About this transcript: This is a full AI-generated transcript of National Government on the Cards? KP Budget Standoff & Shahbaz Sharif’s Explanations — Third Umpire from Mustaqbil , published June 19, 2026. The transcript contains 7,385 words with timestamps and was generated using Whisper AI.
"اسلام علیکم جی، سرڈ امپائر دیکھنے کا شکریہ آج نیشنل اسمبلی میں وزیراعظم شہباد شریف ایکسپلینیشنز دیتے رہے، وضاحتیں دیتے رہے اسی چیز پر جو کل ہم بات کر رہے تھے، تفصیل میں بات کریں گے اس کے علاوہ آج انہوں نے اپوزیشن کو انگیج کرنے کی کوشش کی فاٹا کے حوالے سے کچھ مسائل تھے، ان کے حل کی یقین دہانی تو..."
[00:00:00] Speaker 1: اسلام علیکم جی، سرڈ امپائر دیکھنے کا شکریہ آج نیشنل اسمبلی میں وزیراعظم شہباد شریف ایکسپلینیشنز دیتے رہے، وضاحتیں دیتے رہے اسی چیز پر جو کل ہم بات کر رہے تھے، تفصیل میں بات کریں گے اس کے علاوہ آج انہوں نے اپوزیشن کو انگیج کرنے کی کوشش کی فاٹا کے حوالے سے کچھ مسائل تھے، ان کے حل کی یقین دہانی تو کروائی دوسری طرف سحیل آفریدی جب بجٹ سپیچ کر رہے تھے کے پی اسمبلی میں تو انہوں نے یہ کہا کہ چند روز پہلے جو خبر آئی تھی اور ان کی ملاقات کی تصویر بھی آئی تھی کہ ترقیاتی بجٹ کے پی کا بھی کاٹ کے وفاق کو دیا جائے گا دفاع کے لیے، تو انہوں نے کہا کہ یہ میرے بس میں نہیں ہے، جب تک عمران خان صاحب سے ملاقات نہیں ہوتی وہ اس پر گرین سگنل نہیں دیتے تب تک وفاق کے لیے ہم فنڈز نہیں دے سکتے اس کے افیکٹس آگے کیا آئیں گے اور پھر قومی حکومت کی باتیں جو کافی عرصے سے یہاں پر ہم بھی کر رہے ہیں ان میں جو ڈیولپمنٹس ہیں آگے معاملات نئے سٹرکچر کی طرف کیا بڑھ رہے ہیں ان پر کچھ بات ہوتی ہے اور پھر جنگ کے علاوہ جنگ کے بعد یہ آج وزیراعظم کی سپیچ میں بھی تھا کہ جس سے ایک تاثر یہ بن رہا ہے کہ اب پاکستان کی جو معاشی مسائل ہیں ختم ہو جائیں گے یہ ہم نے جو کامیابی حاصل کی ہے سفارتکاری والی اور میڈییشن والی اس کے بعد بس آگے ڈالروں کی ریل پہل ہے اسلام علیکم حبیب صاحب دیدہ ور دیدہ پیدا دیدہ ور ہوتا ہزاروں سال نرگس اپنی بینوری پر روتی رہی اچھا
[00:01:27] Speaker 2: یہ تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے علامہ اقبال کے شعر سے 26 نومبر کر دی
[00:01:34] Speaker 1: اپنی بینوری پر روتی رہی ہاں جی بڑی مشکل سے چمن سے دیدہ ور پیدا ہوتا ہے دیدہ ور کون ہے نرگس کون ہے
[00:01:44] Speaker 2: نرگس کے حوالے سے میرا خیال ہے کہ خود ان کا اشارہ اپنی طرف ہے اور دیدہ ور سے ان کا اشارہ فیل مارشل کی طرف سے آپ کا خیال ہے جی کیونکہ اس کے بعد میں نے جو گفتگو اس وقت یوٹیوب پہ پڑھی ہے جو میں نے سنی ہے اس شعر پر انہوں نے جو ایک حملہ کیا اس حملے کے نتیجے میں جب شعر کے پر خچے اڑ چکے تھے تو اس کے بعد انہوں نے پھر فیل مارشل کا ذکر کی
[00:02:08] Speaker 1: اچھا اچھا وہ ایک سردار جی تھے سر میں صرف اپنے سردار بھائیوں سے بڑی مارشل کی سے صرف چلنے کوئی اور تھے وہ چھت پر کھڑے تھے تو اچانک کسی بندے نے آکے کہا انہیں کہا کرتار سنگھ کرتار سنگھ نرگس نے خود کشی کر لی اس نے بھی ست سے چلانگ لگا دی ترمیان میں آکے اس نے کہا یہ نرگس کون ہے گرنے لگا دینا کرتار سنگھ کون ہے دیدہ بر کون ہے بارار سر آپ مزاک میں لے گئے ہیں ایک بات تو یہ ہے جو فیل بارشلہ ان کی دیدہ بری کا ثبوت مل گیا رہا اچھا ہاں وہ ٹھیک ہو گیا وہ ٹھیک ہو گیا یہ وہ کہہ رہے ہیں کہ مجھے کریٹ لینے کا کوئی شوق نہیں ہے جنہوں نے بتایا کہ چند لمحے ایسے بھی آئے کہ میں بھی کمرے میں ہوتا تھا اور فون بجرے ہوتے تھے اور وہ یوں لگتا تھا کہ ابھی کی ابھی معاملہ ہو گیا سیٹل لیکن جیسے اللہ تعالیٰ کو منظور تھا وہ اب جا کے معاملہ سیٹل ہوا
[00:03:07] Speaker 2: تو آپ نے ایک تقریر نوٹ کی تھی اور اس میں بتائی بھی تھی پروگرام میں وہ محسن نکوی صاحب کی جو انہوں نے کہا تھا کہ اصل کریڈٹ کہاں پہ ہے تو کل کی تصویر کے بعد اس تصویر کے بعد ہر جگہ سوال اٹھا تھا کہ بھائی یہ تصویر اکیلے کیوں آپ ذرا چار لوگ بیٹھ سکتے تھے ہی کٹھے اور آپ پتہ نہیں وہ تقریر اس تصویر کے بعد ہوئی تھی یا پہلے ہوئی تھی یا پیرلل ہوئی تھی جو بھی تھا تو اس تقریر میں بھی یہ وضاحت تو دے دی گئی تھی یعنی محسن نکوی صاحب کی کہ جناب یہ جو کریڈٹ ہے وہ کہاں پہ جا رہا ہے اور کس نے یہ سارا کپتانی کا کردار ادا کیا ہے اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ آخر کار کپتان کو ایک کریڈٹ ملتا ہے
[00:03:45] Speaker 1: ہم نے تو کل بھی یہ بات کی اور دنیا جانتی ہے کہ بنیادی طور پر کریڈٹ لائز جی ایکزاری
[00:03:50] Speaker 2: تو اس کے بعد جب کل ان کی تصویر سے وزیراعظم صاحب کی یہ تاثر ابراء کے وزیراعظم دراصل سارا کام ہونے کے بعد اپنی اکیلے کی تصویر ہاتھ میں پکڑ کے وہ معاہدہ تو دنیا کو ثابت کرے ہیں کہ it was me تو آج پھر انہوں نے لو کر دیئی تصویر انہوں نے as chief executive of پاکستان
[00:04:12] Speaker 1: دیکھئے اکبر ایک تو یہ ہے چیف executive نے تصویر لگا دیا تو پھر ٹیل لگا دیا
