میرے خیال میں مناسب نہیں ہے اگلے پوڈکاستر کیلئی اجازت خدا حافظ