[00:04:16] Speaker 2: ایک تو یہ ہے کہ وزیراعظم صاحب کو اچھی طرح پتا ہے کہ وہ ایوان وزیراعظم میں کس طرح مقیم ہے اور انہیں یہ بھی اچھی طرح پتا ہے کہ آٹھ فروری دوہزار چوبیس کو کیا ہوا تھا اچھا انہیں یہ بھی پتا ہے کہ فارم سینٹالیس اسی وقت طاقتور ہوتا ہے جب اس کے پیچھے فارم پینتالیس بھی ہو تو جب اس طرح کا chief executive ہوگا تو اس کو جگہ جگہ صفائیاں دیتے رہنا پڑے گا وہ کبھی یہاں صفائی دے گا کبھی وہاں صفائی دے گا وزیراعظم کے وزیراعظم کا منصب بڑا ٹکڑا ہے لیکن موجودہ وزیراعظم کی سیاسی کمزوری اتنی ظاہر و باہر ہے کہ پوری دنیا دراصل سید آسیب ملیر صاحب سے رابطہ کرتی ہے نہ کہ ان سے because everybody in the world knows کہ طاقت کہاں پر ہے درست تو اس وجہ سے وزیراعظم کی حیثیت اس میں نو ڈاؤٹ ایک رسمی سی تو ہے حالانکہ پاکستان کے اندر وزیراعظم کی حیثیت چیف ایگزیکٹیف کی ہے لیکن وزیراعظم شہباز صریف صاحب نے اپنی حیثیت خود غالباً کسی بھی وجہ سے انہوں نے سیریمونیل کر لی ہوئی ہے
[00:05:19] Speaker 1: ایک چیز صرف عجیب و غریب سی ہوئی ہے انہوں نے سوہیل آفریدی صاحب کی آج اپنی سپیچ میں تعریف بھی کی ہے اور وہی اسی حوالے سے جو چند روز پہلے میٹنگ کی جس کی تصویر بھی سامنے آئی ہے اور پھر کہ جناب وہ جو فنڈز جو وفاق کو چاہیے ہیں بجٹ کی مد میں اس کی بیفنس کی مد میں چاہیے وہ ترقیاتی بجٹ یہاں سے صرف سینڈز بلوچستان باقی تین سپوں کا کٹ گئے سوہیل آفریدی صاحب نے آج جو تقریر کی ہے وہ کہہ رہے ہیں کہ نو فنڈز فور سینٹر آپ کو یاد ہوگا وہ کہتے ہیں عمران خان صاحب سے بات ہوگی یہ ان کا پرراغٹیو ہے وہ ڈیسائیڈ کریں گے تو وہاں پہ پہ پہلے وہ بات ہو چکی ہے وہ اسے تعریف کر رہے ہیں اور ساتھ یہ دونوں پیرلل چلی ہیں چیزیں وہاں پر ایک بات اور بھی ہوئی تھی
[00:05:57] Speaker 2: کہ انہوں نے وہیں پر کہا تھا سوہیل آفریدی لیکن کہ میری عمران خان صاحب سے ملاقات پہ کروائی جائے بلکل بلکل کہا تھا دوسری بات یہ ہے کہ آپ طرح دیکھئے وہ کون سا وزیراعلا ہے پنجاب میں یا سندھ میں جس نے اپنے لیڈر سے مشورہ نہیں کیا اور کیا یہ وزیراعلا کی سطح پہ مشورے ہوئے تھے یہ مشاورت عالی ترین سطح پہ ہوئی تھی اس میں آصف علی زرداری صاحب خود شامل تھے اس میں بلاول بٹو زرداری صاحب شامل تھے اس میں نواز شریف صاحب اور شباز شریف صاحب کی مرضی شامل تھی اگر ایران کے معاملے پر خان کی کیا غلطی ہے یا عمران خان سے آپ کیوں نہیں ملنے یا جب وہ سزای آفتہ تھے
[00:06:40] Speaker 1: آصف علی صاحب وہ پچاس روپے کی سٹامپ پہ انگلینڈ چلے گئے تو آپ وہاں پہ جا کے ان سے مشورے کیا کرتے تھے وہاں پہ جا کے مشورے کرتے تھے
[00:06:47] Speaker 2: تو پوری کی پوری حکومت وہاں چلی جاتی تھی تو آج اڈیالہ میں یہ کیوں نہیں سوہیلا فریدی صاحب کیوں نہیں جا سکتے تو لہٰذا ایک پولٹیکل بیلنس پیدا کرنے کے لیے آپ کو یہ تو کرنا ہی پڑے کا تو اس میں جب یہ فیصلہ خود وزیر آزم نے اکتنہا نہیں کیا بقول ان کے خود صدر نے کیے صدر نے اپنی پارٹی کے سربراہ کے طور پر یعنی پارٹی کے سربراہوں نے یہ فیصلے کیے تو وزیر آلہ کا تو اس میں سوال ہی نہیں اٹھتا تو آپ یہ سارا بوجھ ڈالنا چاہ رہے ہیں سوہیلا فریدی کے اوپر کہ سوہیلا فریدی صاحب یہ کام کریں تو سوہیلا فریدی صاحب ہو سکتا ہے یہ کریں اور عمران خان صاحب سے ملے اور عمران خان زیادہ پیسے لے کے آ جائے
[00:07:27] Speaker 1: ٹھیک ہے نا یہ بھی تو ہو سکتا ہے لیکن یہ تو چیز تقریباً واضح ہو رہی ہے کہ ان سے نہ صرف وزیر آزم بلکہ وہ جو موسن نقبی کی ملاقات اسی روز ان سے ہوئی تھی پشاور کے اندر ہم نے یہاں پہ ذکر بھی کیا تھا مجھے یوں محسوس ہو رہا ہے اس میں سے آپ اخذ یہ کرتے ہیں کہ ان سے وعدہ تو ہوا تھا کہ ملاقات آپ کی کروائی جائے گی بات چیت آپ کی کروائی جائے گی لیکن وہ نہیں ہو پائی
[00:07:47] Speaker 2: دیکھئے نہیں ہو پائی تو ظاہر ہے جو جس بنیادی سوال پر جواب لینا تھا عمران خان صاحب سے تو وہ بنیادی سوال انہوں نے پھر اسی طرح چھوڑ دی ہے بجٹ میں انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے یہ حصہ جو ہے پھر ہم اس کو چھوڑ دیتے ہیں یہ ہم پھر آگے جا کے وزیراعظم صاحب اپنے عمران خان صاحب سے
[00:08:06] Speaker 1: بات کر لیں ٹھیک ہو سکتا ہے دو چیزیں اس کے اندر ہو سکتا ہے ملاقات ہو جائے اور یہ معایدے والے کے بعد مجھے تو بیسے تبقہ تھی اور ابھی بھی ہے کہ شاید اس کے بعد آپ کو ملاقات ہو جائے
[00:08:14] Speaker 2: بجٹ کا معاملہ ہے اس پر ملاقات ہونی چاہیے سویلہ فردی صاحب کو جانا چاہیے وہاں پہ نہیں نہیں بالکل جانا چاہیے اظام الاسلام کو بھیج دیں تاکہ وہ وہاں سے ہدایات لے لیں جب ساری دیکھیں یہ جو فیصلہ بجٹ ہے بجٹ تو ہوتے ہی پولیٹیکل ہے حکومت کا سیاسی امتحانی ہوتا ہے نا اور سیاسی ترجیحات کا اظہار ہوتا ہے تو جب آپ نے سیاسی ترجیحات آپ نے بدل نہیں ہے تو آپ کو اپنے اپنے لیڈرز جن کے نام پہ ووٹ پڑے ہیں ان کا پاس جانا پڑے گا نا کیونکہ لوگوں سے ووٹ اور لوگوں کو جواب تو انہوں نے دینا
[00:08:45] Speaker 1: درست بات ہے میں گزارشیں کر رہا تھا کہ ایک تو چیز یہ ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اب ملاقات ہو جائے لیکن ایک دوسری سائیڈ بھی ہے اس کی جسے دن وفاقی بجٹ پیش ہوا تھا اور اس میں یہ دیفنس بجٹ میں اضافے کی بات ہوئی تھی اور پرسوبوں کے ترقیاتی بجٹ کو کٹنے کی بات ہوئی تھی فنڈ کو کٹنے کی بات ہوئی تھی سب نے تقاریر اکروس یہ جو ٹریجری آئل ہے اس میں سر بندے نے انڈیا پاکستان مارکہ حق اور پھر ہمیں کیا ضروریات ہیں ڈیفنس کے بجٹ کو بڑھانے کی اس کی وجہ کیا ہے اس طرف ساتھ معاملہ کیا تھا میں صرف اس کو اس angle سے دیکھ رہا ہوں کہ کیا اس کے اگر ایک طرف تو ہو گیا ملاقات ہو جائے دوسری طرف ذہن میں یہ ہے کہ ملاقات تو نہیں کرانی اب اس کے اور طریقے سے ہم لے لیتے ہیں پھر پیسے ریپرکشنز کی بات کرو مثال کے طور پر امرجنسی مثال کے طور پر گویرنر رول
[00:09:25] Speaker 2: میرے نہیں خیال وہاں تک کوئی جائے گا دیکھیں اگر جانا ہے تو پھر تو دیکھیں پاکستان کے اندر چکے بہت سارے فیصلے طاقت کے زور پر ہو جاتے ہیں مثال کے طور پر آزاد کشمیر کی صورتحال میں کیا ہے مطلب صرف یہ ہے کہ طاقت کہ طاقت ایک طرف آزاد کشمیر کی بھی بات کہ طاقت کے حوالے سے جناب نہیں ہم نے تو باننے نہیں ٹھیک ہے پہلے آپ سرنڈر کریں پہلے آپ سرنڈر کریں مطلب حکومتوں حکومتیں تو لوگوں کو سرنڈر کرنے کے لیے نہیں کہتی لوگوں کے سامنے حکومتوں نے سرنڈر کرنا ہوتا ہے تو جب آپ یعنی یہاں پہ جب طاقت کا معاملہ ہے طاقت کو آپ اس طریقے سے استعمال کریں کہ تو پھر کر لیں تو یہی تو ہو رہا ہے نا دیکھیں اس پہ تو اس پہ تو وہ تو آرگومنٹ ہو ہی نہیں سکتا نا جہاں پہ طاقت آ جائے گی آپ نے میری کنپٹی پہ بندوق رکھ لی تو پھر کیا مذاکرات ہوں گے
[00:10:13] Speaker 1: ٹھیک ہے پھر تو آپ جو کہیں یہ مال لوں گا میں اچھا وزیراعظم آج جب when he came to the assembly تو وہ سیدھا چلے گئے opposition benches پہ اچھاکزئی صاحب تھے عصد کیسر صاحب تھے بینیسٹر گوھر تھے بڑے اچھے طریقے سے ان سے ملے اور پھر جو ریپورٹ ہوا کہ ان کی کھڑے ہو کے جو گفتگو وہ ان سے کر رہے تھے وہ خوشگوار محول میں گفتگو ہو رہی تھی اس میں انہوں نے فاتح کے حوالے سے کچھ بات کی کہ وہاں پر حالات کافی خراب ہیں اور کچھ فنڈز ہیں جو ریلیز نہیں ہو رہے رانہ سناؤلہ صاحب ہو گئے اور دوسرے امیر مقام صاحب ہو گئے وہ ایک کمیٹی سی بنا دیتے ہیں یہاں سے آپ دو تین بندے دیتے ہیں اور وہ بات کریں گے پھر اس کے بعد رانہ سناؤلہ صاحب کے ساتھ جو گفتگو ہوئی رانہ صاحب نے آ کے باہر کہا کہ مذاکرات کی جو ہم نے اس میں ایک مصمت پیش رفت ہے تعریف کی انہوں نے کہا کہ opposition کے ساتھ جو بات چیت ہوئی ہے that's a positive development اس development کا کیا بننا ہے
[00:11:07] Speaker 2: دیکھئے ایک تو یہ ہے کہ سب سے پہلے development وہ ہوتی ہے جو دونوں پارٹیاں کہہ رہی ہیں ہاں یہ تحریک انصاف نہیں بولی تحریک انصاف نہیں بولی محمود خانہ چکزئی صاحب نہیں بولے اور جو رانہ صاحب یہ کہہ رہے ہیں یہ اسی طرح کی تعریفی اسی طرح کے تعریفی کلمات اس سے پہلے کئی ملاقاتوں کے بعد بھی فرما چکے ہیں ٹیلویجن کے اوپر بھی کہہ چکے ہیں سب چیزیں ہو چکے ہیں تو لہٰذا حکومت یہ کہے کہ اپوزیشن ہمارے ساتھ مل گئی یا آن بورڈ آ گئی ہے اس بات کو کیسے مانا جائے کہ جب تک اپوزیشن یہ بات نہ مانے دوسری بات یہ ہے کہ اپوزیشن آ رہی ہے تو کس بات پہ آ رہی ہے یعنی وہ کونچ یہ ہے کیونکہ اپوزیشن کا جو بنیادی مسئلہ ہے وہ تو رول آف لاؤ ہے اور عمران خان کی رہی ہے یا عمران خان تک ایکسس ہے تو جب ان میں سے کوئی ایک ایشو تیہ نہیں ہو پا رہا حتیٰ کہ وزیراعال خیبر پختون خواہ نہیں یہ تیہ کر پا رہے تو اس کے بعد یہ اور پھر اس سے پہلے جب بھی ہے کہ پوچھ کے بتاؤں گا تو پوچھ کے بتاؤں گا والی حکومت سے آپ یہ کیسے توقع رکھ سکتے ہیں کہ اس نے میننگفل کوئی یعنی کوئی میننگفل اس نے پروگریس لے لی ہے تو آئی ڈونٹ تین
[00:12:16] Speaker 1: میں اس میں اس بات کو یوں ایڈ کرتا ہوں تین چار ڈبلپنٹس سیملٹینیسلی چل رہی ہیں اور وہ متضاد بھی ہیں اس طرح سے کہ ایک طرف نیشنل حکومت کی بات قومی حکومت کی بات چل رہی ہے اس میں فواد چودری صاحب نے ایک دن کہا دی عمران خان اس پر راضی ہو گئے ہیں پھر اس کے علاوہ تحریک کے تحفظ آئین ہے پاکستان میں لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہاں بات چیت ہوئی ہے بنی ہے اب وہ کیسے بنی ہے جائیں گے اس چیز کے اوپر اور وہ کافی سیٹن اس چیز کے اوپر دوسری طرف جس طرح سے ڈیل کیا جا رہا ہے ایک طرف وعدہ کیا گیا پھر اس کے بعد ملاقات نہ کروائی گئی اور پھر وہی کی مطلب آپ نے ٹائم بائی کیا اور اس کے بعد گیا اوکی ٹا ٹا بائی بائی میرا
[00:12:58] Speaker 2: دیکھئے اس وقت نا اگر آپ پیچھے سے اٹھا کے دیکھیں نا جب سے یہ جب اس سے معاملہ ہوا دوزر بائیس سو آنورڈ تو آپ کو ہر جگہ حکومت کی طرف سے حکومت اور اس کے سرپرستوں کی طرف سے اور اس کے دوستوں کی طرف سے ایک ہی بات نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ یہاں پہ پی ٹی اے کی گلتی تھی
[00:13:18] Speaker 1: ٹھیک ہے
[00:13:19] Speaker 2: مثال کے طور پہ ہم تو حکومت توڑنا چاہتے تھے یہ پی ٹی اے کی عمران خان کی گلتی تھی وہ میے دوزار بائیس میں وہاں پر آ گئے اسلام آباد میں ٹھیک ہے یہ عمران خان کی گلتی تھی کہ انہوں نے نومبر میں جلسانے کے جلوس نکال دیا یہ عمران خان کی گلتی تھی کہ انہوں نے انہوں نے وہاں پہ وزیر آزم جب سوری معاف کی جئے گا یہ عمران خان کی گلتی تھی کہ وزیر آباد میں ان کو گولی لگ گئی یہ عمران یہ پی ٹی اے کی گلتی تھی کہ یہ چھبیس نومبر کو آئے ورنہ تو سارے معاملات تیہ ہو چکے تھے یہ پی ٹی اے کی گلتی تھی کہ عمران خان صاحب کی آنک کا علاج لے ہوا آپ ذرا تصور کریں یہ سارے کی ساری چیزیں آپ کو ایک ہی طرف اشارہ کرتے ہیں
[00:13:58] Speaker 1: تو اس میاد کریں آپ کہ پاکستان کو دفاع ناگزیر ہے اس کے لئے زیادہ فنڈز ہیں یہ پاکستان کا نہیں سوچ رہے اس وقت یہ آنی ہے
[00:14:06] Speaker 2: اب یہ آ جائے گی دیکھئے مسئلہ یہ ہے کہ جب طاقت ایک طرف ہوتی ہے تو طاقت ہمیشہ اپنی دلیل خود ہوتی ہے آپ اگر دیکھئے آپ اگر طاقت ہوا رہے ہیں آپ میری پٹائی کیے چلے جا رہے ہیں میں نے جواباً آپ کو ایک چھٹکی بھی کٹ لینا تو آپ چونکہ طاقت آپ کے پاس ہے تو آپ کہیں گے دیکھا اس نے میرے اوپر ظلم کیے اس نے مجھے چھٹکی کٹی ہے اس سے پہلے جو میمار کھا رہا تھا اس کا کوئی حساب کتاب نہیں ہوگا تو this is how پاکستان کے اندر یہ چل رہا ہے سلسلہ تو اپنی مرضی کے دن سے آپ تاریخ اور جرم کا تیم کر لیں بس وہ یہی تو ہو رہا تھا اچھا اور before moving forward ذہن سے مت مکالیں DC approach
[00:14:45] Speaker 1: آہ ٹھیک دیکھتے ہیں نا وہ DC approach کتنی دیر چلے گی کیونکہ معیشت نہیں چل رہی اس کے وجہ DC approach تاب چلتی ہوتی جب معیشت چل رہی ہو اچھا میں معیشت پہ آتا ہوں معیشت سے جو تبقوات ہیں اس جنگ بندی کے بعد جو پاکستان کو تبقوات ہیں کہ کچھ ڈالر انفلو آئے گا اور وہ 1980s کی طرح 1990s اور 2000s کی طرح ایک دفعہ وہ جو ہے growth وہ 9% پہ چلی جائے گی اور وہ ڈالر ہی ڈالر اس پہ آتاتے ہیں لیکن سوہیل آفریدی اس پہ بڑھنے سے پہلے سوہیل آفریدی وڈی سٹانڈ اس گراؤنڈ کرنا تو پڑے گا
[00:15:16] Speaker 2: پھلال جب انہوں نے بجٹ ہی ایسا پیش کیا ہے تو کرنا تو پڑے گا کرنا پڑے گا اور دیکھیں ایک political بات ہے نا بھئی یا تو یہ سارے معاملہ وزرائے آلہ نے تیہ کیا ہو تو تب تو آپ سوہیل آفریدی کو پر یہ وزن ڈالیں آپ مراد علی شاہ پہ یہ وزن نہیں ہے مریم نواز شیف صاحبہ پہ یہ وزن نہیں ہے آپ سارا وزن سوہیل آفریدی پہ ڈالیں کہ سوہیل آفریدی ڈیسائیڈ کریں اور اس سے پہلے کیا اور ہے کہ ایوان صدر میں میٹنگز ہو رہی ہیں سارے بڑے بیٹھے ہیں ان میں کوئی ایک وزیر آلہ نہیں ہے یا وزیر آلہ نہیں ہے جو بلکل اتنا بڑا پولٹیکل کوئسچن ہے تو آپ نے اس کو آپ نے سوہیل آفریدی کیسے وہ وزن اٹھائیں گے
[00:15:55] Speaker 1: ایران کی حوالے سے آج وہ کہہ لے تھے نا مسعود پزشکان صاحب سے میری بات ہوئی اور ہم نے ان کو پاکستان انبائٹ کیا انہوں نے ہمیں انبائٹ کیا کہ وہاں پہ جو فیونرل ہے آیت اللہ خام خانہ شہید کا وہاں پر آپ تشریف لائیں اینیویز میں اس پوائنٹ پر آ رہا تھا کہ مارکی ٹیکسس سینٹرل ایزیا تھرہو ایران یہ ابھی میں تین چار ہیڈز ہیں جن پر توقعات ہیں یا جن پر تک ہی ہے ان میں سے پہلا یہ ہے کہ مارکی ٹیکسس ایران کے تھرہو ملے گی ایران کے ہم محسن ہیں اور ایران اس بات کو فراموش نہیں کرے گا اور پھر اس کے علاوہ وہ کل بلکہ ذکر وہ رہ گیا محسن نکوی صاحب نے یہ بھی بات کی تھی انہوں نے کہا تھا کہ وہ آخری وقت پہ جب ایک گھنٹہ رہ گیا تسیز فائر ختم ہونے میں تو جو مذاکرات کار ہیں ایران کے اندر ان کو فیل مارشل آسی مونیر صاحب نے فون کیا فون کر کے انہوں نے کہا کہ قیامت کے دن میرے گواہ رہنا کہ میں نے آخری وقت تک ایک بندے کی بھی جان بچانے کی کوشش کی تو اس کے بعد وہ بات کا اثر ہوا اور پھر ایرانی مذاکرات کار جو ہیں وہ فائنل معاہدے کی طرف آگئے سو یہ جو ایکسس ہے ہم اس پہ رہتے ہیں سینٹری لیشن کنٹریز تک ایک تو ویسے مہنگا پڑتا ہے سی روٹ تو نہیں ہے یہاں سے ترک بھی جانے ہو لیکن پھر بھی افغانستان تو بند ہوا ہوا ہے تو ایران سے ایک روٹ نکل آئے اور بزنس چلنا شروع ہو جائے پھر ایرانی تیل اس میں شامل کر لیجئے اگر جیسا کہ وہ چودہ نکات کے اندر ہے کہ ان سے پابندیاں اٹھتی ہیں
[00:17:11] Speaker 2: جو لوگ یہ بات کر رہے ہیں نا نہ انہیں اکانومی کا پتہ نہ انہیں جغرافیہ کا پتہ نہ انہیں ٹریڈ روٹس کا پتہ انہیں کچھ بھی پتہ نہیں ہے بیسیکلی پاکستان میں یہی آپ کہہ رہے ہیں کہ وہ بلوچستان کی وجہ سے ممکن نہیں ہوگا دیکھئے بلوچستان اس میں ایک پہلو ہے ٹھیک ہے نا آپ اس کو صرف نقشہ سامنے بھی رکھ کے دیکھ لیں اچھا آپ کے ساتھ جو تاجکستان ہے تاجکستان میں آپ کو پتہ ہے صرف کوئی میرے خیال ہے کوئی پچیس تیس کلومیٹر کا ایک ٹکڑا ہے جو آپ نے افغارستان کے اندر سے کراس کرنا ہے ٹھیک ہے اب آپ ذرا تصور کریں آپ نے تاجکستان جانا ہے اور تاجکستان جانا ہے پہلے آپ ایران جائیں گے ٹھیک ہے ایران سے پھر آپ اوپر عزبکستان تاجکستان جائیں گے اور وہاں سے گھومتے ہوئے آپ تاجکستان آئے گے سبحان اللہ تاجکستان نہیں آنا وہ ساری مارکٹ چلی دی ہے بھائی ساری مارکٹ ساری مارکٹ دیکھیں میں آپ کو وہی تو عرض کر رہا ہوں نا انہیں پتہ ہی نہیں ہے انہیں بالکل کچھ پتہ نہیں ہے دیکھیں یہ جو معاملات ہیں نا یہ جو ٹریڈ روٹس ہوتے ہیں یہ صدیوں میں بنتے ہیں ایک دن میں نہیں بنتا ٹھیک ہے نا جو ٹریڈ روٹس ہیں وہ اسٹیبلشٹ ہیں جو صدیوں کے بنے ہوئے جو صدیوں کے بنے ہوئے ٹھیک ہے انہیں بند کر کے لے اچھا پشاور کابل سمرقان پشاور کابل بخارہ ٹھیک ہے یہ آپ یہ آپ کا راستہ ہے اچھا آپ کہہ رہے ہیں کہ میں نہیں ایسا نہیں کروں گا میں کروں گا کہ لہور کوئٹہ تافتان تہران اور اس کے بعد نہ کسی طرف نکلوں گا سبحان اللہ سبحان اللہ مجھے دوسری بات یہ ہے دوسری بات یہ ہے کہ وہ جو لوگ بیٹھے ہوں وہاں پہ ان کا کیا مسئلہ ہے کراچی ان کی ہنٹر لینڈ ہے کراچی معاف کیجئے کہ کراچی کی ہنٹر لینڈ جو ہے سارا یہ جو ایسیا ہے سنٹرل ایسیا ہے اب جب اب آپ ذرا تصور کی دیئے کہ اگر چاہ بہار کھل جاتی ایران کے اوپر سے پابندیاں ہٹ جاتی ٹھیک ہے تو وہ تو چاہ باہر کھل گئی ان کے لیے ہاں جی بلکل تو انہیں کراچی کی کیا ضرورت رہے گی تو پھر جو ایران کے قریب ترین ملک ہیں ٹھیک ہے وہ آپ نقشہ اٹھا کے دیکھ لیا آپ کو پتہ چل لے گا تو وہ تو کہیں گے کیا ٹھیک ہے ہمارا تو مسئلہ حل ہو گیا ہمیں ایک پورٹ مل رہی
[00:19:21] Speaker 1: اچھا دوسری مارکٹ ایکسس میں اس پہ آ جاتا ہوں یہ ہوگی سینٹرل ایشیا کی دوسری مارکٹ جس پہ کیونکہ اورنگ زیب صاحب نے بڑا تفصیلی انٹریو دیا ہے سو وہ بتاتا ہے کہ اس وقت فیصلہ ساز اپٹمسٹ کیوں ہیں اس معاہدے کے بعد فانانشلی نہیں ہونا بھی چاہیے نہ چلیں ٹھیک ہے ہم اس کو ایک تو یہ ہے کہ جھوٹے خواب نہیں دکھانے چاہیے اور غلط منصوبہ بندی نہیں کرتی چاہیے امریکہ میں آپ کو کیا کچھ
[00:19:46] Speaker 2: وہی والا سادہ تحسن خیالی والا جو انہوں نے انایت اللہ مشرق کو کہا تھا میں کہا فلسطین جانا میں کہا ویڈیو روڑ ہو جانا مطلب آپ اس طرح کی باتیں کریں گے تو لوگ آپ کا مزاق اڑائیں گے ایک تو جھوٹے خواب بلکل نہیں دکھانے چاہیے اور یہ جو یہ جو سنٹرل ایشیا تک کراستہ ہے توقعات ہیں بھائی توقعات ہیں تو رکھ لیں توقعات تو اس بات کی بھی کل قیامت آ جائے گے یہ کیا ہے مطلب کوئی اس طرح یہ ملکوں کی منصوبہ بندی ایسے چلتی
[00:20:15] Speaker 1: اچھا ڈیٹ ری سکیجولنگ آپ کو پہتر ٹرمز پر ہونا شروع ہو جائے اس کے بعد اچھا ڈالر ان فلو کی توقع ہے
[00:20:22] Speaker 2: نہیں مجھے تو نہیں کیوں اس کے وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں جب جب ڈالر آئے ہیں پاکستان ایک فوجی حلیف کے طور پر کام کرتا ہے سیاسی حلیف کے طور پر نہیں تو جب جب ڈالر آئے ہیں اس وقت ہم نے فوجی حلیف تھے مثال کے طور پر جنرل ایوب خان کے دور میں ڈالر آئے ہم ان کے فوجی حلیف تھے بڑا بیر کا جو اڈا تھا وہ ہم نے انہیں دے رکھا اچھا اس کے بعد ڈالر جو بڑی مقدار میں ڈالر آئے جنرل زیال حق کے دور میں آئے ہم ان کے اسکری حلیف تھے فرنٹ لائن ریاست تھے اس کے بعد جنرل پرویز مشرف کے دور میں آئے ہم فرنٹ لائن ریاست تھے تو جب تک ہم اسکری حلیف کے درجے پر نہیں پہنچے گئے اس وقت تک اور اس طرح کی آپ کے خالب کوئی ضرورت نہیں ہے
[00:21:04] Speaker 1: دائش کے خلاف نہیں ہو سکتی ہے افغانستان میں
[00:21:06] Speaker 2: نہیں مجھے ابھی تو نہیں اب بظاہت تو نہیں رکھتا ہے آچھا ہاں مجھے ابھی نہیں رکھتا ہے اس کے بجائے یہ ہے کہ افغانستان میں جو صورتحل اس وقت پیدا ہو چکی ہے وہاں پہ کئی فریق کھیلیں گے جو ہمارے دوست بھی ہیں اور ہمارے دشمن بھی ہیں
[00:21:18] Speaker 1: افغانستان بھی آج آچھا وہ کلیم کر رہے تھے کہ ہم نے یہاں پہ دائش کو نشانہ بنایا ہاں لیکن وہ تو غیر ہو سہی ہے تو پھر سر مطلب ہزاروں سال نرگس نے رولی ہے وہ ابھی بھی روئے گی ابھی بھی روئے گی
[00:21:32] Speaker 2: نرگس کو رونے دیں تھوڑا سو روتی رہ گی سر یہ بتائیں کہ یہ جو سی پیک پیکج جو دیدہ وار پیدا ہو رہے ہیں اب دردت دیکھیں نا اس کے وہ بیچاری روتی رہ گی نا وہ جس طرح کا یہ دیدہ وار پیدا ہو رہے ہیں جو ایران سے راستے نکال رہے ہیں سینٹرل ایشیا کے تو اس کا مطلب ہے کہ اس بیچاری کے قسمت میں رونے لکھا ہوا نرگس ہے
[00:21:51] Speaker 1: اللہ رہاں کرے یہ سی پیک کا جو پیکج ہے یہ ستر بلین تک پہنچ گیا اس نے بھی قسمت چینج کرنی تھی یہ گیم چینجر تھا سب معاملہ گیم چینجر میں ہوا یہ ہے اسی بجٹ کے دوران جی آمر بھاشا اور داسو ہم نے ایک کے لیے داسرب رکھ لیا دوسری کے لیے داسرب رکھ لیا اور وہ کیری فارورڈ ہو گئے آگے ایک نے بنیا دوزار پچاس میں دوسرے نے بنیا دوزار ساٹھ میں اور اس کے علاوہ جو ہمارا پار سیکٹر ہے وہ جو بلیڈ کر رہا ہے اور جو آپ کو کیا لگ رہا ہے
[00:22:20] Speaker 2: کہ ایران اور امریکہ نے جنگ لڑی ہے ایران اور امریکہ میں صلح میں آپ کا بہت بڑا کردار ہے ٹھیک پاکستان کا لیکن اس کا کیا مطلب ہے اس سے اگلا مطلب آپ کیوں اخص کر رہے ہیں کہ جناب اس کے نتیجے میں آپ سمجھ رہے ہیں کہ ہم نے صلح کرائی ہے تو اس کے نتیجے میں ڈالر بڑسٹنہ شروع ہو جائیں گے ایسا نہیں ہوتا کلٹیکل منرلز والا معاملہ بھی تو ہے وہ کہاں سے بھائی دیکھئے اکبر کریٹیکل منرلز آپ لے لیں آپ ریکوڈک لے لیں آپ اس طرح کا کوئی بھی کرپٹو لے لیں آپ یہ ٹریڈ روٹس نیل لے لیں آپ اگر آج شروع کریں گے تو آپ کو اس کو نظر آنے میں کم سے کم چار سال لگیں گے اس طرف جا کے کہ آپ نے واقعی اس طرف
[00:23:05] Speaker 1: کوئی قدم اٹھایا ہے آپ کو چار سال لگیں گے ہمارے ایک دوست کہتے ہیں نام نہیں لیتا وہ کہتے ہیں کہ مشہور آدمی ہے بڑا ان کا تجزیہ سنا جاتا ہے وہ کہتے ہیں کہ قوموں کی زندگی میں اٹھتر سال بھی کچھ نہیں ہوتے سبحان اللہ
[00:23:17] Speaker 2: آپ چار سال کی بات دیکھیں ہماری زندگی میں میں اس فکرے کو تاریخ کا برہم ترین فکرہ سمجھتا ہوں یہ وہ فکرہ ہے جو ہمیشہ حکمرانوں نے عوام کے خلاف استعمال کیا ہے یعنی آپ میری زندگی برباد کر دیں میرے بچوں کی زندگی برباد کر دیں میرے بڑوں کی زندگی برباد ہو چکی اور آپ نے کہا کہ قوموں کی زندگی میں تو کوئی فرق نہیں پڑھتا لیکن برباد کون ہوا میں حاصل زندگی تو آخرت کی ہے اور لیکن حکمران جو ہیں وہ بہترین زندگی گزار رہے ہیں وہ گزار رہے ہیں تو ان کے لیے ان کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہے یہ سی پیٹ پیٹ پیٹ پیٹ پر آگے بڑھتا ہوں نہیں آپ درہا تصور کیجئے
[00:23:51] Speaker 1: یہ ستر بلین ڈالرز پر یہ پیکج پہنچ چکا ہے
[00:23:54] Speaker 2: آپ درہا تصور کیجئے آپ درہا قول و فیل کا تضاد ملازع فرمائیے نا ہمارے وزیراعظم جناب شہباز شریف یہ فرماتے نہیں تھے میں کپڑے بیچتا ہوں آج کی تقریر میں ان کے کپڑے ملازع فرمائے آپ نہیں وہ روز ہی ٹھیک ہے نا آپ نے ان کے کپڑے ملازع فرمائے مطلب آپ ذرا دیکھیں آپ کے دل آپ کا دل درد سے بھر آیا ہے آپ کے آنسو امڑ رہے ہیں مہنگائی کو دیکھ کے اور آپ look at your dress اچھا اس کے against اس کے against میں آپ کو ایک واقعہ بتا دوں چھوٹا سا امران خان صاحب ایک دن گھر سے باہر نکل لگے ابھی وزیراعظم نہیں گئے انہوں نے جب باہر نکلے تو شفقت محمود صاحب نے اور جانگیر خان ترین صاحب نے دیکھا کہ خان صاحب باہر نکل رہے ہیں تو انہیں کہا کہ آپ فریسی نکل رہے ہیں شلوار کمیز میں تو انہوں نے کہا ہاں اس میں کیا خرابی ہے انہوں نے کہا اس شلوار کمیز میں نکلنا کوئی خرابی نہیں ہے آپ ایک ویسٹ کوٹ پہن لیں انہوں نے کہا اچھا یار ایک ویسٹ کوٹ لانا وہ کیوں مگوائے ویسٹ کوٹ اس کی وجہ یہ کہ پیچھے سے کمیز پھٹی ہوئی تھی اس کے بعد جو ویسٹ کوٹ آئی وہ بھی اتنی فارغ تھی کہ فوری طور پر بزار سے ایک ویسٹ کوٹ مگوائے گی ایک بندے کو بھیجا گیا کہ تم ہم سے پہلے جا کے ایک ویسٹ کوٹ کرید لو تاکہ خان صاحب کو ہم جہاں جا رہے ہیں وہاں پہنا دیں اس کے بعد جو نئے کپڑے خان صاحب کے ایک دوست نے پھر کہا آرڈر دیا کہ جناب وہ چار پن سوٹ آگے بھائی یہاں پہ دے جا اور وہ پھر جو رنگ وہ پہن دے دیں اچھا اب مسئلہ یہ ہے کہ جب ایک طرف یہ معاملہ ہے اور ایک طرف آپ ذرا لباس کے اعتبار سے یہ معاملہ دیکھیں لیکن دعویٰ ان کا ہے کپڑے بیچنے کا
[00:25:47] Speaker 1: آہ نہیں ٹھیک بات ہے دعویٰ ان کا ہے پیٹ پھارنے کا بھی ان کا تھا سڑکوں پہ کسی نے کا بھیل گئی تھا وہ ویسے جس جو ان کی جو کلر چوائس ہے نا اس کو اس کو کہتے ہیں میٹرو سیکشول ہاں ہاں ہاں غلط چٹا نہیں ہے بارل اس کو میٹرو سیکشول کہتے ہیں وہ بڑی ایک عجیب یونیک سی چوائس ہے آپ کیوں اور اچھے کپڑے پہننے میں اچھے کپڑے پہننے ہیں کوئی مزائقہ نہیں ہے
[00:26:06] Speaker 2: اچھے کپڑے پہننے میں بالکل کوئی مزائقہ نہیں ہے لیکن اثراف بہرحل نہیں ہونا چاہیے اور پاکستان جیسے ملک کے سربراہ پھر ایسی باتیں بھی نہیں ہونی چاہیے
[00:26:16] Speaker 1: کہ وہ ایک روپیا پیٹرول بڑا وہ اٹھے کے پچھلے کمرے میں چلے گئے اچھا آج بیسے وہ اعلان ہوا ہے چوتر روپے پیٹرل اور لیزل اچھی بات ہے ٹری انڈرڈ کا فگر وہ ٹو نائنٹی نائن پنٹ سامتنگ پہ لچی نہیں بیسے بات یہ ہے کہ لیوی برقرار رہے گی جی لیوی برقرار رہے گی کل بلاول بھوٹو بھی نیشنل اسمبلی میں جو تقریر کر رہے تھے اس میں انہوں نے لیوی کی بات کی کہ ہم نے اس وقت لگائی تھی جب دو ہزار دس میں وہ سہلاب تھے اور اس کی وجہ سے ہم نے وہ ریہبلیٹیشن کیلئے ضرورت تھی اس کے بعد سے کسی گورنمنٹ نے چھوڑا ہی بنیادی طور پر ہی نہیں کہا جکر کر رہے تھے اور کھڑے بھی ٹریری بینچز پر ہوئے اچھے لیوی اسی طرح سے برقرار رہے نہیں ہے چالیں خیر رہے ہیں اب کیا اس میں ہو سکتے ہیں افغانستان کی کچھ صورتیات سے دسکاس کرنی ہے افغان آزاد کشمیر میں دھرنا جاری ہے رابلا کوٹ میں لوگ ابھی بھی باہ بیٹھے میں ہیں اصل چیز جو ہے وہ ایک لمبی لائنیں لگی ہوئے ہیں جو ریپورٹ ہوا ہے ان ٹرکس کی جو ٹرانسپورٹ کر رہے ہیں اشیاء خور و نوش کشمیر کی طرف دو موقع سامنے آ رہے ہیں ایک معاملہ یہ ہے کہ ان کو کئی زیادہ ریپورٹ یہ بھی ہوا ہے کہ ان کو لوٹا بھی گیا ہے اچھا لوٹا کیوں گیا ہے کیونکہ ادھر ایک قلت پیدا ہو گئی ہے اوورال آگے ایک طرف اور پھر اس کے علاوہ بات یہ ہے کہ جو ٹرانسپورٹ اسوسییشن والے ہیں جو ریپورٹ ہوا ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب انتظامیہ اجازت نہیں دے رہی جانے کی تین روز پہلے جو ایک عام سیکیورٹی بریفنگ تھی اس میں یہ سوال ہوا کہ باہر ٹرک کھڑے میں ہے تو وہاں پہ سینئر سیکیورٹی افیشل نے کہا کہ جن کا کروڑوں کا سامان لدھا گئے وہ پاگل تو نہیں کہ وہ در اندر چلے جائے اور اپنا سامان پر بات کروا لیں دیکھیں کیونکہ ان کا تو کوئی پتہ نہیں ہے لیکن اس سب صورتحال کے اندر جو سفر کر رہا ہے وہ کشمیری کر رہا ہے آزاد کشمیری اکبر
[00:27:53] Speaker 2: سب سے پہلے تو ٹرکوں کو اندر نہ جانے دینا ٹرکوں کی لائنیں لگی ہوئی ہیں تو ظاہر ہے نہیں ظاہر ہے وہ کوئی اندر تو نہیں روک سکتا عام آدمی تو نہیں روک سکتا وہ انتظامی ہی روک سکتی کوئی عورت تو نہیں روک سکتا
[00:28:08] Speaker 1: میں آپ سے کیا عرض کر رہا ہوں میں آپ سے یہ عرض کر رہا ہوں نہیں نہیں سنے نا آپ نے سنی نہیں ہے بات مجھے لگتا ہے وہ سینئر موز سیکیورٹی افیشل کہہ رہے ہیں کہ وہ جو باہر کھڑے میں ہیں وہ اپنے خوف کی وجہ سے کھڑے میں ہیں کیونکہ سامنے بلوائی ہیں اچھا اس کا بہترین طریقہ ہے
[00:28:20] Speaker 2: کہ ان کو واپس اٹھا دیں کن کو ان ٹرکس کو کہیں آپ واپس سلے جائیں یہ ٹرک اگر جانے سے یہ ٹرک جانے سے ڈر رہے ہیں یا انہیں روکا گیا ہے پولیس نے روکا ہے ہر دو صورتوں میں ایک بات تو واضح ہوتی ہے کہ آزاد جمعو کشمیر میں حالات معمول پہ نہیں درست ٹھیک بات ٹھیک ہے نا ایک ہی بات واضح ہو رہی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ وہاں پر آزاد آنا نقل و حرکت بھی نہیں ہو پا رہی جس کی وجہ سے بھی نہیں ہو پا رہی جس کی وجہ سے بھی نہیں ہو پا رہی اچھا ریاست کا کام ہے نا بنیادی سیکیورٹی دینا تو یہ کسی اور کا کام تو نہیں میرا تو نہیں ہے آپ کا بھی نہیں ہے تو جب آپ کسی ایک سڑک کو چلیے آپ کوحالہ سے جاتی ہے جو سڑک مظفرہ بات تک کی سڑک ٹھیک کر لیں نا وہاں تک جا رہے ہوں اس کا مطلب ہے حالات اتنے خراب ہیں کہ مظفرہ بات تک بھی نہیں پہنچا جا سکتا
[00:29:12] Speaker 1: یہ جو لائنز لگی ہوئی نا یہ جو کہوٹا کے راستے جو کوٹلی جانے والی جانا ہے یہ وہاں پہ ہے اچھا اس کا مطلب ہے کوٹلی بھی نہیں جایا جا سکتا نہیں نا وہی تو بتا رہا ہوں یہ چیزیں یہ بھی ریپورٹ ہوا ہے کہ کئیوں سے اب یہ پتہ نہیں کس نے لیا لیکن کئیوں سے کچھ وصول کی ہے پیسے لیے اور پھر تم نگل جاؤ یہ بھی ہوا ہے اب وہ تو پھر دیکھئے
[00:29:32] Speaker 2: جب حالات مارول کے مطابق نہیں ہوں گے اور کنٹرولز ویک پڑ چکے ہوں گے جو جیسا کہ اس کیس میں نظر آ رہا ہے تو آبویسلی یہ ہوگا تو اس وقت بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان کے ساتھ بات چیت کی جائیں سنبھالے جائیں ایشیوز کو
[00:29:49] Speaker 1: وہ تو نہیں ہو رہا اچھا اس کے علاوہ وہ چل رہا ہے قومی اسمبلی سے وہ بل پاس ہو گیا وہ ٹیلکوز والا اور پھر وہ تو سینٹ میں آیا تو وہاں پہ انہوں نے آ کے پڑھا مطلب قومی اسمبلی میں پڑھا کسی نے نہیں اور وہاں سے پاس ہو گیا سینٹ میں آ کے پتا چلا کہ آپ کئی پہ بھی کوئی کھمبہ لگا سکتی کوئی ٹیلکو اور پھر وہ آپ کی ذاتی پروپرٹی ہے تو سرکار آپ کو جرمانہ بھی کرے گی کہ اگر آپ نے اس میں گورخنا ڈالنے کی کوشش کی وہ شیزا فاطمہ خاجہ جو ہے جو کہ منسٹر ہے وہ کل ایک ٹی وی پروگرام میں ان سے جب انٹریو ہوا اور شازیب خانزادہ کے پروگرام میں تو وہ شازیب خانزادہ صاحب نے ان سے جب پوچھا کہ یہ کیسے یہ تو بڑے بندے کی پرائیویٹ پروپرٹی پر ایک ٹیلی کمیونکیشن کمپنی یعنی دیکھت اسے پرائیویٹ انٹی کو یس کسی بھی قسم کا اپنا انفرسٹرکچر لگانا چاہتی ہے اور اگر وہ اس میں کسی قسم کی رکاوٹ کر رہا ہے تو اس کو جرمانہ بھی ہو اور اس کی جو ہے پروپرٹی وہ بھی ان کی مرضی جہاں مرضی وہ لگا دیں تو یہ کس قسم کی بات ہے تو وہ وزیر صاحب آگے سے کہہ لگی ہاں بات تو آپ کی ٹھیک ہے تحصر اس سے یہ بنتا ہے کہ ان کو خود نہیں پتا اکبر
[00:30:44] Speaker 2: میں بار بار ارز کرتا ہوں اور اب تو تقرار سے ارز کرتا ہوں کہ جب بھی اس طرح کی حکومتیں بنتی ہیں جس طرح کے بنائی گئی ہیں اس کا ایک منطقی نتیجہ ہوتا ہے اور کم از کم نتیجہ ہوتا ہے اور پہلا ہوتا ہے
[00:30:58] Speaker 1: کیا ہے
[00:30:59] Speaker 2: وہ ہے کارٹلائزیشن آپ قوانین قوائد زابطے ان کو اس طرح توڑتے مرودتے ہیں کہ آپ ایک ایک بڑا کارٹل بن جاتا ہے ٹھیک ہے اچھا یہ جو ٹیلیکوم کمپنیز ہیں اب آپ ذرا تصور کیجئے ٹیلیکوم کمپنیز کو ریگولیٹ کون کرتا ہے پی ٹی اے ہاں جی اچھا پی ٹی اے نے کیا اس بل میں اپنی انپوٹ دی ہے اب آپ ذرا پتہ کرنے کی کوشش کریں آپ کو پتہ نہیں چلے گا ٹھیک ہے آپ یہ بل آخر یہ جو بل بنا تھا گورمنٹس کے ڈرافٹسمن ہوتے ہیں جی جی وہاں پر اتنے نالائک لوگ بیٹھے ہیں انہوں نے پڑھ کے نہیں بتایا نہیں بہت دو چیزیں ہوں سکتے ہیں اچھا پھر وزارت قانون بھی ہے نا
[00:31:41] Speaker 1: ہاں بالکل ہے
[00:31:42] Speaker 2: وزارت قانون میں قانوندان بیٹھے ہوئے نا یہ سب پاس کر کے آیا نا اچھا یہ سب پاس کر کے ہے نا اس کا مطلب کیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ قانون بنوانے والے اسمبلی سے بھی تکڑیں
[00:31:53] Speaker 1: دیکھا نا ٹیلکوز ہاں ٹھیک ہے اچھا آپ یوں تو نہیں ہے میرے ذن میں ایک اور اس کی وہ آتی ہے یوں تو نہیں ہے کہ ٹیلکوز نے یہ ڈیمانڈ رکھی ہو بڑے سسٹم کے سامنے کہ ہمیں اس طرح کی پریشانیوں کا سامنے ہیں اس کا کوئی حل کیا جی ہے تو دیر فور ہم چونکہ اتنے ڈیسپریٹ ہیں فورن انویسٹمنٹ کے لیے ٹیلکوز نے کہا ہمیں اتنے ملین لے کے آ رہے ہیں تو بھائی جان یہ قانون آپ آس کے بعد
[00:32:14] Speaker 2: اب پتہ نہیں کیا ہے اب دوسری بات یہ ہے کہ پی ٹی اے موجود ہے اب پی ٹی اے پہ آپ بات نہیں کر سکتے زیادہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے سربراہ کی وجہ سے ان کے سربراہ ایسے ہیں کہ سیدھے سیدھے اشارے کسی اور طرف چلے جاتے ہیں حالانکہ بالکل ایسے کوئی میری غرض نہیں لیکن پی ٹی اے سے کوئی پوچھے آپ ذرا مجھے یہ بتائیں کہ اکبر صاحب پی ٹی اے سے آپ ذرا اکبر صاحب مجھے یہ بتائیں کہ آپ کے پاس موبائل فون ہے یہ میرے پاس بھی ہے آپ مجھے کال کتنی دیر آپ بل بھر رہے ہیں ایک کمپنی کو آپ پیسے دے رہے ہیں ایک کو میں دے رہا ہوں آپ سر باہر جائیں فون کریں کسی کو میں آپ کو کروں گا اچھا کبھی میں ایسے ہو رہا ہوں گا کبھی ایسے ہو رہا ہوں گا کبھی ایسے ہو رہا ہوں گا کبھی دوسرے کان میں لگایا جائے گا آگے سے اب مخاطب کہے گا کہ آواز نہیں آ رہی اچھا آواز کٹ گئی ہے یہی ہے ٹھیک ہے نا یہی ہو رہا ہے نا اچھا پیسے پورے لے رہے ہیں دلکل لے رہے ہیں اچھا انٹرنیٹ سرویسز ٹکے کی سرویسز نہیں انٹرنیٹ سرویسز سر 24 گھنٹرنیٹ بند ہے ایک کمپنی مطلب میرا ذاتی تجربہ کئی دفعہ کئی دفعہ ایسا ہو چکا چار دن انٹرنیٹ بند ہے
[00:33:17] Speaker 1: میں نے اس کمپنی والوں سے ایک دن پوچھا کون بندہ ہے پاکستان میں میں اس بندے سے ملنا چاہتا ہوں جو یہ کہے چھوڑیں اس بات کو کہ آپ کسی ریموٹ ایریا میں آپ ایک بڑے میٹروپولٹن سٹی میں موجود ہیں اور آپ کو ایک منٹ کے بعد اگر ڈسٹورشن نہ محسوس ہو نہیں شروع ہو جائے یا آپ کو دن میں آپ نے جتنی آن ایفریج میرا خالق دس بارہ بندہ کالنگ کرتا دس بارہ کالوں میں سے تین چار تو ایسی ہوں گی کہ جو پیچھ میں کال فیڈ لکھ کے بند ہو جائے یہ سروس ہے یہ سروس ہے
[00:33:41] Speaker 2: اچھا آپ ذرا اس کے بار عقص میرا ریسنٹ ایکسپیرینس میں گیا بنگلہ دیش اب پاکستان کا ایکسپیرینس پاکستان عادت پڑ جاتی ہے نا اچھا وہاں بھی گیا ہوں تو میں نے فون پہ بات کی لوگوں سے اچھا پر مجھے احساس ہو رہا ہے کہ یہ تو بالکل جیسے میں لینڈ لائن پہ کسی زبانے میں بات ہوتی تھی صاف ستری اچھا بچ تو بالکل ٹھیک آواز ہے کسی دور میں یہاں پہ بچھیک تھی پھر کیا ہوا انٹرنیٹ پورے ڈھاکہ میں کومیلا میں ایک جگہ بھی انٹرنیٹ نہیں بند ہوا سر میں پورا شہر پھرتا رہا ہوں غریب ترین علاقوں میں بھی اور پوشت ترین علاقوں میں بھی وہاں پہ تو کبھی مجھے اس طرح کا معاملہ نہیں دیکھنے میں آیا اچھا میں سوچتا رہا مجھے اب لگ رہا ہے
[00:34:23] Speaker 1: کہ یہ جو ہم اس کی بات کر رہے ہیں کالز میں کہ یہی اس کے پیچھے نہ ہو کہ ہم نے اپنی مرضی کی جگہ پہ دعور لگانے اس سے ہم سرورس ٹی کرتے ہیں
[00:34:33] Speaker 2: اچھا ہم مسئلہ کے لیکن there is something else نہیں there is something else اچھا اس کے بعد آپ ایک فریق کو اب آپ ذرا اسمبلی کی طرف آ جائیں جس اسمبلی آپ کے خیال میں اسمبلی نے 26 میں اینی ترمیم تفصیل سے پڑی تھی کسی نہیں پڑی تھی اور یہ بات آن ریکارڈ ہے اسمبلی کا ایک ممبر کہہ رہا ہے کالا لفافہ سیاہ الفاظ اس کے اندر سیاہ ناغ قومی اسمبلی کے ممبر کا نام بتا دو مولانا فضل رہا ہے اچھا باقی کیا ترمیم باقی انہوں نے بات کی
[00:35:07] Speaker 1: انہوں نے کہا یہ ایک ڈرافٹ ان سے شیئر کیا وہ ایک میرے سے شیئر کیا وہ اصل کون سا وہ پتا نہیں تھا بیچ میں اچھا پھر
[00:35:12] Speaker 2: اب آپ آ گیا ستائیسویں ترمیم وہ کیسے ہوئی ٹھیک ہے جب آپ نے جب جس اسمبلی سے آپ چھبیسویں اور ستائیسویں ترمیم کروالے تو یہ تو شکر کریں یہ تو آپ اکبر باجوہ صاحب اس بات پہ اللہ کا شکر ادا کریں کہ کہیں اس کی کوئی ریزسٹنس آگئی ہے ورنہ یہ بل ایز ایٹس سینٹ سے بھی پاس ہو جانا تھا
[00:35:35] Speaker 1: ہو جانا تھا پھر اس کے بعد پیٹتے رہتے اس کے بعد نہیں
[00:35:38] Speaker 2: اس کے بعد پیٹتے رہتے اس کے بعد آپ کی اور جب آپ جب بھی آپ کریں گے جب بھی آپ اس طرح کی حکومتیں بنائیں گے اس کے اندر کارٹلائزیشن ہوگی اور میں آپ کو اس کارٹلائزیشن کی کم از کم چار مثالیں پیش کر سکتا ہوں لیکن مجھے در بہت لگتا
[00:35:57] Speaker 1: چلے میں آپ سے ویسے پوچھتا ہوں اس پروگرام ختم کرنے آف ترکارڈ کل ملتے ہیں اللہ آپ